Accidental discovery of metal-eating bacteria 22

دھات کھانے والا بیکٹیریا حادثاتی طور پر دریافت

کیلی فورنیا: کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (کال ٹیک) سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے ایسا بیکٹیریا دریافت کیا ہے جو دھات کھاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس بیکٹیریا کی موجودگی کا شبہ ایک صدی سے زائد عرصے تک تھا لیکن ابھی تک اس کا ثبوت نہیں مل سکا تھا۔
یہ چھوٹے مائکروبز اس وقت حادثاتی طور پر دریافت ہوئے جب سائنسدان ایک معدنی دھات مانگینیز، جو کہ آئرن کے ساتھ پایا جاتا ہے، پر غیر متعلقہ تجربات کر رہے تھے۔ کال ٹیک میں انوائرمینٹل مائیکروبیالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر جیرڈ لیڈبیٹر نے اپنے دفتر کے سنک پر مانگینیز لگا ایک گلاس چھوڑا۔
کیپمس کے باہر کام کی وجہ سے وہ کئی ماہ تک اپنے دفتر نہ آسکے لیکن جب وہ اپنے دفتر واپس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ اس گلاس پر سیاہ مواد لگا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ آکسڈیسائزڈ مانگینیز تھا۔ یہ مرکب بیکٹیریا نے بنایا تھا۔
سائنسدان اس سے قبل آگاہ تھے کہ بیکٹیریا اور فنگی مانگینیز کو اکسڈیسائز کرتے ہیں یا اسے اس میں موجود آلیکٹرونکس سے محروم کر سکتے ہیں لیکن ایسے مائیکروبز جو کہ اس عمل کو بڑھنے کے لیے استعمال کریں اس کا دریافت ہونا باقی تھا۔
سی این این کے مطابق جیرڈ لیٹربیڈ کا کہنا تھا کہ ‘یہ اس نوعیت کا پہلا بیکٹیریا ہے جو اپنے ایندھن کے طور پر مانگینیز کو استعمال کرتا ہے۔ یہ فطرت میں مائیکروبز کا ایک شاندار پہلو ہے کہ وہ ایسے عناصر جیسے کہ دھات جیسی چیزوں کو بھی ہضم کر سکتے ہیں اور اس کی توانائی کو کام میں لا سکتے ہیں۔’
انہوں نے مزید کہا: ‘اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ اس مخلوق سے تعلق رکھنے والے بیکٹیریا زمین میں موجود پانی میں رہتے ہیں اور پساڈینا کو فراہم کیے جانے والے پانی کا ایک حصہ مقامی اکوافائرز سے لایا جاتا ہے۔’
گراو¿نڈ واٹر یا زمین کی سطح کے نیچے موجود پانی مٹی میں پائی جانے والی دراڑوں، ریت اور چٹانوں میں پایا جاتا ہے۔
بیکٹیریا پانی میں موجود آلودگی کو صاف کرتا ہے اور اس عمل کو بیاریمیڈی ایشن کہا جاتا ہے جس میں مانگینیز آوکسائڈ کی مقدار کو ٹھیک اسی طرح کم کیا جاتا ہے جیسے انسان ہوا میں سانس لیتے ہیں۔
جیرڈ لیٹربیڈ کا کہنا ہے کہ تحقیق کرنے والے اب اس عمل کی کیمیسٹری کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں جس کے تحت ‘دوسرے مائیکروبز کو توانائی فراہم کر کے ان سے ردعمل میں فائدہ مند اور اپنی مرضی کا کام لیا جا سکتا ہے۔’
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ دریافت ان کو زمین کے عناصر اور زمین کے ارتقا میں دھاتوں کے کردار کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ مانگینیز کی بڑی مقدار عمومی طور پر سمندر کے نیچے زمین کی سطح پر گانٹھ کی شکل میں پائی جاتی ہے اور یہ چکوترے کے پھل جتنے حجم کی ہو سکتی ہیں۔
میرین ری سرچرز جو کہ 1873 میں ایچ ایم ایس چیلینجر پر کام کر رہے تھے وہ اس بیکٹیریا کی موجودگی سے آگاہ تھے لیکن وہ اس کی نوعیت کو بیان نہیں کر سکے تھے۔ حال ہی میں مائننگ کمپنیز نے اس بیکٹیریا کی چھوٹی گانٹھوں کو ایک نایاب دھات کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں