ٹرمپ کا دوسری ٹرم کا خواب چکنا چور ہو گیا 100

دفاعی ادارے، دفاعی پوزیشن میں

پاکستان کی سیاست میں 16 اکتوبر کے گوجرانوالہ جلسہ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پاکستان کے عسکری ادارے کے سربراہ جناب جنرل باجوہ پر تابڑ توڑ حملوں کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری جنگ میں شدت آگئی تھی اور یہ معاملہ زیر بحث تھا کہ ”اب کیا ہو گا“ لوگ اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کررہے تھے کہ بہت جلد مسلم لیگ نواز میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جائے گی مگر کراچی جلسہ نے صورتحال کو یکسر پلٹ کے رکھ دیا ہے۔ کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری نے پورے سین کو تبدیل کردیا اور وہ لوگ جو فوج کے سربراہ پر کئے گئے حملہ پر تذبذب کا شکار تھے، سندھ میں کٹنے والی ایک ایف آئی آر کی جانب توجہ کر چکے ہیں جس کے لئے سندھ پولیس کے آئی جی کو اغواءکیا گیا اور اسے کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف ایف آئی آر کاٹنے کے لئے دباﺅ ڈالا گیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ سب کچھ کراچی میں برسوں سے موجود رینجرز نے کیا اور یوں ملک کی عسکری قیادت نے اسے اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے اور سندھ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کو حبس بے جا میں رکھ کر جو تماچہ سندھ حکومت کے منہ پر مارا ہے اس کی بازگشت دور دور تک سنی گئی مگر حیرت اور افسوس ہے کہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان کو اس واقعہ کی سنگینی کا کوئی اندازہ نہیں، یوں جو خلاءپیدا ہوا اسے پُر کرنے کے لئے عسکری قیادت کے سربراہ جنرل باجوہ کو بذات خود میدان میں اترنا پڑا اور بجز اس کے کہ وزیر اعظم عمران خان اس واقعہ کی مذمت کرتے اور تحقیقات کا حکم دیتے اس کی جگہ یہ کام آرمی چیف کو کرنا پڑا، جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ ملک کا اصل حکمران کون ہے اور ملکی معاملات کی نگرانی کون کررہا ہے یقیناً یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر نے مزار قائد پر نعرے بازی کرکے بانی پاکستان کے مزار کی بے حرمتی کی اور وہ قائد جو کہ مادر آف نیشن ہیں اور ملک کی تمام پارٹیز کے لئے یکساں حیثیت رکھتے ہیں کسی ایک پارٹی کا وہاں نعرے بازی کرنا قابل شرم اور قابل مذمت ہے۔ مگر یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ جب ملک کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے قائد اعظم کے مزار کا دورہ کیا تھا اور حاضری دی تھی اس وقت بھی یہی کچھ ہنگامہ اور افراتفری دیکھنے میں آئی تھی۔ کسی کی قبر پر جانا اور فاتحہ خوانی کرنا ایک سنجیدہ فریضہ ہے اور جسے ادا کرنے کے کچھ پروٹوکول ہیں مگر ہم جذبات میں شاید سب کچھ بھول جاتے ہیں یا پھر ہم لاعلم ہیں اور جہالت کے ایک ایسے درجہ پر فائز بھی کہ جہاں ہمیں ان مقامات کی اہمیت کا ادراک نہیں۔ جہاں تک کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کا تعلق ہے اس پر اس قدر شدید ردعمل شاید نہ آتا اگر یہ کام قانونی طریقہ کار کے مطابق کیا جاتا مگر جس بھونڈے انداز میں کیپٹن صفدر کو گرفتار کیا گیا اس نے پوری سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی کو مخمصے میں مبتلا کردیا وہ تاثر جو نواز شریف کی 16 اکتوبر کی تقریر کے بعد فوجی سربراہ سے ہمدردی میں ابھرا تھا رینجرز کی کراچی میں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کی ایف آئی آر کے سلسلہ میں آئی جی سندھ کے اغواءکے باعث یکسر تبدیل ہو گیا اور فوجی قیادت کو شدید دھچکا لگا اور یہ ثابت ہو گیا کہ کراچی میں اور ملک کے دیگر صوبوں میں فوج اور رینجرز لوگوں کو دباﺅ میں لینے کے لئے اس قسم کے اقدامات کرتی رہی ہے۔ یوں اس بیانیہ کو بھی تقویت ملی کہ ملک میں لاپتہ افراد کے کیس میں بھی عسکری اداروں کا ملوث ہونا ممکن ہے۔ سندھ حکومت نے اور سندھ پولیس نے رینجرز کے اس عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور یوں آرمی چیف جنرل باجوہ کو بلاول بھٹو کو فون کرکے واقعہ کی مذمت اور صاف و شفاف تحقیقات کرانے کا وعدہ کرنا پڑا ہے۔ یوں ہماری عسکری قیادت پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور تجزیہ نگار ایک دوسرے سے سوال کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ اب اس واقعہ کے بعد اور 16 اکتوبر کے نواز شریف کے آرمی چیف جنرل باجوہ پر کھلی تنقید کے بعد اور انہیں چارج شیٹ کرنے کے بعد آرمی کے سربراہ کا مستقبل کیا ہوگا؟ لگتا یہی ہے کہ موجودہ آرمی چیف بہت جلد لمبی رخصت پر چلے جائیں گے اور ہماری اسٹیبلشمنٹ کو آنے والے دنوں میں اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا وگرنہ ملک میں وہ انتشار پیدا ہونے کا اندیشہ ہے کہ جسے سوچ کر روح کانپ جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں