اک بڑا دانشور افسانہ نگار براڈ کاسٹر 239

خیانتی رکھوالے

بیان کیا جاتا ہے کہ ایک چور رات میں ایک نیک انسان کے گھر چوری کے لئے داخل ہوا اس نے ادھر ادھر بہت ہاتھ مارے، وہاں کچھ ہوتا تو ملتا۔ اتفاق سے وہ نیک انسان جو نہایت غریب بھی تھا، آہٹ سن کر جاگ گیا، وہ سمجھ گیا کہ کوئی شخص چوری کی نیت سے اس کے گھر میں گھسا ہوا ہے۔ اس نیک انسان سے زیادہ اپنے گھر کی غربت کے بارے میں کون جانتا تھا، یہ سوچ کر اس کو بہت دکھ ہوا کہ چور نے اتنی محنت کی اور میرے گھر سے چوری کئے بغیر چلا جائے گا، اس خیال سے اس نیک انسان نے جو واحد قیمتی کمبل اتار کر چور کے حوالے کردیا۔
اس وقت ہمارے ملک کا حال بھی ایسا ہی ہے، ہمارے ملک کے عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ملک کے با اختار عوام کا مال چوری کرنے میں مشغول ہیں۔ اور عوام کی آخری پونجی بھی ہتھیانے کے منصوبے بنا رہے ہیں اور غریب اپنی آخری پونجی بھی جرمانے کی صورت ادا کررہے ہیں۔
بدقسمتی یہ ہی ہے کہ عوام جس کو بھی رکھوالی کے لئے مقرر کرتے ہیں، وہی عوام کے حق پر ڈاکے مارنا شروع کر دیتا ہے اور ملکی دولت بھی جرمانے کی صورت ادا کررہے ہیں۔
کہیں پناہ نہ تھی دل کو راہِ الفت میں
وہیں لٹا یہ مسافر جہاں قیام کیا
پاکستان کے حکمرانوں کے اثاثوں کی چھان بین کرنے والے ادارے بھی اسی طرح سے عوام کی دولت کی لوٹ مار کررہے ہیں اور غریب قوم پر رحم نہیں آرہا۔ اس کی موجودہ مثال براڈشیٹ کی ہے جس نے چوری کئے ہونے اثاثوں کا سراغ لگانے کی قیمت جس طرح وصول کی اور قومی خزانے میں ایک پیسہ بھی جمع کروائے بغیر اربوں روپے ہضم کئے اور مزید ہتھیانے کے لئے حکمرانوں کو آپس میں لڑوا کر حاصل کرنے کے جو طریقے اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ایسے ہی طریقے ماضی میں عوام کا پیسہ واپس قومی خزانے میں جمع کروانے کے لئے اس سے پہلے کے ادارے کرتے رہے ہیں، لوٹی ہوئی دولت واپس کرنے کے بجائے عوام کا پیسہ کھا گئے۔ یہ ادارے جن میں نیب اینٹی کرپشن کے جیسے ادارے بھی شامل ہیں چوری کیا ہوا مال واپس قومی خزانے میں جمع کروانے کے بجائے ملکی دولت کے عیوض اپنی اپنی شاہ خرچیاں کرتے رہے اور ایک بھی منفعت بخش کارنامہ انجام دینے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ عوام کے خرچہ پر بیرونی ممالک اور اندرونی ملک عیاشیاں کرتے رہے یا مزید رشوت لے کر چوروں سے سازباز کرکے ان سے اپنا حصہ وصول کرتے رہے اور اپنی ذاتی تجوریاں بھرتے رہے۔ براڈ شیٹ نے بھی حکومت اکستان سے معاہدے کرکے یقین دہانی کرواتی رہی کہ وہ ملک سے چوری کئے ہوئے اربوں ڈالر کا سراغ لگا کر ان کو عوام کے خزانے میں واپس جمع کروائیں گے۔ عوام کے خزانے میں کیا خاک جمع ہوتا خود 28 ملین پونڈ کی رقم ہتھیا کر مزید ڈاکے ڈالنے کے منصوبے بنا رہے ہیں اور رکھوالے ان سے اپنا کٹ مانگ رہے ہیں۔
یہ ہی حال شہزاد اکبر کا ہے تقریباً تین سال سے مختلف حکمرانوں کے خلاف کرپشن کے کیس سامنے لانے کے دعویٰ کرنے کے باوجود کوئی خاطر خواہ رقم ملکی خزانے میں جمع کروانے میں کامیابی حاصل نہ کرسکے ان کے اعلان بھی ایسے ہی ہیں جیسے کہ گزشتہ پچاس سالوں سے ملک اور قوم کا احساس رکھنے والے اپنے اپنے ذرائع سے سامنے لا رہے ہیں یہ سب کچھ سامنے آتا رہا مگر ان پر عمل کرنے والے حکومتی ادارے ان کو عملی حقیقی طور پر برامد کرنے میں ہمیشہ کی طرح ناکام ثابت ہوئے ان اداروں پر قوم کے کروڑوں روپے خرچ کرکے ان کی وزارتیں عوام کے رقم ضائع کررہے ہیں پاکستان سے محبت کرنے والے اپنے اپنے ذرائع سے عوام کے سامنے ان عہدیداروں کی لوٹی ہوئی رقم کی تفصیلات سامنے لارہے ہیں۔ مگر عوام کی اس لوٹی ہوئی رقم بازیافت کروانے کا ذمہ حکومتی عہدیداروں کا ہے مگر موجودہ حکومت اور اس کے احتساب کے ادارے بھی ہر روز عوام کے سامنے ایسی ہی داستانیں میڈیا پر آکر سناتے ہیں جو گزشتہ پچاس سالوں سے روزانہ سن سن کر کان پک چکے ہیں۔ عملی طور پر بقول شخصے ایک دھیلا بھی عوام کے خزانے میں جمع نہ ہو سکا۔ براڈ شیٹ جیسے ادارے بھی یہ ہی دعویٰ کرتے آئے کہ وہ عوام کا لوٹا ہوا مال واپس کروائیں گے مگر وہ لٹا ہوا خزانہ کیا واپس کرواتے وہ خود ہی لوٹ مار میں شامل ہوگئے۔
اس ہی طرح شہزاد اکبر گزشتہ تین سال سے میڈیا پر آکر سیاستدانوں کی لوٹی ہوئی دولت کی کہانیاں بھی سناتے رہے مگر ان کے دور میں جتنا سرمایہ ان کی وزارت پر خرچ ہو چکا ہے اس کا عشر عشیر بھی قومی خزانے میں جمع نہ ہوسکا اس ہی طرح فوجی اداروں میں جو لوٹ مار ہو رہی ہے اس کا احوال تو کچھ خاص لوگوں کو معلوم ہے۔ مگر عوام ان سے زیادہ تر لاعلم ہیں وہ بھی ان اداروں کی جانب امید آمیز نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں کہ شاید ان کو ہی عوام پر رحم آجائے مگر ملک کے ہم اہم شعبہ میں ایسے عہدیدار قابض ہیں جن کا خمیر خیانت اور بددیانتی سے بھرپور ہے وہ غیر ملکیوں سے ایسے کمزور معاہدے کرتے ہیں اور اس کا کک بیک بڑی ڈھٹائی سے وصول کرتے ہیں جس کا سراسرنقصان قوم کو اٹھانا پڑتا ہے اس طرح جب اس معاہدے کو ختم کیا جاتا ہے تو اس کا جرمانہ بھی قوم کو بھگتنا پڑتا ہے پھر ان ہی بددیانت لوگوں میں سے کچھ اس جرمانے کو ختم کروانے یا قوم کا مقدمہ لڑنے پر کروڑوں کا سرمایہ برباد کرتے ہیں پھر اس جرمانے سے بھی اپنا حصہ لے کر بیرون ملک میں جا کر چھپ جاتے ان کی تحقیق کرنے والے رکھوالے بھی قوم کا سرمایہ ضائع کرکے اپنا حصہ لے کر بھی حکومتی عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں اس طرح مسلسل پاکستانی قوم کا سرمایہ برباد ہوتا چلا جاتا ہے یہ سلسلہ اب میڈیا پربھی سامنا آرہا ہے اس طرح ان خیانتی رکھوالوں کے کرتوت موجودہ زمانے میں سامنے آتے جاتے ہیں۔ براڈ شیٹ ہوں یا موجودہ احتساب کی وزارتیں یا احتساب کے دوسرے ادارے ہر ایک طرف ایک جیسی صورت حال ہے۔ شہزاد اکبر کی کہانیاں گزشتہ تین سال سے سن سن کر عوام کے کان پک چکے ہیں جو کہ اب بھی میڈیا تازہ ترین صورت حال کو عوام کے سامنے پیش کررہا ہے۔ یہ ہی صورت حال نیب کے ادارے کی ہے جس نے صرف حکومت مخالف افراد کی بددیانتی یا خیانت کی داستانیں عوام اور میڈیا پر آکر سنانے کے علاوہ کوئی خاطرہ خواہ رقم عوام کے خزانے میں جمع کروانے میں ناکامی ظاہر کرتا رہا ہے اس ادارے نے اربوں کی رقم سے بڑے بڑے منصوبے بنائے مگر عوام کے لئے ایک بڑی رقم برآمد کرنے میں ناکام رہا اس ادارے کے بددیانت عہدیدار لوگوں کو بلیک میل کرکے ان سے رشوت ووصل کرنے کے بعد معمولی جرمانے لگا کر ان کے جرم کے کیس بند کردیتا ہے یہ تو ایک مثال ہے اس ادارے کے بددیانت عہدیداروں کی یہ ہی صورت حال اینٹی کرپشن کے ادارے کی ہے جو کرپشن کو ختم کرنے کے بجائے خود کرپشن میں اضافے کا باعث ہو رہا ہے۔ جیسا کہ ایف آئی اے یو پولیس کا کردار ہے یہ ادارے اگر ختم کر دیئے جائیں تو معاشرے میں جرائم کی تعداد میں غیر معمولی خاتمہ ہونا شروع ہو جائے گا اور قوم کی دولت بھی محفوظ ہو جائے گی ان اداروں کے عہدیدار جو شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں اس کا ھبی تمام بوجھ قومی خزانہ ہی اٹھا رہا ہے مگر اس تمام تر بوجھ اٹھانے کے باوجود یہ قومی خزانے کی کسی بھی طور پر مدد کرنے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں اس کے ساتھ ان کی اپنی جائیدادوں میں ان کے عہدے کی موت کے دوران بے تحاشہ اضافہ ہی ہوتا چلا گیا ہے اس ہی طرح پولیس کا شعبہ بھی ملک میں قانون کے نفاذ میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے حالانکہ یہ شعبہ بھی 1935ءکے برطانوی ہند کے دور میں قائم ہوا لیکن اس نے عوام کو سہولت پہچانے کے برخلاف عام لوگوں کے لئے اذیت کا باعث ہی ثابت ہوا۔ یہ سب کچھ تو تھا عوامی یا سویلین اداروں کا حال اس کے علاوہ ایک شعبہ فوج کا بھی ہے۔ جس پر ملک اور قوم کا بہت بڑا سرمایہ ہر سال صرف ہوتا ہے اس ادارے سے ملک اور قومی کو حقیقی طور پر کیا حاصل ہوا۔ اس ادارے نے گزشتہ 75 سالوں سے ملک کے لئے کیا اہم کارنامے انجام دیئے اور ان پر ملک اور قوم کا کتنا بڑا سرمایہ صرف ہوا آپ ہی اپنی اداروں پر ذرا غور کریں اگر ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی۔
ملک اور قوم کی حالت اس نیک اور غریب انسان کی ہے اور اس عوام کو لوٹنے والوں کا حال اس چور کا سا ہے جس کی خاطر عوام نے اپنا آخری نوالہ بھی فوج سمیت ملکی اداروں کو خراج کی صورت ادا کیا اور خود مسلسل غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے مگر ان بے غیرت خیانتی رکھوالوں کو شرم بھی نہیں آتی۔ کچھ غیرت ہوتی کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے ان بددیانت چوروں کو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں