501

سکھ علیحدگی پسندوں کے پیچھے کینیڈا کا ہاتھ نہیں، کینیڈین وزیراعظم

امرتھ سر: دورہ بھارت کے دوران پیدا ہونے والے تنازعات پر کینڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈ نے علیحدگی پسند سکھوں کی تحریک خالصتان کی حمایت سے متعلق غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی اور اس بات کی وضاحت کی کہ سکھ علیحدگی پسندوں کے پیچھے کینیڈا کا ہاتھ نہیں۔
خیال رہے کہ بھارتی اور کینیڈین میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ کینیڈا کی انتظامیہ کی جانب سے علیحدگی پسند سکھوں کی حمایت پر جسٹن ٹروڈو کو اپنے بھارتی ہم منصب کے اس رویے کا سامنا کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ کینیڈا میں تقریباً 5 لاکھ سکھ آباد ہیں جبکہ کہا جاتا ہے کہ جسٹن ٹروڈو کی انتظامیہ آزادی کا مطالبہ کرنے والے سکھ گروپوں سے مبینہ طور پر بہت نرمی سے پیش آتی ہے۔
اس کے علاوہ کینیڈین وزیراعظم کو گزشتہ برس بھی اس وقت نئی دہلی کے غصے کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے کینیڈا میں ایک پریڈ میں شرکت کی تھی، جس میں سکھ عسکریت پسندوں کو پیرو کے طور پر ظاہر کیا گیا تھا۔
دوسری جانب اپنے دورے کے دوران گزشتہ روز جسٹن ٹروڈو نے امرتھ سر میں سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل کا دورہ کیا اور 1984 میں بھارتی فورسز اور سکھ عسکریت پسندوں کے درمیان لڑائی میں خونی منظر پیش کرنے والے مقام کو بھی دیکھا۔
اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ امرندر سنگھ سے بھی ملاقات کی، ملاقات کے دوران جسٹن ٹروڈو نے انہیں اس بات کی واضح یقین دہانی کرائی کہ کینیڈا کسی علیحدگی پسند موومنٹ سے ہمدردی نہیں رکھتا۔
بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کینیڈین وزیر اعظم کے الفاظ ہمارے لیے ایک بڑا ریلیف ہیں اور ہمیں ان کی حکومت کی ان علیحدگی پسندوں سے نمٹنے کے معاملے پر نظر رکھنی چاہیے۔
علاوہ ازیں امرندر سنگھ کے ترجمان روین ٹھکرال کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے جسٹن ٹروڈو کو پنجاب میں موجود علیحدگی پسندوں کو ساز و سامان فراہم کرنے والے کینیڈین نڑاد سکھ ملزمان کی فہرست بھی دی گئی۔
یاد رہے کہ اس ملاقات میں جسٹن ٹروڈو کے دفاعی وزیر ہرجت سجن جو ایک سکھ ہیں وہ بھی موجود تھے اور ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس امرندر سنگھ کی جانب سے’ خالصتانی ہمدرد‘ کہہ کر ان سے ملنے سے انکار کردیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے بھارت کے دورے کے دوران اس طرح کا دعویٰ سامنے آیا تھا کہ انہیں بھارتی وزیر اعظم نریندر موودی کی جانب سے نظر انداز کیا گیا اور ان کا ایئرپورٹ پر استقبال بھی نہیں کیا گیا۔
عام طور پر نریندر مودی کی جانب سے کسی بھی حکومتی سربراہ کا ایئرپورٹ پر استقبال کیا جاتا ہے اور وہ ان کے ساتھ گلے لگ کر تصاویر بھی بنواتے ہیں، تاہم جسٹس ٹروڈو کے دورے کے دوران انہوں نے استقبال نہیں کیا بلکہ ان کی اپنی ریاست گجرات کے دورے کے دوران بھی وہ جسٹن ٹروڈو سے ملنے سے قاصر رہے۔
یہاں تک کہ ٹوئٹر پر 4 کروڑ 40 لاکھ فالوورز رکھنے والے نریندر مودی کی جانب سے ان کے استقبال میں ایک ٹوئٹ بھی نہیں کیا گیا بلکہ بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے اسی روز ایرانی صدر حسن روحاںی کے ساتھ ملاقات کی تصویر بھی شیئر کی گئی تھی۔
تاہم جسٹن ٹروڈو کی جانب سے اس وضاحت کے بعد یہ کہا جارہا ہے کہ جمعہ 23 فروری کو بھارتی وزیر اعظم نریندر موودی اور کینیڈین ہم منصب جسٹن ٹروڈو کے درمیان نئی دہلی میں ملاقات ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں