Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 135

حسن چشتی

حسن چشتی ایک شخص نہیں ایک عہد کا نام ہے وہ عہد جو گزرگیا ۔اس عہد میں سیکھنے کے لئے بہت کچھ تھا لیکن افسوس کہ ہم کچھ سیکھ نا سکے۔کیونکہ ہم اس عہد میں رہنا نہیں چاہتے۔ 24 دسمبر 2020 کو یہ عہد ہمیشہ کے لئے رخصت ہوگیا۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے میں نارتھ کیرولائنا میں تھا ان کی کال آئی ۔شکاگوکب آرہے ہیں آئیں تو ملئے گا ضرور۔۔۔یہی الفاظ تھے۔وہ چھوٹے بڑے سب سے بہت احترام اور سلیقے سے بات کرتے تھے۔ اردو ادب میں ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔حسن چشتی بہت ہی قد آور شخصیت تھے اکثر ملاقاتوں میں حیدرآباد دکّن اور سعودی عرب کے حوالے سے بات چیت ہوتی تھی۔ کچھ ان کے قریبی ساتھیوں سے بھی ان کے بارے میں معلومات ہوئیں اور میں حیران تھا کہ انہوں نے ماضی پر لوگوں سے بہت زیادہ بات نہیں کی۔ان میں نام و نمود اور خود نمائی کا کوئی عنصر موجود نا تھا۔اتنی ہنگامہ خیز زندگی گزارنے والا شخص جس نے اپنی مصروفیات کو صرف لوگوں کی فلاح بہبود کے لئے مخصوص کیا ہوا تھا لوگوں کے دکھ اپنے وسیع سینے میں سمیٹ کر ان کا مداوہ کرنے کی خاطر ہمیشہ بے چین رہنے والا شخص اور اس کے ساتھ ساتھ اردو ادب کے فروغ کے لئے بھی ہم وقت کوشاں ایسی زندگی گزارنے والا شخص شکاگو آیا تو اپنی بے چین فطرت کے مطابق یہاں بھی لوگوں کی فلاح بہبود کے لئے تیّار ہوگیا لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ حسن چشتی گوشہ نشین ہوگئے مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ وجہ چاہے کتنی بھی سنگین ہو لیکن وہ کبھی بھی حرف شکایت زبان پر نہیں لائے۔ان کے اوپر یہ مصرعہ صادق آتا ہے کہ۔۔۔دنیا تیرے مزاج کا بندہ نہیں ہوں میں۔۔۔ اور ویسے بھی شکاگو کا تو باوہ آدم ہی نرالا ہے یہاں کئی ادبی تنظیمیں حادثاتی طور پر ایسے لوگوں کے ہاتھ آگئی ہیں جن کے بارے میں مثالیں ہیں جیسے۔۔۔ بندر کے ہاتھ ناریل یا گنجے کے ناخون۔۔بہرحال حسن چشتی صاحب کی ذات سے متعلق بے شمار باتیں ایسی ہیں جن سے شائید بہت کم لوگ واقف ہوں گے ۔حسن چشتی نے کبھی اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش نہیں کی ہمیشہ عاجزی اور انکساری کو اپنا وطیرہ بنایا بڑی سے بڑی بات پر خاموشی اور حسین مسکراہٹ ان کے چہرے پر رہی۔حسن چشتی کے والد کا نام سمیع احمد تھا اور ان کا تعلّق بہار ضلع “گیا” سے تھا بعد میں حیدرآباد منتقل ہوگئے اور ملک پیٹ میں رہائش اختیار کی۔ مولانا حسرت موہانی ہر روز سمیع صاحب کے پاس حاضری دینے آتے تھے اور ان کے قریبی دوستوں میں سے تھے اس کے علاوہ ان کے دوستوں میں احمد علی خان صاحب جو بعد میں آندھرا پردیش کے ہوم منسٹر رہے اور انقلابی قلم کار شعیب اللہ خان بھی ان کے رفیقوں میں شامل تھے۔سمیع ا حمد صاحب والی بال کے نامور کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت ہی نیک سیرت اور انسان دوست شخصیت تھے حسن چشتی کو صبر و تحمّل انسانی ہمدردی یہ تمام اوصاف اپنے والد صاحب سے ورثے میں ملے ۔حسن چشتی 15 اکتوبر 1930میں حیدرآباد میں پیدا ہوئے ۔زمانہ طالب علمی میں ہی خاندان میں عشق ہوگیا اور عشق بھی جنون کی حد تک لیکن یہ عشق کچھ حالات کے باعث پایہ تکمیل کو نا پہونچ سکا ۔جس نے حسن چشتی کو دل برداشتہ کردیا اور انہوں نے غمزدہ شاعری شروع کردی اور اس میں بہت کامیاب رہے۔اپنے آپ کو مزید مصروف رکھنے کے لئے انہوں نے ماہنامہ پاسبان کی ادارت سنبھالی بعد میں اپنا ماہنامہ آکاش سنبھال لیا۔انہوں نے اپنے آپ کو مصروف کرلیا تھا ۔بھول چکے تھے کہ کبھی کالج میگزین کے ایڈیٹر رہے تھے اپنے ساتھیوں میں اپنی خوش مزاجی اور محبّت سے بہت مقبول ہوئے تھے ،غمزدہ شاعری کو انہوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا تھا ۔پھر انہوں نے اپنے آپ کو فلاحی کاموں میں مصروف کرلیا۔اس وقت ان کے پاس ایک معمولی نوکری تھی ۔لیکن جلد ہی ان کو عثمانیہ یونیورسٹی کی انتظامیہ میں عہدہ مل گیا 1963 سے چار سال تک جامعہ کی این ،جی ،اوز یونین کے سکریٹری رہے۔ اس وقت مسلمان ملازمین اقلیتوں میں تھے اور زیادتی کا شکار ہوتے تھے حسن چشتی نے ان کے حقوق دلانے کا بیڑہ ا ٹھایا اور اس میں کامیاب بھی رہے۔حسن چشتی نہایت دیانت دار اور اصول پسند تھے بارہا رشوت کی پیشکش ہوئی لیکن انہوں نے ٹھکرادیا۔ملازمت کے دوران جب وہ سکندر آباد میں جے سمہا گراونڈ کے قریب رہتے تھے وہاں انہوں نے کتابوں کا کاروبار شروع کیا ۔ بہت جلد اس کاروبار میں ان کو ترقّی ہوئی اور ان کی ماہانہ آمدنی پانچ ہزار روپے تک پہونچ گئی جو اس زمانے میں کافی اچھّی رقم ہوتی تھی۔اس کے بعد ان کو جو شریک زندگی ملا اس نے حسن چشتی کی زندگی بدل ڈالی۔ محبّت خلوص اور ایثار کا پیکر محترمہ زینت بیگم صاحبہ جنہوں نے حسن چشتی کے سارے د کھ اور غم بھلادئے اپنی خدمت اور محبّت سے حسن چشتی کے دل میں ایک عظیم مقام پیدا کیا۔ نہایت نیک ملنسار اور خوش اخلاق خاتون کے ساتھ حسن چشتی نے ایک پرسکون زندگی گزاری۔ ان کی بیگم نے ان کا بہت ساتھ دیا دوست احباب جو ملنے آتے تھے ان کی خاطر داری میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔ ان کی زندگی میں اتنے پھول بکھیردئے تھے کہ اب ان کو شاعری کرنا مشکل محسوس ہورہا تھا۔کیونکہ شاعری کرنے کی ج و وجہ تھی وہ ختم ہوچکی تھی۔پھر حسن چشتی جدّہ سعودی عرب فیملی کے ساتھ چلے گئے۔ان کے ایک دوست کا کہنا تھا کہ اس زمانے میں حسن چشتی اپنے ہم وطنوں میں سب سے زیادہ تنخواہ پانے والے عہدے دار تھے۔ جدہ میں انہوں نے اپنے خلوص ،محبّت اور فلاحی کاموں سے بہت جلد انڈین اور پاکستانی مسلمانوں کے دلوں میں جگہ بنالی۔1985 کے شروع سال میں جدہ میں حیدر آبادی ایسوسی ایشن کی بنیاد پڑی تو اس کی صدارت حسن چشتی کو سونپی گئی۔انہوں نے سعودی عرب میں موجود تمام حیدرآباد سے تعلّق رکھنے والوں کی فہرست بنانا شروع کی اور یہ فہرست ساٹھ ہزار افراد تک جاپہونچی حسن چشتی نے ان افراد کی رقومات کو مختلف کاروباری اسکیموں میں لگانے کے لئے انوسٹمنٹ گائیڈنس بیورو کا تعاون حاصل کیا۔جس سے ان تمام افراد کو بہت فوائد حاصل ہوئے۔اس کے علاوہ حیدر آباد ایسوسی ایشن نے حسن چشتی کی صدارت میں بے شمار فلاحی اور رفاہی کام انجام دئیے۔انہوں نے حیدر آباد کے غریب عوام کے تن ڈھانپنے کے لئے پرانے کپڑوں کے لئے چندے کی اپیل کی اور ایک ہفتے میں ڈیرھ ہزار کلوگرام کپڑہ جمع کرلیا ائیر انڈیا نے جدّہ سے بمبئی تک کا کرایہ نہیں لیا اور یہ کپڑہ غریبوں میں تقسیم ہوا۔
یہ کام انہوں نے کافی عرصے جاری رکھا لندن سے نکلنے والے جریدوں نے حسن چشتی کو خراج تحسین پیش کیا۔ حج کے دوران قربانی کا گوشت ضائع ہوجاتا تھا۔ حسن چشتی صاحب کی کوششوں سے اسے محفوظ کرکے انڈیا کے غربت زدہ مسلمان علاقوں میں پہونچایا گیا اس کے لئے حسن چشتی نے اسلامک ڈیولپمنٹ بنک کی خدمات حاصل کیں۔ بے شما ر اچھّے کاموں میں انہوں نے ایک بڑا کام یہ کیا کہ سعودی عرب سے حیدرآباد براہ راست فلائیٹ کا ائیر انڈیا سے مطالبہ کیا اس کے لئے انہوں نے وزیراعظم اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلی’ کا تعاون حاصل کیا۔جیسے ہی حیدرآباد بیگم پیٹ ائیرپورٹ کو انٹر نیشنل ائیرپورٹ کا درجہ دیا گیا حسن چشتی نے بھاگ دوڑ کرکے 19 دسمبر 1985 کو جدّہ سے براہ راست حیدر آباد فلائیٹ کو منظور کروالیا۔ائیر انڈیا وی آئی پی مہمانوں میں حسن چشتی پہلی پرواز سے حیدرآباد آئے اور فائیو اسٹار بنجارہ ہوٹل میں مہمان بنے۔ رام داس ائیر انڈیا مینیجر اور جگدیش ٹائٹلر مرکزی وزیر ان کے ہمراہ تھے۔انگریزی اردو اور عربی کے کئی اخبارات نے شہ سرخیوں میں حسن چشتی کو خراج تحسین پیش کیا۔ حسن چشتی کی زندگی پر لکھنے کے لئے ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ہے ایک کالم میں اسے سمونا مشکل امر ہے پھر بھی میں نے اختصار سے کام لیتے ہوئے اسے لکھا ہے۔ان کے تمام رفاہی کاموں کا احاطہ کرنے کے لئے بہت صفحات چاہئیے ہیں۔ بلا شبہ حسن چشتی انسانیت کی خدمت اور اپنے فلاحی کاموں کے لئے تحسین کے مستحق ہیں۔حسن چشتی نے شاعری کے علاوہ نثر میں بھی بہت کچھ لکھا ۔ساحر لدھیانوی ان کے خلوص سے بہت متاثر تھے ۔حسن چشتی بھی ساحر کی شاعری اور ان کی شخصیت کے گرویدہ تھے۔ 1958 میں ساحر کے مشورے پر ہی حسن چشتی نے ماہنامہ آکاش کا اجرا کیا تھا اور اس کی تقریب کی صدارت ساحر نے کی تھی۔ شاذ تمکنت ان کے اسکول کے ساتھی تھے شاذ کی رحلت پر حسن چشتی بہت صدمے میں تھے شاذ کی رحلت پر انہوں نے کہا۔
پہنچا دکّن تو کوچہءبازار تھے اداس
حیراں تھے چارہ گر درودیوار تھے اداس
شہر وفا کے سارے ہی غمخوار تھے اداس
معلوم یہ ہوا کہ میرا شاذ مر گیا
اللہ تعالیٰ حسن چشتی کی مغفرت فرمائے اور ان کو اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں