Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 74

روایتی بمقابلہ غیر روایتی

پاکستان کے روایتی سیاستدانوں اور خود روایتی صحافیوں کو عمران خان کی ایک غیر روایتی حکومت کی شکل میں انہونی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں پاکستان کے منجھے ہوئے سیاستدان اور اور مجھے ہوئے صحافی عمران خان اور ان کی حکومت کو پریشان اور چلتا کرنے کا تقریباً ہر حربہ استعمال کر چکے ہیں لیکن نہ تو عمران خان خود ٹس سے مس ہورہے ہیں اور نہ ہی ان کی حکومت۔۔۔
ملکی تاریخ میں پہلی بار مہنگائی کا بوجھ ملکی خزانے کے بجائے عوام کی جیبوں پر پڑا اور سیاستدانوں اور میڈیا کے شور مچانے کے باوجود ملکی عوام مہنگائی کے حوالے سے سڑکوں پر نہ نکلے کیونکہ عمران خان کے ذریعے انہیں مہنگائی کے اصل ذمہ داروں کا علم ہو چکا ہے اس لئے ملکی عوام حکومت اور نیب کی پشت پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے ایسے لگ رہا ہے کہ ملکی عوام بھی یہ چاہ رہی ہے کہ نیب ملکی خزانہ لوٹنے والے سیاستدانوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے یہ ہی وجہ ہے کہ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے شور مچانے کے باوجود انہیں ملکی عوام کی وہ پذیرائی نہیں مل رہی ہے جو انہیں ملنی چاہئے۔ جس سے یہ ہی تاثر ملتا ہے کہ ملکی عوام حقیقی معنوں میں تبدیلی چاہتے تھے اور جس طرح کی تبدیلی کے وہ خواہش مند تھے وہ تبدیلی کسی حد تک بارش کے پہلے قطرہ کی صورت میں انہیں عمران خان کی حکومت کی شکل میں مل گئی ہے اور اب اس پر ہی ملکی عوام نے اکتفا کرلیا ہے۔ ملکی عوام زرداری، شریف برادران، اچکزئی، مولانا فضل الرحمن اور ولی خان گروپ سے تنگ آچکے تھے وہ ان ہی گھسے پٹے سیاستدانوں کے بجائے کوئی نیا چہرہ کوئی نیا امنگ دیکھنا چاہتے تھے جو انہیں عمران خان کی صورت میں مل گیا۔ عمران خان سے تنگ آنے کے بعد بھی ملکی عوام ان پرانے آزمودہ سیاستدانوں کے بجائے کسی نئے چہرے کو ہی قبول کریں۔ گیس وہ زرداری یا شریف برادران کی اولادوں کو ہی قبول کرنے کو تیار نہیں ہو گی اور نہ ہی مولانا اچکزئی یا ولی خان کے کسی جان نشین کو۔۔۔
اس لئے اگر ہمارے ہاں کے روایتی سیاستدان اور صحافی عمران خان یا ان کی حکومت کو ختم بھی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنا روایتی ہتھیار اور گولہ بارود تبدیل کرنا ہوگا۔ وہ جس طرح کی بلیک میلنگ کا استعمال عمران خان کی حکومت کو گرانے کے لئے استعمال کررہے ہیں وہ یہ سلسلہ اگر سو سال بھی جاری رکھیں تو اس سے نہ تو عمران خان کا وہ کچھ بگاڑ سکیں گے اور نہ ہی ان کی حکومت کا۔۔۔ اس لئے کہ عمران خان روایتی نہیں بلکہ ایک غیر روایتی سیاستدان ہیں اس لئے ان سے مقابلہ کرنے کے لئے صحافیوں اور سیاستدانوں کو بھی غیر روایتی بننا ہوگا اس میدان کو چرب زبانی یا پھر استرکاری یا فوٹو سیشن سے نہیں بلکہ عملی طور پر کچھ کرنے سے ہی جیتا جا سکے گا اور عملی طور پر کچھ کرنے کے لئے نہ تو سیاستدانوں کے پاس کچھ ہے اور نہ ہی ہمارے قابل احترام صحافیوں کے پاس۔۔۔ اس لئے کہ ماضی کی روایتی حکومتوں نے کچھ نہ کرکے انہیں اتنا کچھ دے دیا کہ وہ اب کچھ کرنے کے قابل ہی نہ رہے یہ ہی وجہ ہے کہ انہیں عمران خان اور ان کی حکومت کے ساتھ ڈیل کرنے میں بہت ہی زیادہ مشکل پیش آرہی ہے۔ عمران خان کو حکومت سنبھالے ہوئے کوئی تین سال ہو گئے ہیں اور روز اول سے ہی سیاستدان اور میڈیا کا ایک بڑا گروپ ہاتھ دھو کر عمران خان کے پیچھے پڑ گیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک شاہد ہی میڈیا نے با جماعت ہو کہ کسی حکومت کی مخالفت کی ہو۔ حکومت بنانے اور گرانے کے دعویدار میڈیا ہاﺅس زور لگا چکے مگر وہ بھی عمران خان کا کچھ نہ بگاڑ سکے اس لئے کہ پاکستان کی مجموعی میڈیا کی آواز کے مقابلے میں خود عمران خان کا اپنا ایک ٹوئیٹ سو سنار کی ایک لوہار کے مصداق ثابت ہوتا ہے یعنی عمران خان کا ایک ٹوئیٹ پاکستان کے انگلش جرنلزم کی مٹی پلید کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ عمران خان پاکستان کا پہلا وزیر اعظم ہے جو نہ تو سیاستدانوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوا اور نہ ہی میدیا کے ہاتھوں۔۔۔ یہ ہی ان کے سچے اور دیانت دار ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے اس لئے کہ انہیں اپنی حکومت کو درست سمت پر لے جانے اور اچھے اقدامات کرنے کو اجاگر کرنے کے لئے معذرت کے ساتھ ”ڈھول بجانے“ والوں کی ضرورت نہیں ان کا کام اپنی تعریف آپ ہی ہوتا ہے جس طرح سے گولڈ یعنی سونے کو کچھ اپنی مارکیٹنگ یا پبلسٹی کی ضرورت نہیں پڑتی، اس طرح سے کام کرنے والا کا کام ہی اس کی پہچان اور شناخت بن جاتا ہے۔ اس لئے میری ملکی اپوزیشن اور میڈیا والوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی توپوں کا رخ ضرور عمران خان کی جانب ہی رکھیں ان پر درست اور تعمیری تنقید کریں یوں ہی ”بونگیاں“ نہ ماریں۔ مخالفت برائے مخالفت کرکے اپنا اور قوم کا وقت ضائع نہ کریں اس ملک اور اس میں رہنے والے عوام کا ہی احساس کریں، چوروں اور لٹیروں کی وکالت کرنا اور ان کے سہولت کار بننے کا سلسلہ اب خدارا بند کردیں اور عمران خان کو چاہئے کہ وہ ملکی عوام کی فلاح کے لئے مزید اقدامات کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں