Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 231

شریک حیات

شریک سفر، شریک حیات کہنا تو آسان ہے لیکن اسے نبھانا ایک مشکل امر ہے۔ اس لفظ کو صحیح معنی دینے اور اس پر عمل کرنے کے لئے بہت حوصلے، ہمّت اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب کسی کو اپنی زندگی میں شریک کیا جاتا ہے تو اس شرکت کا احساس اور اس کی اہمیت سے ہم ناواقف ہوتے ہیں۔ بس شریک حیات کا مطلب شوہر اور بیوی اس سے آگے کچھ نہیں معلوم۔ لیکن اس لفظ کی اہمیت کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب شریک سفر راستے میں ہی سفر کا اختتام کردے ۔ شریک زندگی چلتے چلتے زندگی سے منہ موڑ لے۔ آگے کے سفر کے لئے ایک تنہا ہوجاتا ہے۔ یہ اذیت اس وقت ایک خلش بن جاتی ہے جب یہ خیال آتا ہے کہ اپنے ہم سفر کے ساتھ ابھی زندگی کا طویل سفر طے کرنا تھا، بہت سے ادھورے کام نپٹانے تھے، کچھ فرائض تھے جن کوپورا کرنا تھا، کچھ خوشیوں کا انتظار تھا، اچانک جب ہم سفر ساتھ چھوڑ جائے تو سب کچھ بدل جاتا ہے، پوری دنیا ہی بدل جاتی ہے، زندگی میں کوئی کشش نہیں رہتی۔ جو شخص اس درد سے گزرتا ہے ہم اس کے اندر دکھ کی ان لہروں کو نہیں دیکھ پاتے جو شدّت سے اس کے پورے وجود کو جھنجھوڑ رہی ہوتی ہیں۔
ہاں مجھے احساس ہوا جب میں خود اس درد سے گزرا، مجھے معلوم ہوا کہ شریک حیات کیا ہے جو اب میرے ساتھ نہیں ہے۔ ہم ساری زندگی صرف شوہر بیوی بن کر رہتے ہیں، شریک زندگی، شریک سفر، شریک حیات نہیں۔ کچھ مرد حضرات ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو اس رشتے کی اہمیت کا نا تو احساس ہوتا ہے اور نا ہی کوئی خیال، وہ اپنے شریک سفر کو سفری تھیلا سمجھ کر ساتھ چل رہے ہوتے ہیں، جس میں راستے کے لئے صرف کھانے پینے کا سامان ہو۔ خاص طور پر ہمارے معاشرے میں شوہر اور بیوی کے رشتے میں مختلف سلوک ہیں۔ عام زندگی میں زیادہ تر لوگ اپنی بیوی کے معاملے میں بہت لاپرواہ ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی شریک زندگی کو کوئی تکلیف نہیں ہے کھانا پینا کپڑے سب مل رہے ہیں اور ان کی نظر میں وہ بہت اچھے طریقے سے رہ رہی ہے۔اور اس کا کام گھر کا ہے اور گھر میں اس کا دل لگا ہوا ہے لہذا وہ اپنا زیادہ وقت باہر دوستوں میں گزارتے ہیں ۔ زندگی کے زیادہ تر معاملات میں اسے نظر انداز کیا جاتا ہے اس سے مشورہ لینا توہین سمجھا جاتا ہے، اسے ناسمجھ کم عقل ہی سمجھتے رہتے ہیں، وہ جو کچھ بھی اپنے شوہر اپنے بچّوں اور گھر کے لئے کرتی ہے اسے کوئی اہمیت نہیں دے رہے ہوتے ہیں، ایک معمول کے مطابق ہر چیز ہورہی ہوتی ہے لیکن اگر کسی کی بیوی اچانک اللہ کو پیاری ہوجائے تو ایک پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ یہ کیا ہوگیا زندگی میں ایک خلاءپیدا ہوگیا، پورا نظام تتّر بتّر ہوگیا، آدمی پریشان ہوجاتا ہے، کوئی چیز اپنے مقام پر نہیں رہتی۔ کیا جانے والا اتنا اہم تھا۔ کیا ہمارے لئے اتنی بڑی ضرورت تھا یہ احساس بھی اس کے جانے کے بعد ہوتا ہے۔ اگر کسی کو شریک سفر بنایا ہے تو ایک دوسرے کے جذبات کا ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہئے۔ بہت کچھ کھوکر ہی بہت کچھ پانا ہوتا ہے، اصل زندگی یہی ہے کہ پیار و محبّت سے رہا جائے، زندگی بہت مختصر ہوتی ہے، ایک نا ایک دن سب کو جانا ہوتا ہے۔ یقین کریں عورت ماں بہن بیوی بیٹی ہر روپ میں قربانیاں دیتی ہے اور اللہ تعالی’ نے عورت میں بے پناہ صبر رکھا ہے اس کے صبر کا امتحان ہر وقت نہیں لینا چاہئے۔
میری بیوی گزشتہ چار سال سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھی ۔ مکمل صحت یاب ہونے کے کچھ عرصے بعد یہ مرض پھر پلٹ کر آگیا۔ میں نے سوچا بھی نا تھا کہ ایک دن اس طرح وہ مجھے چھوڑ کر چلی جائے گی اور نا ہی اسے امید تھی کہ کسی مقام پر آکر اس کا مرض لاعلاج ہوجائے گا۔ ڈاکٹر امید دلاتے رہے اور اچانک ایک دن کہہ دیا اب یہ صرف دو چار ویک کی مہمان ہے۔ ہم آخر تک یہی سوچتے رہے کہ شاید کوئی معجزہ ہوجائے، شاید کوئی صورت نکل آئے۔ میں اسے کھونا نہیں چاہتا تھا، میں نے اپنی تمام مصروفیات ختم کردیں اور گھر میں بند ہوکر بیٹھ گیا لیکن اللہ تعالیٰ کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا، اس کی زندگی مجھ سے زیادہ میری اس بچّی کے لئے بہت اہم تھی جو جوان ہونے کے بعد بھی ایک پانچ سالہ بچّے کی طرح ہے وہ آٹسٹک ہے۔ وہ تڑپ رہی تھی، زندہ رہنا چاہتی تھی، صرف اس بچّی کے لئے جسے کبھی اس نے اپنے سے جدا نہیں کیا، اسے پھولوں کی طرح رکھا، اس کی ہر ضد ہر بات کو صبر و تحمّل سے برداشت کیا۔ اس نے اپنی زندگی اس بچّی کے لئے وقف کردی تھی لیکن قدرت کے فیصلے کے سامنے ہم سب مجبور ہیں۔ مجھے شدّت سے احساس ہورہا ہے کہ ایک طویل عرصے کا شریک سفر ہماری زندگی کے لئے کتنا اہم ہوتا ہے۔ جانا تو سب کو ایک دن ہے لیکن اس طرح کسی کو رخصت کرنا ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ کتنی حسرتیں کتنی خواہشیں دل میں لئے ہوئے انسان اس دنیا سے نا چاہتے ہوئے بھی رخصت ہوجاتا ہے، جب یہ حسرتیں یہ خواہشیں ہر انسان کی صرف اپنے لئے نہیں ہوتی ہیں بلکہ بعض اوقات دوسروں کے لئے ہوتی ہیں اولاد ماں باپ بہن بھائی کہ میں زندہ رہوں اور ان لوگوں کے لئے کچھ کرسکوں۔اپنی وفات سے کچھ دن پہلے وہ بہت بے چارگی سے پوچھا کرتی تھی کہ کیا واقعی اب میرا کوئی علاج نہیں ہے۔ پھر کچھ سوچ کر کہتی نہیں مجھے اپنے اللہ پر پورا بھروسہ ہے وہ مجھے ضرور صحت اور زندگی دے گا ہر آنے جانے والے سے کہتی میرے لئے دعا کرو اللہ تعالی’ مجھے زندگی دے ۔وہ اللہ سے زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی لیکن اپنے لئے نہیں کیونکہ زندگی تو اسے صرف تکلیفیں ہی دے رہی تھی وہ صرف اپنی بچّی کے لئے جینا چاہتی تھی جو یک جان دو قالب تھی اس نے اس بچّی کو بالکل پھول کی طرح رکھا تھا اپنے انتقال سے پندرہ دن پہلے تک بہت ہمّت کرکے اپنے ہاتھ سے اس کے بال بنائے کپڑے پہنائے وہ زندہ رہنا چاہتی تھی کہ اس بچّی کی دیکھ بھال کرسکے۔لیکن شائید خدا کو بھی اس پر رحم آگیا تھا ایک طویل صبر آزما امتحان کے بعد خدا نے فیصلہ کیا کہ اسے اپنے پاس بلالے۔جس لمحے وہ مجھ سے سوال کرتی تھی۔۔میں ٹھیک ہوجاوں گی نا ؟ میں اس کے چہرے کی طرف دیکھ نہیں سکتا تھا درد کی ایک لہر میرے سینے میں اٹھتی اور منہ دوسری طرف کرکے کہتا دیکھوتم یہ سب مت سوچا کرو اللہ تعالی’ بہتر کرے گا لیکن وہ ضد کرتی تھی نہیں مجھے بتاو میں ٹھیک ہوجاوں گی نا؟ میں کیا کہتا میں آہستہ آہستہ اسے موت کی طرف بڑھتے دیکھ رہا تھا اور بے بس تھا کچھ نہیں کرسکتا تھا۔پھر وہ بڑے اعتماد سے کہتی تم دیکھنا میں ٹھیک ہوجاوں گی۔۔میں بہت مبویط ہوں۔۔مجھے اپنی بچّی کے لئے جینا ہے۔بعض اوقات میں جھنجھلاجاتاکہ آخر اللہ تعالی’ کو اس پر رحم کیوں نہیں آتا۔ میں نے اپنی دعاوں کے ساتھ یہ سوالات بھی کئے۔ اور پھر مجھے جواب بھی مل گیا۔ اللہ تعالی’ اپنے پندوں کے ہر سوال کا جواب دیتا ہے لیکن وہ براہ راست کبھی مخاطب نہیں ہوتا بلکہ اپنا جواب ذہن کے صفحے پر تحریر کی صورت میں چھوڑ دیتا ہے اور ہمارا ذہن اسے قبول بھی کرتا ہے لیکن یہ اس وقت ہوتا ہے جب ہمیں پورا بھروسہ ہو کہ اللہ ہماری سن رہا ہے ذہن میں ذرا سا بھی شک و شبہ نا ہو اور جب میری بیوی نے یہ سوال کرنا بند کردئے اس کی بے تابی بے چینی کو قرار آگیا تو میں سمجھ گیا کہ اسے بھی جواب مل گئے ہیں۔اس کے بعد وہ بھی خاموش ہوگئی۔وہ مکمل ہوش و حواس میں تھی باتیں کررہی تھی لیکن لیکن اب جینے کی وہ تڑپ وہ خواہش معدوم ہوچکی تھی۔ اسے جواب مل گیا تھا۔ ہم تمام مجبوریاں تمام پریشانیاں صرف اپنی ذات کی حد تک دیکھتے ہیں، یہ نہیں سوچتے کہ ہم سے زیادہ پریشان دکھی مجبور لوگ بھی ہیں۔ اپنے بندوں کی حفاظت اللہ تعالی’ نے اپنے ذمّے لی ہوئی ہے ہم یہ کیوں سوچتے ہیں ہمارے بعد کیا ہوگا۔اللہ تعالی نے ہمیں جتنی زندگی دی ہوئی ہوتی ہماری پلاننگ اس سے بہت آگے تک ہوتی ہے ایک 90 سالہ شخص کی پلاننگ دو سو سال کی ہوگی لیکن ہم کبھی اللہ تعالیٰ کی پلاننگ سے نہیں ٹکراسکتے۔ ایک نوّے سالہ شخص جس نے بھرپور زندگی گزاری جب بستر مرگ پر ہوتا ہے تو اس کی اور سب کی خواہش اور دعائیں یہی ہوتی ہیں کہ وہ صحت یاب ہوجائے۔ مجھے معلوم ہے میری شریک حیات کا سفر یہیں تک تھا اس کے باوجود ایک اضطراب ایک بے چینی کی کیفیت ہے، ذہن قبول نہیں کررہا ہے کہ میری شریک حیات مجھے چھوڑ کر جاچکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں