Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 119

سیاہ فام امریکی

امریکہ میں رہنے والے سیاہ فام جو اب افریکن امریکن کہلاتے ہیں اس وقت امریکہ میں بسنے والی مختلف نسلوں میں سب سے زیادہ تعداد میں ہیں۔پچھلے دنوں ایک سفید فام پولیس والے کے ہاتھوں ایک سیاہ فام کے قتل پر پورے ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے حالانکہ سفید فام پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام کا قتل امریکہ میں ایک عام سی بات بن گئی ہے بے شمار سیاہ فام نوجوان پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ بعد میں معلوم ہوا کے وہ بالکل بے گناہ اور امن پسند شہری تھے۔اس پر تھوڑا بہت احتجاج بھی ہوا اور معاملہ دبا دیا گیا۔لیکن یہ قتل جس وحشیانہ انداز میں ہوا اس نے تمام دنیا کو جھنجھوڑ دیا۔ اور نا صرف امریکہ بلکہ یوروپ کے دوسرے ممالک میں بھی اس انسانیت سوز سلوک کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔اس بات سے قطع نظر کے وہ سیاہ فام جرائم پیشہ تھا یا نہیں یہ احتجاج اور ہنگاموں کی وجہ در اصل وہ صرف ایک شخص نہیں ہے۔بلکہ سو سال سے سیاہ فاموں پر ہونے والے مظالم کے خلاف وہ طوفان ہے جو اندر ہی اندر آہستہ آہستہ بڑھتا جارہا تھا۔سوشل میڈیا پر بیٹھے وہ لوگ جو یا تو تاریخ سے یا حالات سے واقف نہیں ہوتے یا مناسب تعلیم نا ہونے کی وجہ سے ایسے ایسے بیانات دیتے ہیں کہ ان کے عقل و شعور پر صرف ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔اپنے ملک کو برا بھلا کہنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ کہنا شروع کردیا کہ یہ ہے انسانیت کہ ایک آدمی کے قتل پر پورے ملک میں ہنگامہ ہورہا ہے، جب کہ ان کو اس بات کا علم نہیں کہ ہنگامے مسلسل حیوانیت کا مظاہرہ کرنے پر ہورہے ہیں۔مثال دی جارہی ہے ماڈل ٹاون کے قتل اور راو انوار کے ہاتھوں مارے جانے والے لوگوں کے قتل پر اسے جہالت نہیں کہا جائے گا تو پھر کیا کہا جائے۔جس ظلم کی یہ بات کررہے ہیں وہ ان مظالم کے ہزارویں حصّے کے برابر بھی نہیں ہے جو امریکہ میں سیاہ فاموں پرہوچکے ہیں اور مسلسل ہورہے ہیں۔ آج ہمارے ملک کے وہ لوگ بھی جو امریکہ میں رہتے ہیں ان سیاہ فاموں سے اتنی ہی نفرت کرتے ہیں جتنی سفید فام کرتے ہیں جبکہ بے شمار سفید فام تو تمام غیر ملکیوں سے نفرت کرتے ہیں لیکن ہمارے لوگوں کو یہ خوش فہمی ہے کہ گوروں کے ساتھ مل کر وہ بھی گورے ہوگئے ہیں اور وہ کالوں سے مختلف ہیں۔جس کا اظہار وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں ۔کچھ لوگوں کے سیاہ فاموں سے نفرت کی وجہ تاریخ سے لاعلمی اور واقعات سے بے خبری ہے۔ان کے خیال میں سیاہ فام پیدائشی جرائم پیشہ چور لٹیرے اور قاتل ہوتے ہیں۔ جب کہ ان کو جرائم پیشہ بنانے والے یہی سفید فام ہیں بے جا ظلم تشدد اور مسلسل حق تلفی نے ان سیاہ فاموں کو مجرم بنایا ہے۔یہ لوگ دو سو سال سے کوشش کررہے ہیں کہ ان کو بھی انسان سمجھا جائے ان پر ظلم تشدد بند کرکے ان کو مساوی حقوق دئیے جائیں یہ لوگ پرامن زندگی چاہتے ہیں لیکن سفید فام ان کو بھکاری جرائم پیشہ اور غلام رہنے دینا چاہتے ہیں۔تقریبا” تمام دنیا اس بات سے واقف ہے کہ یہ سیاہ فام افریقہ سے غلامی کے لئے زبردستی پکڑ کر پنجروں میں رسّیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر لائے گئے تھے اس زمانے میں سیاہ فام غلاموں کی تجارت عروج پر تھی امریکہ کے علاوہ یوروپ کے کچھ ممالک میں ان کی خرید و فروخت بالکل جانوروں کی خرید و فروخت کے مشابہ تھی اس تجارت کے ذریعے ایک کروڑ سیاہ فام پانی کے جہازوں کے ذریعے پنجروں میں زنجیروں سے باندھ کر لائے گئے راستے میں بیماریوں سے یا خودکشی کرنے سے جو مر جاتے تھے ان کو سمندر میں پھینک دیا جاتا تھا۔لیکن ان غلاموں کے آنے سے پہلے کچھ سیاہ فام اپنی مرضی سے بھی امریکہ آچکے تھے۔امریکہ کے کچھ تاجر حضرات نے افریقہ کے ان ممالک سے جہاں کے لوگ تھوڑا شعور رکھتے تھے جہاں تھوڑی ترقّی تھی تعلیم تھی کچھ سیاہ فاموں کے ساتھ ملازمت کا معاہدہ کیا۔اور سب سے پہلے 1619ءمیں 20 سیاہ فام انگلش کالونی ورجینیا میں آئے یہ لوگ ملازمت کے معاہدے پر آئے تھے۔ ایک طرح سے کچھ سال کے ورک پرمٹ پر ان کو ملازمت ملی تھی۔سولہویں صدی کے وسط میں جب یوروپ کے سفید فام اپنی اپنی کالونیوں پر قابض ہوچکے تھے۔اس وقت یہ سیاہ فام غلاموں کی شکل میں خرید کر لائے گئے اور اٹھارویں صدی تک ان کی تعداد ساڑھے سات لاکھ سے تجاوز کرچکی تھی۔ آہستہ آہستہ ان کی تعداد بڑھتی گئی اس وقت ان کی تعداد پاکستان کی آدھی آبادی کے برابر ہے۔جب یہ غلاموں کی شکل میں لائے گئے تو ان کو جانور ہی تصوّر کیا جاتا تھا اور بچّوں کو بتایا جاتا تھا کہ یہ افریقی جانور ہیں۔ان کو بالکل قیدیوں کی طرح رکھا جاتا تھا ان سے جبری مشقّت کرائی جاتی تھی۔شہر سے تھوڑے فاصلے پر ان کی رہائش کے لئے جیل نما بیرکیں تھیں سارا دن ان سے کام لے کر شام کو ان بیرکوں میں چھوڑ دیا جاتا تھا جس کے چاروں طرف تاروں کی باڑھ ہوتی تھی اور ان کو باہر آنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔کوئی سیاہ فام کام کی جگہ یا کسی سفید فام کے قریب کرسی یا بنچ پر نہیں بیٹھ سکتا تھا فٹ پاتھ پر کسی سفید فام کے آگے یا پیچھے چل نہیں سکتا تھا جب تک سفید فام چلا نا جائے وہ اپنی جگہ کھڑا رہتا تھا۔ساٹھ سال تک تو یہ حالت رہی کہ سیاہ فام کسی گورے کی بس میں نہیں بیٹھ سکتا گوروں کے علاقے میں کسی پارک کے قریب نہیں پھٹک سکتا تھا کسی ریسٹورینٹ کے قریب سے نہیں گزرسکتا تھا کوئی بھی سیاہ فام امریکن شہری نہیں تھا نا اس کو امریکن شہری جیسے کوئی حقوق حاصل تھے۔ آپ تصوّر کریں سیاہ فاموں کی دونسلیں بغیر امریکی شہری کہلائے غلامی کی زندگی بسر کرتے ہوئے اس دنیا سے چلی گئیں۔پہاڑوں کو کاٹنا ، ریل کی پٹریاں ،سڑکوں اور پلوں کی تعمیر فیکٹریوں کی تعمیر پھر ان فیکٹریوں میں کام کرنا ،کھیتوں میں فصلیں اگانا او رکپاس چننے کا کام جس کا معاوضہ کھانا پینا اور رہنا تھا ان کے کپڑے سفید فاموں کے پرانے کپڑے ہوتے تھے۔ان کے کپڑوں کا کوئی اسٹور نہیں تھا۔سفید فاموں کو اجازت تھی کہ جب چاہیں اپنے غلاموں کو کوڑوں سے پیٹیں۔امریکہ کی معاشی ترقّی میں ان کالوں کا بہت بڑا حصّہ ہے۔سفید فام لوگوں کی پر آسائش زندگی ان کالوں کی محنت کا ثمر ہے جس کا نا تو ان کو کوئی انعام ملا اور نا ہی بہتر زندگی مل سکی بلکہ بدلے میں صرف نفرت ملی۔ ان کا سانس لینا چلنا پھرنا سب ان کے مالکوں کی مرضی کے مطابق تھا۔تعلیم کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اگر کسی کالے کے پاس کاغذ قلم نظر آجاتا تھا تو اس کو کوڑے مارے جاتے تھے۔غلامی کی زندگی سے یہ سیاہ فام اتنے عاجز آچکے تھے کہ عورتیں اپنے پیدا ہونے والے بچّوں کو ماردیتی تھیں کہ ان کو بھی غلامی جیسی خوفناک زندگی ملے گی۔آہستہ آہستہ ان سیاہ فاموں میں بغاوت نے سر اٹھانا شروع کردیا اور 1739ءمیں ان غلاموں نے ساوتھ کیرولائنا میں تیس سفید فام ظالم مالکوں کو ہلاک کردیا۔ اسی طرح کے واقعات دو سال کے عرصے میں رچمنڈ ورجینیا، نیویارک اور چند دوسری اسٹیٹس میں ہوئے۔چونکہ ان سیاہ فاموں کی ایک بڑی تعداد ساوتھ اسٹیٹس میں تھی لہذا ہزاروں کی تعداد میں یہ سیاہ فام غلام نارتھ سائیڈ کی اسٹیٹس اور کینیڈا فرار ہوگئے اور گروپ بناکر دوسرے سیاہ فام غلاموں کو آزاد کرانا شروع کردیا اس طرح ان کی تعداد پانچ لاکھ تک پہونچ گئی اور انہوں نے آزادی کی کوششیں اور اپنے حقوق حاصل کرنے کی جدو جہد شروع کردی امریکہ میں خانہ جنگی کے دوران اور برٹش راج ختم کرنے کی جنگ میں ان سیاہ فاموں نے بھی حصّہ لیا۔1865ءمیں امریکہ کے آئین میں تیرھویں ترمیم کے تحت مزید چالیس لاکھ سیاہ فام غلامی سے آزاد ہوئے 1868ء میں چودھویں ترمیم ہوئی جس میں سیاہ فاموں کو امریکہ کی شہریت دی گئی 1870ء میں پندرھویں ترمیم میں ان کو ووٹ کا حق دیا گیا۔ لیکن یہ سب ہونے کے باوجود عام لوگوں کی نگاہ میں یہ سیاہ فام آج بھی غلام ہیں۔اپنے حقوق حاصل کرنے کی مسلسل جدوجہد کررہے ہیں۔سیاہ فام لیڈر مارٹن لوتھر کنگ کی آزادی کی جدوجہد جس میں اسے قتل کردیا گیا رنگ لائی اور کالوں کو کچھ بنیادی حقوق دئیے گئے۔لیکن ان کے ساتھ نفرت کا سلوک ختم نہیں ہوا اور آج تک جاری ہے نتیجے میں یہ لوگ جرائم کی طرف راغب ہوگئے لیکن ان کو صحیح راستے پر لانے کے بجائے ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک روا رکھا گیا۔حالیہ واقعہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے سیل فون کی بدولت اب یہ مظالم لوگوں کے سامنے آرہے ہیں ورنہ نا جانے کتنے سیاہ فام ان سفید پولیس والوں کی نفرت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں امریکہ جو دوسرے ملکوں پر انسانی حقوق کی پامالی کا الزام لگاتا ہے اور اپنے آپ کو انسانی حقوق کا علمبردار بناکر پیش کرتا ہے اس کا اصل چہرہ کھل کر سامنے آچکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں