مکافات عمل 60

حب الوطنی نے جینا دوبھر کردیا

پاکستان جہاں ہر روز ترقی اور خوشحالی کا بھاشن عوام کو دے کر ان کا دل بہلایا جاتا ہے، پاکستان کے ان دشمنوں کو شکست دینے کی باتیں کی جاتی ہیں جو ملک کے اندر ہی موجود ہیں۔ ہمارے دفاعی ادارے لگتا ہے کہ اپنے ہی ملک کے دیگر صوبوں کے رہنے والوں پر زندگی تنگ کرنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ برسوں سے بلوچستان سے دن دھاڑے جن لوگوں کو اٹھا لیا گیا، ان کی مسخ شدہ لاشیں ہی ملتی رہیں۔ جوں جوں بندوق اور طاقت کے زور پر ایسی تحریکوں کو کچلنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے یہ روز بروز زور پکڑ رہی ہیں اور ہمارے دفاعی ادارے خود دفاعی پوزیشن لیتے دکھائی دے رہے ہیں مگر دوسری جانب ایسے تمام لوگوں پر زندگی تنگ کردی گئی ہے جو اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانا چاہتے ہیں۔ اب تو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک سے بھی اتفاقی حادثات کے نتیجہ میں ہلاکت کے کیسز سامنے آرہے ہیں۔ وہ ممالک جہاں لوگ سیاسی پناہ حاصل کر لیتے ہیں اور پاکستان میں زبان بندی کے خلاف ایک نیا محاذ کھول کر خود کو غدار وطن میں شامل کرلیتے ہیں۔ جب کہ دوسری جانب ہمارے دفاعی اداروں کو چلانے والے اعلیٰ عہدیدار ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی اپنے ملک میں گزارنا بھی پسند نہیں کرتے یعنی جو عوام کو وطن کی سوندھی سوندھی مٹی سے پیار کرنے کا درس دیتے ہیں اپنا وقت پورا ہونے پر اس وطن میں رہنا بھی پسند نہیں کرتے بلکہ دیار غیر میں بقیہ زندگی کے شب و روز پورے کرتے ہیں۔ نہ جانے اس سختی سے حق اور سچ کی آوازوں کو دبانے کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ مگر پاکستان نہایت تیزی سے گراوٹ کا شکار ہے اور بہت اچھا کی نوید سنانے والے بھی مجبور و بے بس دکھائی دیتے ہیں کہ انہیں وزیر اعظم کے عہدے سے پیار ہے اور زبان بندی کے فوائد حاصل ہونے کے سبب وہ کسی بھی معاملہ میں آواز اٹھانے کی جرات نہیں کرتے اور عوام کو ہر روز ایک نیا خواب دکھا دیتے ہیں۔ آج کی حکومت میں اور نئے پاکستان بنانے کا نعرے لگانے والے وہی پرانے چوروں کو سامنے لا کر چوری کا نیا انداز اپناتے دکھائی دے رہے ہیں اور ہمارے وزیر اعظم نے تو حال ہی میں یہ بیان بھی داغ دیا کہ حکومت میں آنے سے قبل تیاری ضروری ہے یعنی کروڑوں نوکریاں، لاکھوں گھر اور معیشت کے سنہرے خواب دکھانے والے آج اپنی ناکامی کا ببانگ دہل اعلان کررہے ہیں۔ مگر ہمارے عوام خواب غفلت سے باہر آنے پر اب بھی تیار نہیں۔ سب مست ہیں اور کوئی سنجیدگی سے یہ نہیں سوچ رہا کہ یہ ملک کس جانب جا رہا ہے اور آنے والے دنوں میں کیا ہونے والا ہے لیکن ہمیں یقین ہے اور ہمارا ایمان کامل ہے کہ یہ ملک ستائیس ویں شب کو معرض وجود میں آیا تھا اور اس پر اللہ اور اس کے رسول عنایت ہے چنانچہ وہی اس کی حفاظت فرمائے گا۔ یہی سوچ کر نعوذباللہ تمام ملبہ رب کائنات اور نبی محتشم پر ڈال کر ہم خواب و خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں اور کسی معجزے کے منتظر ہیں یوں کل کیا ہو گا، کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی جاننا چاہتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں