اب کی باری میاں صاحب کی باری 122

سلطان جمیل نسیم۔۔۔ دلارے بھائی جان

آج میں ایک دبستان کھولنے کا آغاز کررہا ہوں۔ یہ دبستان ہے میرے بڑے بھائی اور استاد جناب سلطان جمیل نسیم کے حوالے سے جنہوں نے ساٹھ سال تک دو سو افسانے تحریر کرکے علم و ادب کی حرمت میں نہ صرف اضافہ کیا بلکہ خاموشی سے اپنے کام کو والد کے پیچھے چھپا کر صرف ہمارے صبا اکبر آبادی کے کلام کو تندہیس ے ادب کے چاہنے والوں کے سامنے پیش کرنے میں اپنی زندگی کے بہترین سال لگا دیئے۔
افسانہ نگار سلطان جمیل نسیم کے طرز تحریر، انداز بیان اور الفاظ کا سادہ چناﺅ ان کی تحریر سے واضح ہو جاتا ہے جو انہوں نے اپنے سوانحی خاکہ کو بیس سال کی عمر میں کیا۔ زندگی کے باقی ساٹھ سال جو انہوں نے افسانے تحریر کیا وہ ادب کے قاری کو اپنی آخری عمر تک پہنچاتے رہے۔
سلطان جمیل نسیم
(پیدائش: 14 اگست 1935ئ، آگرہ /وفات: 30جولائی 2020، کراچی)
ممتاز افسانہ نگار، ڈراما نگار اور شاعر تھے، جن کا اصل نام خواجہ سلطان جمیل تھا۔ ان کے والد خواجہ محمد امیر المعروف صبا اکبر آبادی تھے اور پاکستان ٹیلی ویژن کراچی کے سابق پروڈیوسر و جنرل مینجر تاجدار عادل، سلطان جمیل کے چھوٹے بھائی تھے۔ سلطان جمیل نسیم طویل عرصے سے ملک سے باہر کینیڈا میں قیام پذیر تھے تاہم کچھ عرصہ قبل اپنی ایک کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں کراچی آئے ہوئے تھے اور یہیں ان کا انتقال ہوا اور کراچی ہی کے سخی حسن قبرستان میں ان کی تدفین ہوئی۔
ریڈیو پاکستان کراچی سے مسلسل تین سال تک ایک ڈرامائی فیچر ”حامد منزل“ کے نام سے انہوں نے تحریر کیا تھا۔ سندھ یونیورسٹی میں ان کی شخصیت اور فن پر ایم اے کی سطح کے دو مقالے لکھے گئے ہیں۔ سلطان جمیل نسیم ”چشم بینا“ کے عنوان سے ڈاکٹر الیاس عشقی کے بارے میں چند باتیں اور کچھ یادیں تحریر کی تھیں مگر اس مضمون کا ایک طویل حصہ خود ان کی خودنوشت پر مشتمل ہے۔ یہی خودنوشت یہاں پیش ہے۔
جوانی جس کو شاعروں نے زندگانی کہا ہے جب منہ پھیر کر چل دیتی ہے تو پھر ہر حیلے ہر بہانے گزرے دن گزارنے اچھے لگتے ہیں۔ یہی حال آج میرا ہے مجھے 1955ءکے وہ دن یاد آرہے ہیں جب میں نے پہلی مرتبہ ریڈیو اسٹیشن کی حدود میں قدم رکھا اور وہاں ایک ایسے نوجوان بزرگ سے ملاقائی ہوئی جو آج تک بزرگی اور جوانی کو سنبھالے بیٹھے ہیں۔
حیدرآباد کے ہوم اسٹیڈ ہال میں ریڈیو اسٹیشن قائم ہوا تھا لیکن در حقیقت ہال کو مشاعروں اور اسٹیج ڈراموں کے لئے چھوڑ دیا گیا تھا جہاں مشاعرے تو کئی ہوئے لیکن ڈرامہ کوئی نہیں ہوا۔ ہال کو بالکل خالی نہ رکھنے کے لئے اسکرپٹ کاپی کرنے والے حضرات کو وہاں بٹھا دیا گیا تھا۔ ہال کے دونوں یعنی شمالاً اور جنوباً کمرے بنے ہوئے تھے، گیٹ سے داخل ہوں تو سامنے کی طرف ریجنل ڈائریکٹر سے لے کر پروگرام آرگنائزرس تک کے کمرے تھے اور پیچھے کی جانب اسٹوڈیوز بنائے گئے تھے۔ ریجنل انجینئر امتیاز رفیقی اور ان کے معاون نظیر احمد وڑائچ کے دفتر اور انجینئرنگ سیکشن کے برابر سے جو نیم روشن گول زینہ جاتا تھا اس کو طے کرکے اوپر پہنچیں، تو وہاں چار پروڈیوسرز بیٹھے نظر آتے تھے ایک چوہدری محمود الحسن تھے، دوسرے الیاس عشقی تیسرے ایم بی انصاری اور چوتھے مسعود احمد۔ علیک سلیک سب سے لیکن پہلی نظر میں جو شخص دل میں اتر گیا تھا، اٹھنا بیٹھنا اسی کے ساتھ اور دل میں اتر جانے والا وہی نوجوان بزرگ جس کے سر کے تمام بال سفید تھے، بھنوﺅں میں البتہ دو چار سیاہ بال چمک رہے تھے، چہرے پر وہی سرخی تھی جو سرخ پتھروں کے دیس کے شہزادے کے چہرے پر ہونا چاہئے۔
میں اس زمانے میں دسویں پاس کرنے کے بعد تفریحاً کراچی گیا تو وہاں یکے بعد دیگرے دو مشکلوں سے دوچار کر دیا گیا، پہلی بات تو یہ ہوئی کراچی پہنچنے کے تیسرے دن والد صاحب اپنے ساتھ لے گئے اور ایس ایم کالج میں داخل کروادیا۔ اردو کے استاد خان رشید سے ان کے مراسم تھے، اس زمانے میں پرنسپل ڈاکٹر غلام مصطفی شاہ مرحوم تھے اور وائس پرنسپل کوہاٹی صاحب۔ ابھی کالج جاتے ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے تھے کہ اپنے دوست سید حسن ظہیر جعفری کے ساتھ بھائی سے ملنے چلا گیا۔ سید ذوالفقار حیدر رضوی ڈویژنل انجینئر ٹیلی گراف اور ٹیلی فون کے محکمے میں شاید ہیڈ کلرک تھے۔ کراچی میں مارٹن روڈ کے کوارٹر میں رہتے تھے انہوں نے ہمیں میٹرک کے لئے بغیر معاوضہ کے تیاری کروائی تھی۔ بھرت پور کے رہنے والے تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے ہی صبا صاحب کی رثائی شاعری کے عاشق تھے ان کے بچے بھی ان کو بھائی کہتے تھے جن کی دیکھا دیکھی ہم بھی کہنے لگے۔ ہمارے میٹرک پاس کرنے کی خوشی ہم سے زیادہ بھائی کو ہوئی تھی لیکن جب انہوں نے یہ سنا کہ ہم نے ایس ایم کالج میں داخلہ لے لیا ہے تو لمحہ بھر کے لئے خاموش ہوئے پھر ان کی خوشی غصے میں بدلنے لگی۔
تم حیدرآباد سے تفریح کرنے آئے تھے یا کالج میں داخلہ لینے؟ کب تک بوجھ بنے رہو گے باپ پر؟ کوئی کام کرو ہاتھ بٹاﺅ صبا صاحب کا۔
ہمیں اپنے والد کے لئے بھائی کی یہ ہمدردی اچھی لگی، کہا لیکن ہمیں کوئی کام نہیں آتا۔ بھائی نے ہمیں جملہ پورا نہیں کرنے دیا، بولے۔
تمہیں انٹرنس پاس کرنا بھی نہ آتا تھا، ایک مرتبہ فیل ہو چکے تھے، وہ بھی ہم نے پاس کرایا ہے، اب نوکری دلانے کی ذمہ داری بھی ہماری۔ حیدرآباد میں گھر ہے تمہارا۔ وہاں چلے جاﺅ، فی الوقت تین مہینے تمہیں ٹیلی گراف آفس میں کام کرنا پڑے گا۔ بعد کی بعد میں دیکھیں گے، ابھی تو تم حیدرآباد کا ٹکٹ کٹاﺅ۔ اور یہاں پاپا نے جو کالج میں نام لکھوایا ہے؟ ہم نے منمنا کر پوچھا۔
وہ لکھا رہا گا۔ صبا صاحب کے تو تعقلات ہیں نا۔ بس آ کے امتحان دے دینا۔ اب زیادہ سوال و جواب کی ضرورت نہیں یہ مٹھائی کھاﺅ، چائے پیو اور کل ہمارے پاس دفتر آجاﺅ۔
بھائی کی بات ہم نے راز کی طرح اپنے دل میں رکھی، دوسرے دن ان کے دفترگئے، اپائٹمنٹ لیٹر وصول کیا، وہاں سے اٹھ کر والد صاحب کے پاس آئے، ذرا دیر چپ بیٹھے پھر کہا ”ابھی تو کالج میں داخلے ہو رہے ہیں، پڑھائی شروع ہونے میں دس پندرہ دن تو لگیں گے جب تک حیدرآباد ہو آتے ہیں۔ میرے والد اس زمانے میں صرف ایک کمرے میں رہ رہے تھے، مجھے سونے کے لئے کسی خالہ ماموں کے پائنتی یا سرہانے جگہ مل جاتی تھی تو پڑا رہتا تھا۔ میری بات سن کر انہوں نے حیدرآباد جانے کی اجازت کے طور پر دس روپے کا نوٹ دیا۔ اس زمانے میں حیدرآباد کا ٹکٹ ایک روپیہ دس آنے میں آتا تھا۔ اس غیر ضروری تفصیل پر ناک بھون نہ چڑھائیے، میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ گزرے دن گزارنے اچھے لگتے ہیں۔
ٹیلی گراف آفس کی ملازمت کا پے اسکیل کیا تھا یہ تو خبر نہیں۔ مہینہ بھر تک فائلوں کو خواہ مخواہ کھولنے بند کرنے کے 83 روپے 8 آنے مل گئے۔ عید بقر عید پر بھی دس پندرہ روپے عیدی میں جمع نہیں ہوتے تھے چنانچہ ہم خود کو شہنشاہ سمجھنے لگے۔ پاﺅں زمین پر نہ ٹکتے ہی نہ تھے۔ امی کو جا کے ساری تنخواہ دی۔ انہوں نے پہلے بلائیں لیں، پھر آٹھ آنے صدقے کے لئے تکیے کے نیچے رکھ دیئے۔ دو روپے کی مٹھائی منگا کر نیاز دی اور جیب خرچ کے لئے پانچ روپے دیئے۔ جس میں سے ہم نے آزاد بک ڈپو صدر جا کے تین روپے میں منٹو کی کتاب ”چغد“ خریدلی۔
ہماری ملازمت کی خبر جب والد صاحب کو ہوئی تو وہ خاصے برہم ہوئے جس کا اندزہ ان کے پوسٹ کارڈ سے ہوا۔ انہوں نے لکھا ”تم نوکری چھوڑ کر فوراً کراچی آجاﺅ اور پڑھائی شروع کرو“ مگر تراسی روپے آٹھ آنے، عدول حکمی کر نہیں سکتے تھے۔ امی کی طرف سے جواب لکھا کہ ابھی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، طبعیت ذرا ٹھیک ہو جائے پھر فوراً کراچی بھیج دوں گی۔
اس جواب کے پہنچنے سے پہلے ہی صبا صاحب حیدرآباد آگئے۔ وہ مجھ سے ناراض ہوتے تھے تو گھنٹے آدھے گھنٹے کے لئے بات کرنا چھوڑ دیتے تھے۔ اور یہ وقفہ میرے لئے سوہان روح بن جاتا تھا۔
یہی ہوا، آدھے گھنٹے بعد میں روتا ہوا ان کے قدموں میں جا بیٹھا۔ نوکری چھوڑنے اور کراچی آکر پڑھنے کا وعدہ کیا۔ تب انہوں نے بات چیت شروع کی اور بات چیت بھی کیا۔ پانچ سات منٹ سمجھایا کہ ایک چھوٹے اور عارضی فائدے کے لئے بڑے اور مستقل فائدے کو نظر انداز کر دینا عقلمندی نہیں ہے۔ کالج میں پڑھو گے، یونیورسٹی جاﺅ گے تو ذہن و فکر میں کشادگی پیدا ہو گی، وہاں کی تعلیم تمہیں جو کچھ دے گی وہ ان اسی پچاسی روپوں سے کہیں زیادہ ہو گا۔ میں نظریں اور گردن جھکائے ان کی باتیں سنتا رہا۔ آخر میں انہوں نے کہا میں پرسوں کراچی جارہا ہوں۔ میرے ساتھ چلنا۔ میں نے اقرار میں سر ہلا دیا۔
ماں بیٹے کی ملی بھگت، پاپا کو اکیلے کراچی جانا پڑا۔ غرض چار مہینے تک ٹیلی گراف آفس میں کلرکی کرکے تراسی روپے آٹھ آنے وصول کرتا رہا۔ آخر جن صاحب کی عوضی میں کام کررہا تھا وہ چھٹیاں گزار کے آگئے لیکن بھائی سید ذوالفقار حیدر رضوی نے کمال یہ دکھایا جس روز سے ٹیلی گراف آفس میں ملازمت ختم ہوئی اسی دن سے ٹیلی فون کے محکمے میں ٹرنک آپریٹر کی حیثیت کا اپائنٹمنٹ لیٹر آگیا۔ ایک ہی بلڈنگ۔ دفتر سے نکلے۔ ایکسچینج میں جا بیٹھے اور سونے پر سہاگہ تنخواہ میں دس روپے کا اضافہ بھی۔
جب میں ٹیلی فون آپریٹر کی حیثیت سے کام شروع کردیا تو میرے والد بہت رنجیدہ ہوئے انہوں نے اپنی دل شکستگی کا اظہار رعنا صاحب یعنی میرے نانا سے کیا۔ میرے نانا جن کو ہم سب لوگ ابا جان کہتے تھے وہ خاصے معاملہ فہم اور روپیہ پیسے کی قدر و قیمت سے واقف انسان تھے۔ بہت ٹپ ٹاپ میں رہتے تھے۔ مشاعرے میں جانے سے دو گھنٹے پہلے تیاری کرتے تھے۔ کلف لگے کرتے کی آستینوں میں چنٹ ڈالتے۔ چوڑی دار پائجامے کے پائنچے یکساں رکھتے یعنی جتنے بل ایک پائنچے میں اتنے ہی دوسرے میں۔ رگڑ کر شیو کرتے، جوتے پالش کراتے، شیروانی پر استری پھیری جاتی۔ کپڑوں پر عطر لگاتے، پھر ایک پھویا سیدھے کان میں اڑس لیتے۔ اور میرے والد ان کے بالکل ہی برعکس۔ ابا جان تیار ہو کر آواز دیتے صبا صاحب آئیے، تو وہ اٹھ کر کھونٹی پر ٹنگی شیروانی پہنتے ہوئے ساتھ ہو لیتے۔ ابا جان معائنہ کرتے۔ شیروانی سے باہر نکلتے ہوئے قمیض کے کالرکو اندر کرتے۔ خاص طور سے پائنچے جانچتے کہ کہیں نیچے اوپر تو نہیں ہیں۔
ابا جان نے میری والدہ کو اطمینان دلایا کہ انہوں نے صبا صاحب کو سمجھا دیا ہے، اسے نوکری کرنے دو۔
بس اطمینان سے ٹیلی فون کی نوکری ہورہی تھی کہ حیدرآباد میں ریڈیو اسٹیشن قائم ہو گیا۔ میں سوائے حمایت علی شاعر کے اور کسی نام سے مانوس ہی نہیں تھا اور اس کا سبب یہ تھا کہ حمایت علی شاعر صاحب کا نام کراچی ریڈیو سے نشر ہونے والے ڈراموں میں بھی سنا تھا اور اخباروں، رسالوں میں بھی پڑھا تھا۔
ابتداءمیں حیدرآباد ریڈیو سے براہ راست نشریات کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ دوسرے اسٹیشنوں کے ریکارڈ کئے ہوئے پروگرام نشر ہوتے تھے۔ لیکن یہ بہت قلیل عرصہ تھا۔ بہرحال اسی زمانے میں استاد اختر انصاری اکبر آبادی مشرب کی ادارت چھوڑ کے مستقلاً حیدرآباد آگئے۔ انکم ٹیکس آفس میں ایک آفیسر عبدالعزیز خالد تھے یوں حیدرآباد میں ادبی طور پر خاصی چہل پہل ہو گئی۔
سٹی کالج حیدرآباد میں تاریخ پڑھاتے تھے جناب عبدالقوی ضیائ، ضیاءصاحب ہوم اسٹیڈ ہال کے مقابل ایک عمارت کی پہلی منزل پر رہتے تھے۔ ”نئی قدریس“ کے نائب مدیران میں سے ایک تھے۔ ان کے گھر پر ایک تنقیدی نشست ہوئی، حیدرآباد ریڈیو کے ریجنل ڈائریکٹر حمید نسیم خصوصی طور پر شریک ہوئے، اس محفل میں مجھے افسانہ پڑھنا تھا۔ بیس بائیس حضرات موجود تھے۔ میں نے سوچا، مجھے اس طرح پڑھنا چاہئے کہ دروازے کے قریب جو صاحب تشریف رکھتے ہیں ان تک میری آواز پہنچے۔ جو صاحب میرے برابر تشریف فرما ہیں ان کو میری بلند آواز ناگوار بھی نہ گزرے۔ بہرحال اللہ کا نام لے کر افسانہ شروع کیا۔ جب ختم ہوا تو حمید نسیم صاحب کی آواز سنائی دی۔ اس پوری محفل میں انہوں نے افسانے کے تعلق سے دوسرا جملہ ادا نہیں کیا۔ افسانے پر تنقید What a rich voice ہوئی۔ زبان و بیان کی غلطیاں گنوائی گئیں۔ جب نشست ختم ہوئی تو چلتے ہوئے حمید نسیم صاحب نے مجھ سے کہا، کل دس گیارہ بجے ریڈیو آکر مجھ سے ملئے۔
اس سے پہلے میری حمید نسیم صاحب سے بات ٹیلی فون پر اس وقت ہوئی تھی جب نشریات شروع نہیں ہوئی تھیں۔ والد صاحب کا خط آیا تھا۔ حمید نسیم ہمارے دوست ہیں۔ ریڈیو کے ڈائریکٹر بن کے حیدرآباد پہنچے ہیں ان سے مل کر معلوم کر لینا کسی چیز کی اور کسی کام کی ضرورت تو نہیں ہے۔ میں نے براہ راست جانے کے بجائے ٹیلی فون کرکے والد صاحب کی بات ان تک پہنچا دی تھی اور ان کا شکریہ پوسٹ کارڈ میں لکھ کر والد صاحب کو بھیج دیا تھا۔
اب دوسرے دن مقررہ وقت پر حمید نسیم صاحب کے دفتر پہنچا۔ وہاں ایم بی انصاری موجود تھے۔ حمید نسیم صاحب نے ان سے کہا کہ وہ مجھے اسٹوڈیو لے جائیں۔ اسٹوڈیو پہنچے۔ بیچ والا کمرہ جس میں دونوں جانب شیشے لگے تھے میں بھی اس میں چلا گیا تو انصاری صاحب نے مجھے پہلے کمرے میں پہنچایا۔ گرمیوں کے دن تھے، ایک ٹب کے اوپر، برف کی سل رکھی ہوئی تھی، پنکھا چل رہا تھا، ذرا دیر بعد کوئی صاحب، غالباً ابراہیم نفیس صاحب مجھے کاغذ کے اوپر لکھی ایک عبارت جو گتے پر چپکی ہوئی تھی دے کر یہ کہتے ہوئے باہر چلے گئے کہ اس کو پڑھیں۔ اس عبارت پر پانی کی بوندیں گری تھیں یا پڑھنے والوں کے آنسو ٹپکے تھے، جگہ جگہ سے لفظ پھیلے ہوئے تھے اور پھیکے پڑ گئے تھے، مجھ سے پہلے پڑھنے والوں کی انگلیوں کا میل بھی نشانات کی صورت میں جگہ جگہ جما ہوا تھا۔ جب بیچ کے کمری میں حمید نسیم صاحب بھی پہنچ گئے تو مجھے ہاتھ ہلا ہلا کر اشارے کئے جانے لگے۔ اور میرا یہ حال کہ
اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کئے
جب اشاروں پر اشارے ہوا کئے تو ایم بی انصاری صاحب دروازہ کھول کر میرے پاس آئے۔ ان کے آنے کا انداز ایسا تھا کہ آتے ہی ایک تماچہ ماریں گے لیکن انہوں نے مسکرا کر ملائم لہجے میں الفاظ کو دانتوں سے پیستے ہوئے کہا آپ جو اسکرپٹ دیا گیا ہے اس کو پڑھئیے۔ یہ ہدایت دینے کے بعد وہ پھر شیشے کے دوسری طرف چلے گئے۔ پنکھا بند ہو چکا تھا۔ ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھر آئے تھے اور ادھر پھر سے اشارے ہونے لگے تھے۔ میں نے گرمی کی شدت اور بڑھتی ہوئی گھبراہٹ کے زیر اثر کہا ”جناب مجھ سے نہیں پڑھا جا سکتا یہ اسکرپٹ“۔ شاید وہ لوگ یہی سننے کے، منتظر تھے، پہلے حمید نسیم صاحب کمرے سے نکل کر چلے گئے۔ پھر انصاری صاحب اور ابراہیم نفیس صاحب یہ کہتے ہوئے ڈیوٹی روم کی طرف چل دیئے۔
”ہو گئے مبارک ہو۔ Approve آپ پاروو“
جو Live Play کے کتنے دن بعد مائیکرو فون پر آنے کا موقع ملا یہ یاد نہیں۔ اتنا یاد ہے کہ پہلا لائیو پلے Approval اس حیدرآباد اسٹیشن سے نشر ہوا وہ سلیم احمد کا لکھا ہوا ”البرامکہ“ تھا اس کے صداکاروں میں محمد علی، ارشاد علی، حمایت علی شاعر، محمد اقبال، فہیم انصاری، سجاد شاہد اور میری آواز شامل تھیں۔ خواتین میں صرف دو بہنیں یاد ہیں۔ حسین جہاد اور نسیم جہاں، جو اپنی والدہ کے ساتھ آتی تھیں۔ بعد میں ہم ان کی والدہ کو ”مالکہ ءدو جہاں“ کہنے لگے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں