اب کی باری میاں صاحب کی باری 26

دو لسانی جماعتیں، ایم کیو ایم اور سندھ پیپلزپارٹی

جس طرح الطاف حسین پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے کراچی میں دہشت گردی کو فروغ دیا اس ہی طرح آصف علی زرداری پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے ملک میں اور صوبہ سندھ میں بالخصوص معاسی دہشت گردی کو عام کیا۔ فرق یہ ہے کہ اس نے صوبہ سندھ میں اپنے ساتھ ساتھ کرپشن میں اپنے ہم زبان لوگوں کو بھرپور استعمال کیا اور کچھ اردو اسپیکنگ کو بھی شامل کیا۔ الطاف حسین نے صرف اپنے ساتھ اردو اسپیکنگ ہی شامل رکھا۔ آصف زرداری نے اپنی جماعت کو سندھ کی حد تک صرف ایک لسانی جماعت کی حیثیت سے فروغ دیا۔
الطاف حسین نے جب فوج کو گالیاں دیں تو اردو اسپیکنگ نے اس کا ساتھ دینے سے انکار کردیا جب کہ آصف زرداری نے فوج کے بارے میں یہ بیان دیا کہ ”ہم ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے“ تو پوری سندھی قوم اس کے پیچھے کھڑی ہو گئی۔ یوں جواب میں جب اس کے خلاف کارروائیوں کا آغاز ہوا تو اس نے فوج سے فوراً مفاہمت کرلی۔ سب سے پہلے تو بلوچستان میں نواز لیگ کی حکومت گروا کر سینیٹ کا چیئرمین فوج کی مرضی کا بنوایا پھر جب اس کے خلاف تمام جماعتوں نے عدم اعتماد کی تحریک چلائی تو پھر آصف زرداری نے خاموشی سے فوج کی حمایت کرکے اس تحریک کو ناکام بنایا۔ اس طرح اپنی کرپشن کو بچا کر تمام توپوں کا رخ مہاجروں کی طرف کروانے میں کامیاب ہوگیا۔ یوں اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جھوٹوں کا بادشاہ ہے اس کے جھوٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے جھوٹ میں اس کے تمام ساتھی شریک ہیں جو اس کے جھوٹ کے ہمنوا بن کر حمایت کرتے ہیں۔ سندھ میں زرداری کی پیپلزپارٹی کا کردار بھی ایم کیو ایم کی طرح ایک لسانی تحریک میں شمار کیا جاتا ہے لیکن جھوٹے پروپگینڈے میں قومی پارٹی ہے یوں تو بڑے بڑے لوگ جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں بلکہ جو لوگ جتنے با اختیار اور زیادہ عقلمند ہوتے ہیں اتنا ہی بڑا جھوٹ بولتے ہیں۔ جیسا کہ ہماری سیاست کا خاصہ ہے۔ جس طرح جنرل جیلانی کی حکومت میں نواز شریف کو نورجہاں کی سفارش پر وزیر بنایا گیا تھا اس ہی طرح بیگم ناہید اسکندر مرزا کی سفارش پر نصرت بھٹو نے نوجوان ذوالفقار علی بھٹو کو وزیر بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ تھی اقتدار کے زینے پر بھٹو کا پہلا قدم جس کا انجام آج کل حاکم علی زرداری کے وارث آصف علی زرداری ہے جس کو آج کل کی سیاست کا بادشاہ سمجھا جاتا ہے جس نے بھٹو کی پیپلزپارٹی پر آج کل اپنی گرفت مضبوط کر رکھی ہے۔ اس سیاست کے میدان میں قربانیاں ذوالفقار علی بھٹو اور اس کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے دی اس قربانی کا پھل بلاول علی زرداری اور بخت آور آصفہ کی صورت آصف زرداری کی جھولی میں آن گرا۔ آصف علی زرداری کی پیپلزپارٹی نے سندھ کے شہری علاقوں کے لوگوں کے ساتھ جو کیا وہ کھلم کھلا کیا۔ آج کے شہری معاشرے کی ابتر حالت سب کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہے اس دھکتے سمندر کی سطح پر فوج اور رینجرز نے جس طرح سے قابو پایا ہوا ہے وہ ایک خاص مدت تک دیرپا ثابت نہ ہو گا وہ ایک مستقل حل کی صورت کسی طرح قابل عمل نہیں رہ سکتا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے ذوالفقار علی بھٹو نے سندھی عوام کی خاطر قربانیاں دیں اس کا مقام آج سندھ کے عام لوگوں میں شاہ لطیف کے بعد سب سے زیادہ عزت کا مقام کا حامل ہے اس ہی طرح بے نظیر نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے جو خدمات پیش کیں اس کا ازالہ سندھی عوام نے ان کے نام پر چوروں لٹیروں کو ووٹ دیا مگر بھٹو کی پھانسی کے وقت ان کے لیڈر یا تو شادیاں رچا رہے تھے یا خومشی سے اپنے اپنے اوطاقوں میں دبکے بیٹھے تھے اس ہی طرح بے نظیر کے 27 دسمبر کے موقع پر جاں بحق ہونے پر اندرون سندھ معمولی لوٹ مار کے کوئی بڑا احتجاج سامنے نہیں آیا۔ جب کہ سندھ کے شہری علاقوں میں زیادہ بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات پیش آئے تو اس موقع پر آصف علی زرداری نے بے نظیر کے متنازع وصیت نامہ کا سہارا لے کر اور پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر ملک کی صدارتی کرنسی کا سودا کیا۔ اسی طرح گزشتہ گیارہ سالوں میں اندرون سندھ میں ذوالفقار علی بھٹو کے مزار کے ساتھ ساتھ بے نظیر کا خوبصورت مقبرہ اور آصف علی زرداری کے قریبی دوستوں، وڈیروں کے عالی شان گھروں اور محلوں کے علاوہ ان کی جاگیروں پہ کام کرتے ہوئے چاروں کے حالات زندگی کو دیکھ کر موہنجودڑو کی تہذیب کے آثار بھی ان سے بہتر دکھائی دیتے ہیں۔ اگر اندرون سندھ کے رہنے والے سندھی باشندے بھٹو کی پھانسی کے وقت یا بے نظیر کے راولپنڈی میں جاں بحق ہونے پر اس ہی طرح اپنا خون بہا دیتے تو ان کی حالات میں شاید بہتری آجاتی۔ جس طرح 27 سالوں سے لندن سے بیٹھ کر اور اس سے پہلے الطاف حسین کی خاطر مہاجر عوام ووٹ کے ساتھ نوٹ دے رہے ہیں اور اس پر تقریباً بیس ہزار لوگوں کا خون کا نذرانہ پیش کرتے رہے اپنی تین نسلوں کی قربانی دے کر تاریخ کے اندھیروں میں گم ہوتے جارہے ہیں۔ اگر یہ ہی قربانی سندھی زبان بولنے والوں نے بھٹو اور بے نظیر کی خاطر دی ہوئی تو شاید وہ بھی جدید تہذیب کی سہولتوں سے فیض یاب ہو رہے ہوتے لیکن ذوالفقار علی بھٹو اور اس کی بیٹی کے نصیب میں ایسی قوم نہیں تھی جو کہ اپنے لیڈر کی خاطر اس کے حکم پر اپنی تین نسلوں کی قربانی کے ساتھ 20 ہزار نوجوانوں کی قربانیاں اور ووٹ کے ساتھ نوٹ جیسا کہ محتدہ کے قائد کے حکم پر سندھ کے شہری نوجوانوں نے زبردست قربانی پیش کی۔
سندھ کی تاریخ کے آخری دور کا مشاہدہ کیا جائے اور عوام کی حالت زار کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس پاکستان میں جن افراد نے اور طبقات نے اپنی قربانی جس مقصد کے لئے پیش کی ان کی قربانی ایک طرح سے ضائع ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سندھ اور پاکستان کے عوام کی خاطر اپنی جان کی قربانی، ضیائ الحق کی آمریت سے ٹکرا کر پیش کی۔ سندھ کے لوگوں کی حالت دیکھ کر یوں محسوس ہورہا ہے کہ ان کی قربانی ایک طرح سے ضائع ہو چکی ہے یہ صورت حال بے نظیر کی قربانی کو دیکھ کر محسوس ہوتی ہے۔ یعنی بھٹو اور اس کی بیٹی نے جن طبقات کی خاطر اپنی اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کیں ان کی حالت میں بہتری کے بجائے وقت کے ساتھ ساتھ ابتری ہی دکھائی دیتی ہے۔ ان قربانیوں کا سندھ کے عوام کی حالت میں کسی قسم کی مثبت تبدیلی دور دور تک دکھائی نہیں دے رہی۔ سوائے زرداری خاندان کی غیر معمولی انداز میں تیزی سے ملک کے امیر کبیر خاندانوں میں شمولیت کے۔ اس ہی طرح سندھ کے شہری علاقوں کے باشندوں کی گزشتہ تیس سالوں کی قربانیوں کے اثرات متحدہ سے تعلق رکھنے والے لیڈر کے زندگی جس تیزی سے غربت سے نکل کر اعلیٰ مقام کا حامل ہوا ہے اس سے بھی یہ ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بالائی سندھ کے باشندوں کو ان کی تین نسلوں کی قربانی کا صلہ کیا ملا۔ انہوں نے متحدہ کی خاطر کس طرح اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا، کس طرح وقت آنے پر نوٹوں کی بوریاں کھول کر ان کو مکمل سپورٹ کیا۔ انتخابات میں ان کے رہنما?ں کو کونوں کھدروں سے نکال کر اپنے نوٹ خرچ کرکے ان کو اتنے بھرپور انداز میں کامیاب کروایا اس سے ان کو کیا حاصل ہوا سوائے محرومیوں، مایوسیوں، غربت افلاس کے۔ یعنی قربانی دینے والے عوام بھی جن کا تعلق سندھ کے شہری علاقوں سے تھا اس طرح سندھ سے تعلق رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی قربانیوں کا صلہ فریال تالپور اور آصف علی زرداری کی صورت ملا۔ یہ ہی ہے جھوٹ اور مکاری کا عملی مظاہرہ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں