ریاست جمہوریہ/عسکریہ پاکستان 100

درمیانی راستہ نکالنا ہوگا

حالات اور واقعات ثابت یہ کررہے ہیں کہ مسئلہ اتنا سادہ نہیں جتنا بیان کیا جارہا ہے۔ اسمبلیوں کی تحلیل کے اعلان سے لے کر اتحادی حکومت کی پارلیمنٹ میں تحریک انصاف کو واپسی کی دعوت تک درپردہ کچھ اور قصہ سنا رہا ہے۔ تحریک عدم اعتماد سے لے کر سابق سپہ سالار کی مدحت بھی کچھ پوشیدہ ابواب ظاہر کررہی ہے۔ پاکستانی سیاست جوڑ توڑ اور شعبدہ بازی میں جو مہارت رکھتی ہے وہ بے مثال ہے۔ درونِ خانہ سیاستدانوں نے ہمیشہ اپنے مفاد کو مدِنظر رکھا ہے۔ زیرک کھلاڑی کبھی اپنے باہم رابطے منقطع نہیں کرتے، یہ ہی پاکستان میں اقتدار کی دوڑ اور کھیل کا اُصول ہے۔
اپریل 2022ءسے حالات نے جو رنگ پکڑا ہے وہ اب آہستہ آہستہ کھل کر سامنے آرہا ہے۔ ایک ایسی مخلوط حکومت جو خود اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکتی اور جو ببانگِ دہل یہ اعلان کرتی ہے کہ ”پاکستانی قوم بھکاری ہے اور اپنی عزت کرنے اور کروانے میں بے اختیار ہے“۔ جس کا وزیر خارجہ بین الاقوامی سطح پر اپنی ہی حکومت کی خارجہ پالیسی کے متصادم بیان دیتا ہے اور بیرونی آقاﺅں کے سامنے ہاتھ باندھ کر اور سر جھکا کر یہ تاثر دیتا ہے کہ میں تو درحقیقت Internship پر ہوں جس کے پارلیمان میں اکثریت ان لوگوں کی ہو ج قبل از گرفتاری ضمانت پر ہوں۔ جہاں حکومت جس کے وزراءکے بقول ”زہر کھانے کے پیسے نہیں رہے“ میں 80 افراد پر مشتمل وفاقی کابینہ ہو جن کی تنخواہ اور مراعات قومی سرکاری خزانے سے ادا کی جارہی ہوں۔ جہاں کے وزیر اعظم کو ایک کثیر التعداد حواریوں کے ساتھ بیرون دورے کرنے کا شوق ہو اور وہ بھی ایک ایسے دور میں جب پوری دنیا میں ورچوئل میٹنگز مقبول ہو رہی ہوں۔ جہاں معیشت زبوں حالی میں مبتلا ہو، وہاں ایسی مصروفیات کا کوئی جواز نظر نہیں آتا مگر لگتا یوں ہے کہ سوائے ذمہ داران کے ہر پاکستانی شہری اس وقت ملک کے حالات سے آگاہ اور پریشان ہے کہ آگے چند دنوں میں کیا ہونے والا ہے۔
معیشت تباہی کے آخری دہانوں پر کھڑی، معاشی ماہرین بد سے بدتر امکانات کی نشاندہی کررہے ہیں مگر حکومت بضد ہے کہ ہم نے سیاست پر سیاست قربان کرکے بہترین حکمت عملی کی طرف گامزن ہیں۔ ن لیگ دور کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار جس طمطراق سے وارڈ ہوئے تھے اس دعویٰ کے ساتھ کہ یکسر معیشت میں بہتری آجائے گی، روپے کی قدر میں اضافہ ہو جائے گا دیگر اس اعلان کے ساتھ کہ وہ بخوبی آئی ایم ایف سے نبردآزما ہونے کے تمام ہتھکنڈوں سے واقف ہیں کیونکہ اس سلسلے میں ان کا وسیع تجربہ ہے وہ انہی تمام دعوﺅں کے ساتھ معاشی افق سے کہاں غائب ہیں، کوئی خبر نہیں۔ روپیہ اپنی قدر تیزی سے کھو رہا ہے، ڈالر کی اسمگلنگ بدستور زور و شور سے جاری ہے۔ انڈسٹریز پر تالے لگ رہے ہیں۔ ایکسپورٹ زیرو پوائنٹ پر آچکی ہے۔ مالیاتی خسارہ آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ بقول حکومتی ارکان انتہائی مشکل سے وفاق کے اخراجات پورے کئے جارہے ہیں۔ اب کوئی بھی دوست ملک مددگار ہونے کے لئے حامی بھرتا نطر نہیں آتا۔ مہنگائی عروج پر ہے، زندگی دشوار ترین ہوتی جارہی ہے، توانائی کا شعبہ برباد ہو چکا، بجلی، گیس اور پیٹرول نایاب ہوتے جارہے ہیں اور ایوان اقتدار ان تمام مسائل سے بے بہرہ اپنے مفادات کی حفاظت میں مصروف ہے۔ 13 جماعتی اتحاد اقتدار ہاتھ سے کھونے کو تیار نہیں، خاص کر ن لیگ قلعہ لاہور کی فتح جیسے ”سنگین“ مسئلہ پر مصروف ہے۔
تحریک انصاف کے اسمبلی تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد جو مشاہدات سامنے آئے انہوں نے پاکستانی سیاست کے اور بھی رنگ کھول دیئے۔ شبہات کے کئی در نیم وا کردیئے، گو کہ بظاہر اعلانات یہ ہی ہوتے رہے کہ تحریک انصاف اور ق لیگ کا اتحاد مضبوط ہے مگر یقینی طور پر درپردہ کچھ متحرک عوامل جاری نظر آئے۔ ق لیگ ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ سے قریب جماعت مشہور رہی ہے۔ پھر پرویز الٰہی ابتداءہی سے اسمبلیوں کی تحلیل کی حمایت میں نظر نہیں آئے۔ اسمبلیوں کے ختم ہو جانے پر اتحادی حکومت جن مشکلات میں مبتلا ہو گئی وہ بھی عیاں ہے۔ حکومت کے لاکھ دعویٰ کرنے کے باوجود کہ جیسے ہی اسمبلیاں تحلیل ہوں گی ضمنی الیکشن کروادیئے جائیں گے۔ حکومت کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ یہ ایک مشکل ترین صورت حال ہو گی اور لامحالہ الیکشن جنرل کی طرف جانا پڑے گا۔ اور اسی پریشانی کے عالم میں نہ صرف وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک شروع کردی گئی بلکہ 48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اس پر عملدرآمد کی قدغن بھی لگا دی گئی۔ اس کے بعد ایک اور سلسلہ کی ابتداءہو گی جس میں اسپیکر پنجاب اسمبلی، گورنر پنجاب اور لاہور ہائی کورٹ سب نے اپنے کردار ادا کئے۔ گورنر نے وزیر اعلیٰ کی برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ عدالت نے پرویز الٰہی کی اس یقین دہانی کے بعد کہ وہ اسمبلی تحلیل نہیں کریں گے جب تک اعتماد کا ووٹ نہیں لے لیتے، کابینہ سمیت انہیں عہدہ پر بحال کردیا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ واقعہ کب رونما ہو گا۔ تحریک انصاف اس یقین دہانی پر مضطرب ہے، ق لیگ نے کیا کوئی قدم اٹھانے کی تیاری کرلی ہے۔ امکانات ردنہیں کئے جا سکتے۔ ہو سکتا ہے اس امر پر اتفاق ہو چکا ہے کہ اگر عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے جس کا دعویٰ ن لیگ کررہی ہے تو پرویز الٰہی بدستور وزیر اعلیٰ قائم رہیں گے۔ اتحادی حکومت اس سے قبل بھی انہیں یہ پیش کش کرچکی ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ انہوں نے تحریک انصاف کی حمایت جنرل باجوہ کے اصرار پر کی تھی جس طرح انہوں نے عمران خان پر محسنوں سے روگردانی کا تذکرہ کیا اس سے ظاہر یہ ہی ہو رہا ہے کہ ہدایات کا سلسلہ قائم ہے۔ تحریک انصاف اس وقت یقینی طور پر کچھ تذبذب کا شکار ہے، باوجود اس کے کہ مونس الٰہی عمران خان سے ملاقات میں یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم نے اسمبلی تحلیل کی سمری دستخط کرکے عمران خان کے حوالے کردی ہے اور ہم ساتھ کھڑے ہیں۔ سیٹ ایڈجسٹمنٹ آئندہ انتخابات کے لئے کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں مگر تمام حالات اور ن لیگ کا دعویٰ کہ عدم اعتماد تحریک کامیاب بنائی جائے گی، لمحہ فکریہ ہے، پی ٹی آئی کے لئے۔ اگر ق لیگ کسی راستے کی طرف چل نکلتی ہے تو یہ تحریک انصاف کے لئے پریشان کن صورت حال ہو گی۔
الیکشن کمیشن نے سندھ کے بعد اب اسلام آباد میں بھی بلدیاتی انتخابات موخر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ تحریک انصاف اپنے موقف اور مطالبہ پر قائم ہے کہ ریاست پاکستان اس وقت جن دشواریوں سے گزر رہی ہے اس کا بہترین حل یہ ہی نظر آتا ہے۔ تمام سنجیدہ حلقوں کی جانب سے بھی یہ ہی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سیاسی عدم استحکام ریاست کی سالمیت پر بری طرح اثر انداز ہو رہے ہیں۔ حالیہ دہشت گردی کے واقعات نے تمام اداروں اور پاکستان کی دفاعی صورت حال پر نظر رکھنے والوں کو تشویش میں ڈال دیا۔ اندرونی خلفشار کا فائدہ ہمیشہ ریاست کے دشمنوں کو ہوتا ہے اگر پاکستان کی سلامتی تمام سیاسی حلقوں کو منظور ہے تو پاکستان میں استحکام کی صورت نکالنی ہوگی۔ انتخابات کی طرف جانا ہوگا۔ 13 جماعتی اتحاد میں مگر اس سمئلہ پر دراڑیں نظر آتی ہے۔ ان کا خوف اپنی جگہ پر درست ہے۔ پی پی پی تو شاید پھر بھی دوبارہ حکومت سندھ میں بنانے میں کامیاب ہو جائے مگر جے یو آئی تو شکست سامنے دیکھ رہی ہے۔ ن لیگ اپنی اکثریت ثابت کرنے میں شاید اس وقت کامیاب ثابت نہ ہو سکے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کی مقبولیت ایک حقیقت ہے، یہ خیال ہی 13 جماعتی حکومت کی صفوں میں لرزہ پیدا کردیتا ہے۔ حکومتی وزراءجو بیانات اس سے انحراف کرتے ہوئے دیتے ہیں وہ برعکس نتیجہ ثابت کرتے ہیں۔ کچھ اتحادی دانشور جو میدان میں اتارے گئے پچھلے دنوں ان کی پریس کانفرنسوں نے سیاستدانوں کی عقلی اور تہذیبی سمجھ داریوں کا اور بھی جنازہ نکال دیا۔ سیاسی اخلاقیات تو درکنار گمان یہ ہونے لگا کہ کہیں یہ ہوش و ہواس سے عاری تو نہیں۔
خبریں یہ بھی گردش کررہی ہیں کہ پولیٹیکل انجینئرنگ کے تحت اب یہ بھی کوشش کی جارہی ہے کہ سندھ میں تحریک انصاف کی مقبولیت کا گراف گرانے کے لئے ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں کو ایک بار پھر یکجا کردیا جائے۔ سندھ کا نیا گورنر اس حکمت عملی کی ایک کڑی ہے۔ کچھ حلقوں میں اس پر بھی غور و فکر جاری ہے کہ اگر الیکشن ہوئے تو تحریک انصاف اکثریت سے آجائے گی تو کیوں نہ اگلے ایک یا دو سال کے لئے ٹیکنوکریٹ حکومت بٹھا دی جائے۔ ملک کے موجودہ حالات کا عذر لے کر۔
حکومتی وزراءاپنے آپ کو دلاسہ دیتے نظر آتے ہیں بجائے عوام کو یقین دلانے کے کہ عمران خان کی مقبولیت اور تحریک انصاف ختم ہو چکی۔ ضرورت فی الوقت یہ ہے کہ وقت کے تقاضا کو سنجیدگی سے سمجھا جائے۔ پاکستان معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام کے عروج پر پہنچ چکا ہے۔ عالمی طور پر ہم اس وقت اسی نطر سے دیکھے جارہے ہیں۔ اس کا اور ہر سیاسی جماعت کی ذمہ داری ہے کہ کچھ لو اور کچھ دو کی حکمت عملی کو اپنانے کا وقت ہے۔ درمیانی راستہ نکالنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں