دائرہ ادب نیویارک کا نعتیہ مشاعرہ یادرفتگاں محترم صبا اکبر آبادی مرحوم کے حوالے سے ایک انتہائی یادگار پروگرام 194

دائرہ ادب نیویارک کا نعتیہ مشاعرہ یادرفتگاں محترم صبا اکبر آبادی مرحوم کے حوالے سے ایک انتہائی یادگار پروگرام

رپورٹ: دائرہ ادب ڈیسک ۔ محسن علوی
مورخہ 7 نومبر 2020ءبروز ہفتہ بمطابق 21 ربیع الاول 1442ھ بوقت بارہ بجے دن نیویارک دائرہ ادب نیویارک کے زیر اہتمام راقم الحروف نے ممتاز نعت گو شاعر محترم صبا اکبر آبادی مرحوم کے حوالے سے ایک نعتیہ مشاعرہ کروایا۔ یہ مشاعرہ صبا اکبر آبادی کے صاحبزادے محترم شاہد سلمان (ٹورانٹو کینیڈا) کی خصوصی فرمائش پر کیا گیا۔ شعراءکے انتخاب میں انہی کی رائے کو اہمیت دی گئی۔ ماہ ربیع الاول میں یہ ایک اور انتہائی یادگار مشاعرہ تھا۔ ہر شاعر کو الگ الگ صبا اکبر آبادی مرحوم کی کہی ہوئی نعتوں سے تین تین مصرعے دیئے گئے تھے طرحی نعت کہنے کے لئے۔
اس مشاعرے میں بھی کراچی پاکستان سے دبستان وارثیہ کے روح رواں محترم جناب قمر وارثی صاحب (جن کی دو نعتیہ کتب کو حکومت پاکستان سے ایوارڈ مل چکا ہے) نے بہ حیثیت صدر مشاعرہ شرکت فرمائی۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر عبدالرحمن عبد، تنویر پھول، تبسم محسن علوی، رشید شیخ، محمد فہد خان شکاگو، ڈاکٹر ناہید کیانی، مظفر نایاب قطر، احمد علی برقی اعظمی، رئیس اعظم حیدری، عرفان عارف انڈیا، شعیب ناصر ٹورانٹو سے شریک ہوئے۔ راقم الحروف نے تلاوت قرآن سے پروگرام کا آغاز کیا۔ تلاوت کے بعد جناب شاہد سلمان صبا اکبر آبادی نے تمام شعراءاور اسپیکرز کو خوش آمدید کہا پھر اس کے بعد ممتاز ناول نگار، افسانہ نگار اور شاعرہ اور صدر خواتین کی ادبی تنظیم (ماورا) محترمہ تبسم محسن علوی نے صبا اکبر آبادی پر لکھا، ایک مختصر مقالہ پیش کیا اور اپنے دادا وکیل احمد قدوائی مرحوم اور صبا صاحب کے تعلقات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ صبا اکبر آبادی کی نعتوں سے منتخب اشعار پیش کئے اور بعض حاضرین محفل کے مطابق اپنے پانچ منٹ کے مختصر خطاب میں پانچ گھنٹے سمودیئے۔
اس کے جناب احمد علی برقی اعظمی نے دہلی سے محترم صبا اکبر آبادی پر منظوم تاثرات پیش کئے۔
روح پرور ہے صبا کی شاعری
ہے نمایاں جس سے عصری آگہی
فکر و فن پہ تھا انہیں حاصل عبور
روح کو ملتی ہے جس سے تازگی
جملہ اصناف سخن میں ان کی ہے
ان کے حصے کی نمایاں روشنی
مشاعرے کے منتخب اشعار:
محسن علوی (ناظم مشاعرہ)
منتخب مصرعہ:
سرمحشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں ۔ صبا اکبر آبادی
صداقت کی، بصیرت کی، نبوت کی، گواہی میں
کہا انصار نے ان کے مددگاروں میں ہم بھی ہیں
خدا کے نور سے روشن ہے سارا عالم ہستی
نبی کے نور سے روشن چمکداروں میں ہم بھی ہیں
محمد فہد خان ۔ شکاگو
منتخب مصرعہ:
پوچھتے کیا ہو مقام مصطفیٰ ۔ صبا اکبر آبادی
”پوچھتے کیا ہو مقام مصطفیٰ
بعد رب کے بس ہے نام مصطفی
ہو نہیں سکتا کہ وہ ناکام ہو
جو جیا ہو بر پیام مصطفیٰ
عرفان عارف عرفان انڈیا
منتخب مصرعہ: نگاہ جاں کو قرار آگیا ۔ صبا اکبر آبادی
زباں نے صدا دی حبیب خدا
تڑپتے دلوں کو قرار آگیا
منور ہوئی سبز گنبد کی چھاﺅں
زمانے کے رخ پر نکھار آگیا
جناب مظفر نایاب۔قطر
منتخب مصرعہ: نگہ ترستی ہے طیبہ کے بام و در کے لئے ۔ صبا اکبر آبادی
مجھے مدینہ پہنچنا ہے مستقر کے لئے
نبی کے شہر میں رہنا ہے عمر بھر کے لئے
دل حزیں کی تڑپ صاحب مدینہ ہیں
نگہ ترستی ہے طیبہ کے بام و در کے لئے
شعیب ناصر ۔ ٹورانٹو، کینیڈا
منتخب مصرعہ:
نگاہ جہاں کو قرار آگیا ۔ صبا اکبر آبادی
وہ آئے تو دور بہار آگیا
نگاہ جہاں کو قرار آگیا
وہ عالم کی رحمت حبیب خدا
وہ آئے تو ہرجا نکھار آگیا
رئیس اعظم حیدری۔ کلکتہ انڈیا
منتخب مصرعہ: ذکر احمد کے سوا دل کا سکوں ناممکن ۔ صبا اکبر آبادی
شان میں نہیں نعت پڑھوں ناممکن
میں نہیں شاعر اسلام بنوں ناممکن
کوئی مداح نبی نعت پڑھے اور اسے
میں نہیں نعت محمد کو سنوں ناممکن
احمد علی برقی اعظمی ۔ نئی دہلی انڈیا
منتخب مصرعہ:
طلوع صبح میں بدلی جہاں کی تیرہ شبی ۔ صبا اکبر آبادی
فروزاں جب ہوا فضل خدا سے نور نبی
طلوع صبح میں بدلی جہاں کی تیرہ شبی
نہیں ہے ان کے سوا کوئی رحمت عالم
نہ بد دعا کی کسی کے لئے زباں سے کبھی
رشید شیخ ۔ شکاگو
منتخب مصرعہ: پوچھتے کیا ہو مقام مصطفی ۔ صبا اکبر آبادی
عرش پر جن کو بلاتا ہے خدا
پوچھتے کیا ہو مقام مصطفی
ہو درود و ذکر ان کا بر زباں
عاجزی سے ہو سلام مصطفی
ڈاکٹر ناہید کیانی ۔ یو کے
منتخب مصرعہ:
غبار جاں ہے فدائے محمد عربی ۔ صبا اکبر آبادی
محترم جناب تنویر پھول صاحب ۔ نیویارک
منتخب مصرعہ:
پوچھتے کیا ہو مقام مصطفی ۔ صبا اکبر آبادی
رب نے لازم کی ہے توقیر رسول
فرض سب پر احترام مصطفی
حق نے ”ما اوحیٰ“ کہا ظاہر ہوا
عرش پر وہ ہم کلام مصطفی
ڈاکٹر عبدالرحمن عبد ۔ نیویارک
منتخب مصرعہ:
زبان شوق پہ آیا اس احترام کے ساتھ۔ صبا اکبر آبادی
سجی ہے محفل ہستی اس اہتمام کے ساتھ
ہے ذکر نام محمد خدا کے نام کے ساتھ
غلام صاحب خلق عظیم ہیں ہم لوگ
ملی مثال عمل بھی ہمیں پیام کے ساتھ
صدر مشاعرہ محترم جناب قمر وارثی
منتخب مصرعہ:
سب رونق حیات ہے ذات حضور سے ۔ صبا اکبر آبادی
ہم بے شعور تھے ہوئے واقف شعور سے
آیا یہ انقلاب نبی کے ظہور سے
اے شاہ دیں یہ آپ کا احسان ہے عظیم
واقف کیا ہے آپ نے رب غفور سے
اس کے بعد صبا اکبر آبادی کے بڑے صاحب زادے صوت جعفر نے سب کا شکریہ ادا کیا اور راقم الحروف کی دعا پر اس پر نور محفل کا اختتام ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں