Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 81

سینیٹ کا الیکشن آخری معرکہ

میں اپنے پروگرام میں بھی یہ بات کئی بار دھرا چکا ہوں کہ مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے الیکشن اور اس کے نتائج ملکی سیاست کا نقشہ بدلنے کا باعث بنیں گے۔ سینیٹ کے یہ الیکشن اور اس کے نتائج ہر لحاظ سے اہمیت کے حامل ہوں گے اور ہر کوئی سینیٹ کے الیکشن کے نتائج پر جھپٹا مارنے کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے اس لئے کہ اس الیکشن کے نتائج سے پاکستان کے دو دھائیوں سے زائد کی سیاست کی بقاءداﺅ پر لگی ہوئی ہے۔ ایک طرح سے اس الیکشن کے نتائج گیم چینجر ثابت ہوں گے جس کا فہم و ادراک مولانا فضل الرحمن کو بھی ہے۔ میاں برادران اور خود آصف علی زرداری کو بھی ہے لیکن اس کے باوجود پی ڈی ایم کی تحریک ہے کہ جس میں استحکام آنے کے بجائے روز بروز وہ کمزوری کی جانب بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے انہیں سینیٹ کے الیکشن کا یہ معرکہ سر کرنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن دکھائی دے رہا ہے اور ان کے آپس کی نا اتفاقی نے حکومت اور اس کے پس پشت کام کرنے والی قوتوں کے کام کو اور بھی آسان بنا لیا ہے ان سیاستدانوں کو اس بات کا اچھی طرح سے علم ہے کہ اگر سینیٹ کا یہ میدان ان کے ہاتھ سے نکل گیا تو پھر ان کی سیاست کا باب ایک لمبے عرصے تک بند ہو جائے گا اور اس کے بعد اقتدار میں ان کا آنا تو دور کی بات خود ان کا باہر رہنا بھی مشکل ہو جائے گا انہیں اپنی مشکلیں اور تباہی صاف طور پر نظر آرہی ہے۔ اپنے طور پر ملک کی اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت سے زیادہ حکومت کی پشت پر کام کرنے والی قوتوں کو ڈرانے دھمکانے اور بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ اپنی وفادار میڈیا کو بھی اس مقصد کے لئے استعمال کیا لیکن سب کا سب بے سود رہا اور ان کا گراف نہ تو ملکی عوام میں بڑھا اور نہ ہی اقتدار تک لانے والی قوتوں میں۔۔۔
اب ان کے پاس اپنی ساکھ بچانے کے لئے کچھ بھی باقی نہ رہا۔ اس لئے یہ اب ایک طرف بیان بازیوں کے ذریعے ملکی عوام میں اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کررہے ہیں تو دوسری جانب بیک ڈور ڈپلومیسی کرکے سیف وے مانگ رہے ہیں انہیں دوسری جانب سے لالی پاپ تو دیا جارہا ہے مگر سینیٹ کے الیکشن اور اس کے نتائج پر بالکل بھی سمجھوتہ نہیں کیا جارہا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن اور اس کے نتائج کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت مزید مستحکم اور اپوزیشن اور بھی کمزور ہو جائے گی اور اس کے بعد رہی سہی کسر ان قانون سازیوں کے ذریعے پوری کردی جائے گی جس کے ڈرافٹ پہلے ہی بابر اعوان اور بیرسٹر فرخ نے مل کر بنا لئے ہیں انہیں صرف قانون کا شکل دینا باقی ہے۔ جس کے بعد نہ تو نیب کے چیئرمین کے تقرری میں اپوزیشن کے مشاورت کی ضرورت باقی رہے گی اور نہ ہی الیکشن کمشنر کی تقرری میں۔۔۔ اس طرح کے وہ تمام قانون سازی ختم کردی جائے گی جو انصاف اور قانون کی راہ میں ایک طرح سے رکاوٹ بن رہی تھی اس کے بعد کسی صوبے کا پولیس سربراہ بنانے کے لئے بھی کسی صوبائی حکومت کی مشاورت کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ فطرتی طور پر ایک مستحکم وفاق ہو گا جس کے خوشحال صوبے ہوں گے۔ وفاق مستحکم ہو گا تو صوبے بھی مستحکم ہوں گے۔ اس تصور کی نفی کردی جائے گی کہ صوبوں کے استحکام سے ہی وفاق مستحکم ہو گا ان تمام تر انقلابی تبدیلیوں کا تعلق سینیٹ کے الیکشن اور اس کے نتائج سے ہی ماضی میں کی جانے والی بعض قانون سازیوں نے 1973ءکا آئین کا نقشہ ہی بگاڑ دیا ہے جس کو تبدیل کئے بغیر پاکستان کا آئین کسی بھی صورت میں نہ تو اپنے اصل مقام پر آسکتا ہے اور نہ ہی ملک سے کرپشن اور خود سیاست سے جرم کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے اس لئے سیاست کا لبادہ اوڑھے بعض با اثر سیاستدانوں نے پارلیمنٹ اور قانون سازی کے عمل کو ڈھال کے طور پر اپنے جرائم کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے استعمال کیا اور اس طرح کے قانون سازی وہ کرتے رہے کہ جس کے نتیجے میں ان کی کرپشن پکڑنے والے اور خود ان کے مقدمات کا فیصلہ کرنے اور الیکشن کروانے والے سب کے سب اپنی تقرریوں کے حوالے سے ان کے محتاج بن گئے تھے۔ اس طرح سے کرکے ہی دراصل مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے سیاستدانوں نے جمہوریت کے ذریعے خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی اور وہ اس میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔ سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈی والا کا چیئرمین نیب سے یہ مطالبہ کہ اراکین اسمبلی اور سینیٹر کی گرفتاری سے قبل ایوان کو پیشگی اطلاع دینا اسی مائینڈ سیٹ کی عکاسی کرتا ہے۔ اطلاع کا مقصد ملزموں کو پہلے سے ہوشیار یا خبردار کرنے کے مترادف ہے اور اس طرح کی کوئی ایک بھی نظیر کسی مہذب معاشرے میں نہیں ملتی اس لئے تو کہتا ہوں کہ سینیٹ کے الیکشن اور اس کے نتائج کی بڑی اہمیت ہے جس سے پاکستان کا پورے کا پورا سیاسی ڈھانچہ ہی ہل کر رہ جائے گا اس تبدیلی کا اثر اعلیٰ عدلیہ پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔ اس لئے عمران خان اور مقتدر حلقوں کو چاہئے کہ وہ اپوزیشن کی بونگیوں کو خاطر میں نہ لائے بلکہ اپنے اہداف کے حصول پر اپنی ساری انرجی صرف کرے۔ یہ ہی ایک بدلتے ہوئے پاکستان کا تقاضا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں