Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 56

سیاسی بد امنی اور ”را“ کے اہداف

پاکستان میں بڑھائے جانے والے سیاسی درجہ ہرارت کو کیش کروانے کے لئے بھارتی تخریب کار ایجنسی ”را“ اور این ڈی ایس نے پاکستان میں اپنی پراسرار سرگرمیاں بڑھا دی ہیں اس اطلاع کے بعد ملک کے حساس ادارے الرٹ کر دیئے گئے اور اندرون خانہ چھاپوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ کراچی میں عالم دین کے قتل کی واردات اسی سلسلے کی کڑی بتائی جاتی ہے اس کے بعد سے گجرانوالہ کے مسلم لیگ ن کے جلسہ کے اندر کئے جانے والے گڑبڑ اور تخریب کاری کے خدشات اور بھی بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے لئے یہ جلسہ ایک ٹیسٹ بن گیا ہے کہ وہ کس طرح سے اس جلسہ کی اجازت بھی دیتے ہیں اور اسے ہر طرح سے بیرونی حملوں سے محفوظ رکھنے کی بھی کوشش کرتے ہیں اس لئے کہ گجرانوالہ میں جلسہ کے اندر کسی بھی طرح کی دہشت گردی کی واردات کروانے سے حملہ آوروں کو بیک وقت ایک سے زائد فائدےہوں گے جن میں سب سے بڑھ کر دم توڑتی مسلم لیگ ن میں دوبارہ سے جان ڈالنا شامل ہے جب کہ اس دورا ملک کے دوسرے علاقوں خاص طور سے بلوچستان اور فاٹا کے علاقوں میں بھی سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے کی شکل میں دہشت گردی کی وارداتیں کروائی جا سکتی ہیں۔
”را“ نے بھی اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل کے لئے افغانستان میں ٹی ٹی پی اور دہشت گرد تنظیموں کو ضم کیا گیا ہے اس مقصد کے لئے 10 لاکھ ڈالر بھی دیئے ہیں۔ ”را“ ان دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان کے سیکیورٹی فورسز کے علاوہ سی پیک کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لئے وارداتیں کررہے ہیں اس مقصد کے لئے وہ چائنیز قونصل خانوں پر مزید حملے کی بھی تیاری کررہے ہیں جب کہ مقامی دہشت گردوں کو سیکیورٹی فورسز پر حملہ کے لئے بھی تیار کیا جارہا ہے اس سلسلے میں خاص طور سے کراچی میں ”را“ نے اپنا کام تیز کردیا ہے اور وہاں ایسے نوجوانوں کو دوبارہ سے اپنے گروپ میں بھاری مراعات یا پھر مخبری کروا کے انہیں پاکستانی اداروں کے ہاتھوں گرفتار کروانے کی دھمکی دے کر انہیں بلیک میل کرتے ہوئے اپنے مقاصد میں استعمال کرنے کے لئے تیار کیا جارہا ہے جس میں ایک لسانی تنظیم سے تعلق رکھنے والے روپوش دہشت گردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
گزشتہ دنوں شاہ فیصل کالونی میں شہید کئے جانے والے عالم دین ڈاکٹر عادل خان کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں کراچی میں بھی دہشت گردی کی اس طرح کی وارداتوں میں اضافے کا امکان ہے جب کہ لندن میں بھی ”را“ کی سرگرمیوں کے نتیجے میں نواز شریف، الطاف حسین اور بلوچ گروپ کو ایک ساتھ لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں اس طرح سے ”را“ ایک نیا ٹرائیکا اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل کے لئے تیار کروا رہا ہے اور اس سلسلے میں وہ مسلم لیگ ن کے ورکروں میں پائی جانے والی بے چینی اور جذباتی حالت کو بارود کے طور پر پاکستان کے سیکیورٹی فورسز کی تباہی کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور پاکستانی سیاستدان اس سارے کھیل میں خاموش تماشائی سے زیادہ نادان دوست والا کردار ادا کررہے ہیں اور اس طرح سے دانا دشمن کے ہاتھوں ٹریپ ہو رہے ہیں جس کا زندہ ثبوت میاں نواز شریف کا لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے پارٹی ورکروں سے اپنے ہی اداروں کے خلاف جوشیلے انداز میں خطاب کرکے اپنے عوام کو انے حساس اداروں سے بدظن کرکے ان سے متنفر کروانا ہے اس طرح سے میاں صاحب اپنی نادانی یا پھر اپنی بے وقوفی سے دشمنوں کا کام آسان بنا رہے ہیں اور اس طرح سے خود اپنے ہاتھوں اپنے سے زیادہ وطن عزیز کی قبر کھودنے کا باعث بن رہے ہیں۔
یہ وہ مشکل صورت حال ہے جس سے ان دنوں ہمارے ملک کے انٹیلی جنس ادارے دوچار ہیں انہیں دشمنوں سے زیادہ خود اپنے نادانوں سے زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس طرح کی صورتحال کا سامنا دنیا کے کسی ملک کے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو شاید ہی کرنا پڑا ہو اس لئے کہ وہاں کی عوام کبھی بھی بے وقوفی کی اس نہج تک نہیں پہنچتی اور نہ ہی وہاں کی پولیس اور دوسرے ادارے عوام کو اس نہج تک جانے کا موقع دیتے ہیں اور نہ ہی وہاں کے سیاستدان اپنے اقتدار یا اپنے مال کو بچانے کے لئے اپنے ووٹروں کو اس طرح سے ملک کے خلاف استعمال کرتے ہیں جس طرح سے پاکستان میں کیا جارہا ہے اسی وجہ سے پاکستان کے حساس ادارے بیک وقت ایک سے زائد محاذوں پر لڑ رہے ہوتے ہیں جس میں سب سے زیادہ خطرناک کام اپنے ہی ملک کے عوام سے نمٹنے کا ہوتا ہے اس لئے کہ انہیں اس انداز سے نہیں نمٹایا جاتا جس طرح سے ملک دشمنوں کے ساتھ ہمارے ادارے کرتے ہیں تاکہ انہیں ان کے منطقی انجام تک پہنچانے میں آسانی ہو۔
وزیر اعظم عمران خان اور ملک کے سلامتی کے اداروں کے سربراہان کو چاہئے کہ وہ انتہائی صبر و تحمل سے اس موجودہ صورت حال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کریں، ملک کے اندرونی جو شکایات اپوزیشن پارٹیوں کے کسی بھی حوالے سے حکومت سے ہیں، حکومت کو چاہے کہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپوزیشن کے مطالبات پورے کرے اور انہیں اس نہج تک نہ جانے دیں کہ جس سے ملک دشمنوں کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملے اور وطن عزیز کو نقصان پہنچے۔ یہ وقت ضد اور انا کا نہیں بلکہ ملک کی سلامتی اور امن و امان کا ہے جسے ہر معاملے پر مقدم رکھنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں