حامد میر کا ایک مرتبہ پھر فوج پر حملہ! 54

حامد میر کا ایک مرتبہ پھر فوج پر حملہ!

گزشتہ دنوں ایک یوٹیوبر کے گھر میں گھس کر اس کی تین لوگوں نے خوب دھلائی کی۔ اس دوران حملہ آوروں نے مذکورہ شخص کو کہا کہ آئی ایس آئی کے لئے نعرے مارو۔ مبینہ طور پر کہا جاتا ہے کہ اس کے کسی لڑکی سے تعلقات تھے اور اس کے بھائیوں نے اس کو مارا پیٹا جب کہ اس شخص نے یہ ظاہر کیا کہ مجھے آئی ایس آئی نے فوج کے خلاف یوٹیوب پر پروگرام کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ اس واقع کو لے کر بدمعاش صحافیوں کا سرغندہ ”حامد میر“ اپنے چند ساتھیوں جس میں عاصمہ شیرازی اور افضل بٹ شامل ہیں کو لے کر وہاں پہنچ گیا اور اس نے فوج کے خلاف جو بکواس کی وہ سب لوگ دیکھ اور سن چکے ہیں۔
سب سے بھونڈہ مظاہرہ مولانا فضل الرحمن اور شہباز شریف اینڈ کمپنی نے کیا کہ وہ بھی میڈیا کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے زخمی صحافی کے پاس پہنچ گئے جو کہ بہت حیران کن بات تھی۔ شہباز شریف کے دور حکومت میں منہاج القرآن پر گولیاں چلا کر 14 لوگوں کو ہلاک کیا گیا اس وقت ان میں سے کوئی ان کے پاس نہ پہنچا۔ پاکستان میں ایک طبقہ ایسا ہے جو فوج کی رکھیل کے طور پر بھی کام کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس کے خلاف بھونکتا بھی ہے۔
اس سے پہلے بہت سے نامور صحافی میر شکیل الرحمن کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے تھے کہ اس کی گرفتاری آزادیءصحافت کے خلاف ہے جب کہ وہ خود کہتا ہے کہ میں بزنس مینس ہوں، صحافی نہیں ہوں۔
حامد میر کو اگلی صبح جنگ گروپ نے کیپیٹل ٹاک پروگرام کرنے سے منع کردیا ہے یعنی چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔ اب یہ الزام بھی فوج پر مبینہ طور پر عائد کیا جارہا ہے کہ ان کے حکم سے یہ ہوا ہے جب کہ آمدہ اطلاعات کے مطابق عوام، سیاست دانوں، سول سوسائٹی اور سوشل میڈیا پر عوام کے فیض و غضب کو دیکھتے ہوئے جنگ گروپ نے اپنی رہی سہی ساکھ بچانے کے لئے حامد میر کو گھر بھیج دیا ہے جو کہ ناکافی ہے۔ کیپیٹل ٹاک کی گرتی ہوئی ریٹنگ، حامد میر اور جیو کے لئے تشویش کا باعث بنی ہوئی تھی۔ پرائیویٹ میڈیا کو اشتہارات کی مد میں دیئے جانے والے اربوں روپوں کے اشتہارات موجودہ حکومت کے معرض وجود میں آنے سے بند ہیں۔ اسی وجہ سے کچھ چینل بند ہو گئے ہیں اور موسمی صحافی بے روزگار پھر رہے ہیں اسی طرح حامد میر کی طرح کے دوسرے اینکرز کی تنخواہیں بھی بہت کم کر دی گئی ہیں جب کہ جیو ٹیلی ویژن تو ورکروں کو تنخواہیں بھی ڈھنگ سے نہیں دے رہا۔ صحافیوں نے کئی بار وزرائے اطلاعات سے مدد کی اپیل کی ہے۔
مملکت خداداد میں صحافیوں کے بڑھتے ہوئے بدمعاشی کے واقعات نے معصوم اور سچے کھرے صحافیوں کی بھی مٹی پلید کردی ہے۔ وہ بھی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔ مشرف دور میں قائم کئے گئے میڈیا ہاﺅسز پریشر گروپ بن چکے ہیں یہ حکومتوں کو بلیک میل کرتے ہیں اور ان کے خلاف بے بنیاد خبریں چلاتے ہیں اور ان کو پچھنے والا کوئی نہیں۔
پچھلے تین سالوں میں عمران خان کی حکومت کے آتے ہی انہوں نے مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور فضل الرحمن کے ساتھ مل کر اتنا پروپیگنڈہ کیا کہ یہ حکومت نا اہل، نا لائق اور کرپٹ ہے انہوں نے اپنے زہریلے پروپیگنڈے سے ایسی رائے عامہ ہموار کی کہ پی ٹی آئی کے مخلص لوگ بھی سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ واقعی یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ کیوں کہ مختلف صوبوں میں چیف سیکریٹریز اور آئی جی کی بار بار تبدیلیوں سے یہ تاثر جا رہا تھا کہ ان کی گورنس فیل ہو چکی ہے جو کہ بے بنیاد پروپیگنڈہ تھا۔ تمام مافیا اکھٹا ہوگیا مگر موجودہ حکومت کا کچھ نہ بگاڑ سکا کیوں کہ یہ پروپیگنڈہ کرنے والے کرپٹ لوگ ہیں ان کا کوئی ضمیر نہیں ہے، لوگ ان کو اچھی طرح جان چکے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں اور اینٹی عمران خان میڈیا کا تمام واویلا دھرہ کا دھرہ رہ گیا جب تازہ معاشی اعداد و شمار سامنے آئے تو ہمارا جی ڈی پی 3.94 ڈیکلیئر کیا گیا جب کہ اپوزیشن کے نزدیک یہ ایک سے دو فیصد کے درمیان ہونا چاہئے تھا اور ابھی معیشت دانوں کا کہنا ہے کہ یہ چار فیصد سے بھی تجاوز کر جائے گا۔ پاکستان میں معاشی میدان میں بڑی خوشخبریاں آرہی ہیں۔ اسٹاک ایکسچینج نے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، نقد آور فصلوں کی بمپر کراپ ہوئی ہے۔ ٹیکسٹائل، کنسٹرکشن اور آٹو موبائل انڈسٹری سرپٹ دوڑ رہی ہے۔
کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ ختم ہو چکا ہے۔ ڈالر کے ریزروز بڑھ چکے ہیں۔ بیرون ملک سے ترسیلات نے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ ملک کے اندر ہر میدان میں تیزی دیکھی جارہی ہے، کرونا کی وباءکے باوجود معیشت کو پر لگ چکے ہیں۔ ڈیمز بن رہے ہیں۔ دس ارب درختوں کی طرف تیزی سے بڑھا جا رہا ہے۔
پاکستان سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آرہے ہیں اور ان شاءاللہ عمران خان کی دیانتدارانہ قیادت میں پانچ سالوں میں بہت ترقی ہو گی اور اس ترقی پر یقین بھی آتا ہے کہ اس میں پرائم منسٹر کمیشن نہیں کھا رہا۔ جتنے بھی معاہدے ہو رہے ہیں وہ خالصتاً قوم کے مفاد میں کئے جارہے ہیں۔ عمران خان کی شبانہ روز محنت نے رنگ دکھانا شروع کردیا ہے۔ پاکستان کی ہواﺅں اور فضاﺅں میں خوشحالی کی معطر خوشبو چہار سو پھیلی ہوئی ہے۔
آئندہ آنے والے بجٹ میں عوام الناس کے لئے بہت خوش خبریاں ہوں گی۔ قوم تسلی رکھے، اچھے دن دستک دے رہے ہیں۔ خدارا اس عظیم لیڈر کے ہاتھ مضبوط کریں اور کرپٹ اشرافیہ اور سیاستدانوں کو آنے والے انتخابات میں ناکام کروائیں۔ عمران خان کو 2/3 اکثریت سے جتوائیں تاکہ وہ ضروری آئینی تبدیلیاں کرسکے اور اس ریاست مدینہ کے خواب کو حقیقی تصور میں بدل سکے۔ جس کا وہ ہمیشہ ذکر کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں