تیری نظر پہ چھوڑا ہے فیصلہ 191

جوڑ توڑ کا بادشاہ۔۔۔زرداری

سینٹ کے انتخابات خفیہ ووٹنگ سے کروانے سے متعلق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار کی سربراہی میں منعقدہ بنچ نے اپنے فیصلے کا اعلان کرکے تمام تجسس کا خاتمہ کردیا ہے۔ دونوں فریق اس فیصلے کو اپنی اپنی فتح قرار دے رہے ہیں۔ حکومت بھی خوش ہے اور پی ڈی ایم بھی بغلیں بجا رہی ہے۔
فیصلہ میں تمام معاملات کو الیکشن کمیشن کے حوالے کرکے اختیارات کے استحصال کے لئے رہنمائی کے اصول بیان کردیئے گئے ہیں۔ سینٹ کے انتخابات میں کامیابی کے دعویٰ بھی دونوں جانب سے کئے جارہے ہیں۔ آصف زرداری جن کو جوڑ توڑ کا بادشاہ سمجھا جاتا ہے ان کے ساتھ مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان بھی اسلام آباد میں موجود ہیں۔ دوسری طرف عمران خان نے بھی پارلیمنٹ میں اپنا ڈیرہ جما لیا ہے۔
دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی
جب تک یہ سطور سب کے سامنے ہوں گی اس وقت تک بلی تھیلے سے باہر ہو گی تو نتیجہ بھی سب کے سامنے آچکا ہوگا۔
کامیابی کا دعویٰ کوئی بھی فریق کرے لیکن اصل کامیابی کا ہار آصف علی زرداری کے گلے میں بالآخر ڈالا جائے گا۔
سینٹ کے انتخاب میں پی ڈی ایم جیتے یا حکومت فتح مند ہو، جیت آصف علی زرداری کی ہو گی کیونکہ ماضی میں بھی اس طرح کے موقعوں پر کامیابی آصف علی زرداری کا مقدر بنی ہے اور ان کو تمام مقاصد میں کامیابی حاصل ہوئی ہے جس کے لئے انہوں نے منصوبہ بندی بڑے موثر انداز میں کی۔ ان کے موجودہ منصوبہ میں بھی سینٹ میں پی ڈی ایم کی کامیابی یا ناکامی کے باوجود آصف زرداری کے مقاصد میں ان کو کامیابی حاصل ہوگی جیسا کہ ماضی میں آصف زرداری نے اپنے دیرینہ مخالفین کو اپنے راستہ سے ہٹا کر زمام سیاست پر اپنی گرفت مضبوط سے مضبوط کرتے چلے گئے تھے۔
صدر پرویز مشرف کی صدارت کے آخری دور میں ان کی اپنی جماعت قاف لیگ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی اس کا سہرا بھی آصف زرداری کے سر باندھا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے نواز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے پر آمادہ کیا کہ وہ کم از کم پنجاب میں تو حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوں گے اور وہ خود بھی سندھ کے ساتھ ساتھ مرکز میں پیپلزپارٹی کو حکومت بنانے میں کامیابی حاصل کرکے اپنی فتح کے سلسلہ کا آغاز کرسکیں گے انہوں نے یہ کامیابی بھی اس ہی طرح نواز شریف کے ساتھ مل کر حاصل کی تھی اور مشرف کو اپنے راستے سے ہٹا دینے میں کامیاب ہوئے تھے جیسے کہ اب وہ عمران خان کے خلاف پی ڈی ایم میں نواز لیگ کو استعمال کرکے عمران خان کو اپنے راستے سے ہٹانے میں کامیابی کے مراحل با آسانی طے کرتے چلے جارہے ہیں جیسا کہ صدر مشرف آئینی طور پر صدر کے عہدے پر مزید ایک طویل عرصے تک قائم رہ سکتے تھے جس طرح عمران خان بھی آئینی طور پر اکثریت رکھنے کی وجہ سے اب بھی تقریباً ڈھائی سال تک وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں۔ آصف زرداری نے مشرف کے خلاف نواز لیگ اور دوسری جماعتوں سے مل کر ایسی تحریک چلائی کہ صدر مشرف اپنے آئینی عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد ایوان صدر سے گارڈ آف آنر لے کر رخصت ہونے پر مجبور ہو گئے اس طرح ایک طرف آصف زرداری ان کی جگہ پر صدر کے عہدے پر براجمان ہو گئے اور تمام اختیارات کو 58B سمیت اپنی ذات میں مرکوز کرنے میں کامیاب بھی ہو گئے۔ شروع میں تو نواز لیگ کو بھی یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمی میں شریک اقتدار کیا اور سندھ میں اپنی مضبوط حکومت قائم کرکے ایم کیو ایم کی قوت کو لگام دینے میں کامیابی بھی حاصل کی اسی طرح اب تک سندھ میں بلاشرکت غیرے اپنی حکمرانی 13 سال سے زائد عرصہ میں قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے ولی عہد بلاول بھٹو زرداری کو متبادل وزیر اعظم کے طور پر پیش کرنے کے مقاصد میں کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔
اب وہ اس ہی طریقہ سے عمران خان کو ہٹا کر بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنانے میں کامیابی کے قریب پہنچ چکے ہیں جس طرح انہوں نے نواز لیگ کو استعمال کرکے صدر مشرف کو مستعفی ہونے پر مجبور کرکے خود منصب صدارت حاصل کی اور یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم بنوا دیا۔ اس طرح سندھ میں پیپلزپارٹی کی طویل ترین حکومت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی اور آئندہ کے لئے بھی کامیابی یقینی بنائی۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ تیرا چودہ سال کی طرح سندھ میں اپنی حکومت کے دور اقتدار میں طوالت کی تحریک چلا رہے ہیں اور دوسری طرف بلاول بھٹو کو عمران خان کا متبادل بنا کر سامنے لانے میں کامیابی کے مراحل طے کررہے ہیں۔
پی ڈی ایم میں ایک طرف انہوں نے پیپلزپارٹی کا رول اس طرح ترتیب دیا کہ وہ مریم نواز کی مجبوری بن کر سامنے آئی۔ دوسری طرف انہوں نے جی ایچ کیو سے بھی اپنی اہمیت منوائی، تیسری طرف ایم کیو ایم کو سندھ میں دیوار سے لگانے میں کامیابی حاصل کی۔
سندھ کی تاریخ میں آصف زرداری نے جس مہارت سے سندھ کارڈ کھیل کر کامیابی حاصل کی اس حد تک تو بھٹو خاندان بھی نہیں پہنچ سکا، آصف زرداری نے اپنا سندھ کارڈ بڑی مہارت سے کھیلا اور سندھ پر اپنی حکمرانی کو مضبوط سے مضبوط بنانے میں کامیاب رہے۔ دوسری طرف مرکز میں جی ایچ کیو سے بھی بڑی مہارت سے اپنے معاملات طے کرتے رہے اور اپنے ساتھی سیاستدانوں پر فوقیت حاصل کرتے رہے جیسا کہ اب پوری پی ڈی ایم کی تحریک سے مریم نواز یا مولانا فضل الرحمان سے زیادہ سراسر فوائد آصف زرداری اٹھا رہے ہیں۔ استعمال ہو رہے ہیں مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان اور کامیابی آصف زرداری کے قدم چوم رہی ہے۔ یاد رہے کہ اب جو مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ جو قربتیں قائم ہو رہی ہیں، ماضی میں ان کے ساتھ بھی زرداری کا رویہ بالکل مختلف رہا ہے، نواز شریف کے دور حکومت میں جب ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن ہوا تو اس وقت سندھ میں ان کا اقتدار سوا نیزے پر تھا، ایم کیو ایم کو کرش کروانے کے بعد جب نواز شریف کی حمایت سے فوج نے زرداری کی کرپشن کے خلاف ایکشن لیا تو انہوں نے فوج کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا اعلان کرکے خود یوٹرن لیا اور فوج کی خوشنودی حاصل کرکے نواز شریف کے خلاف مہم جوئی شروع کردی اور اپنے ساتھ عمران خان کو بھی شامل کرلیا کیونکہ عمران خان پنجاب میں نواز شریف کو نقصان پہنچانے کی پوزیشن میں تھے۔ اس موقع پر حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا جہاں سے نواز شریف کو اقتدار سے نکالا جانے میں راہ ہموار ہو۔ اس طرح نواز شریف کو عمران خان کی مدد اور فوج کے زیر سایہ اقتدار سے محروم کرکے اپنے تمام دیرینہ بدلے چکائے اور سندھ میں ایک طرف اپنی کرپشن کو تحفظ بہم پہنچایا دوسری طرف جی ایچ کیو سے اپنے تعلقات کو بہتر سے بہتر بنایا۔ اس ہی طرح بلوچستان سے بھی نواز شریف کی حکومت ختم کرنے میں فوج کا ساتھ دیا پھر سینٹ میں اس کے عوض اپنا ڈپٹی چیئرمین مانڈوی والا کو بنوا کر انعام حاصل کیا اس کے لئے بھی پی ٹی آئی کو استعمال کیا اور سیاست پر اپنی ذاتی گرفت کو اور مستحکم کیا۔
اب بھی وہ گیلانی صاحب کو سینٹ میں پی ڈی ایم کی طرف سے کامیاب کروا کر سینٹ کا چیئرمین بنانے کی راہ پر لگے ہوئے ہیں اس مقصد میں کامیابی کے لئے انہوں نے مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان کی عمران خان سے نفرت کو استعمال کیا۔ یہ بھی حقیقت ہے عمران خان نے جتنا نقصان نواز لیگ کے ساتھ مولانا کو پہنچایا ہے ان سے اقتدار جس طرح چھین کر ان کو جیلوں میں بند کرکے ان پر اقتدار کے دروازے بند کئے اس کے باوجود سندھ میں زرداری کو کھلی چھٹی بھی عمران خان کے دور حکومت میں ملی رہی، وہ سندھ میں اپنی حکومت بلاشرکت غیرے بدستور چودہ سال سے کرتے رہے۔ اب وہ دو قدم آگے بڑھ کر مریم نواز اور پی ڈی ایم کی دوسری جماعتوں کو اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے استعمال کرکے بلاول بھٹو کو عمران خان کا متبادل وزیر اعظم بنانے کی راہ پر لگے ہوئے ہیں۔
آج ان کی سندھ میں کرپشن کی باتیں ختم ہو گئی ہیں، حالات جس سمت جارہے ہیں وہاں پر کامیابی پیپلزپارٹی اور زرداری خاندان کے قدم چوم رہی ہے اور ان کی کرپشن ماضی کا حصہ بن کر ذہنوں سے فراموش ہوتی جارہی ہے۔ اقتدار کا مرکز سندھی زرداری بنے ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں