ویت نام کے بعد افغانستان سے امریکہ کی رسوائی اور واپسی 127

صبح تاخیر سے بیدار ہونے والے لوگ!

1850ءکے لگ بھگ کا زمانہ ہے۔ مقام دہلی ہے، وقت صبح کے ساڑھے تین بجے سول لائن میں بگل بج چکا ہے۔ پچاس سالہ فرنگی کپتان اور رابرٹ اور اٹھارہ سالہ لیفٹیننٹ ہنری دونوں ڈرل کے لئے جاگ گئے ہیں۔ دو گھنٹے بعد طلوع آفتاب کے عام انگریز بھی بیدار ہو کر صبح کی سیر اور ورزش کررہے ہیں۔ انگریز عورتیں گھوڑ سواری کو نکل گئی ہیں۔ سات بجے انگریز مجسٹریٹ دفتروں میں اپنی اپنی عدالتوں میں بیٹھ چکے ہیں۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کے سفیر سر تھامس مٹکاف دوپہر تک کام کا اکثر حصہ ختم کر چکا ہے، کوتوالی اور شاہی دربار کے خطوط کا جواب دیا جا چکا ہے۔
بہادر شاہ ظفر کے تازہ ترین حالات کا تجزیہ آگرہ اور کلکتہ روانہ کردیا گیا ہے۔ دن کے ایک بجے سر مٹکاف بگھی پر سوار ہو کر کھانے کے وقفہ پر گھر روانہ ہو چکا ہے۔
یہ ہے وہ وقت یعنی دن کے ایک بجے جب لال قلعہ کے شاہی محل میں ”صبح“ کا آغاز چہل پہل سے ہو رہا ہے۔
ظل الٰہی کے محل میں صبح صادق کے وقت مشاعرہ ختم ہوا تھا۔ جس کے بعد ظل الٰہی اور عمائدین خواب گاہوں کو گئے تھے۔ اب کنیزیں نقرئی برتن میں ظل الٰہی کا منہ ہاتھ دھلا رہی ہیں اور تولیہ بردار مہ جبینیں چہرہ، پاﺅں اور شاہی ناک صاف کرارہی ہیں اور حکیم چمن لال شاہی پائے مبارک کے تلوﺅں پر روغن زیتون کی مالش کررہا ہے۔
اس حقیقت کا دستاویزی ثبوت موجود ہے کہ لال قلعہ میں ناشتے کا وقت اور دہلی کے برطانوی حصے میں دوپہر کے لنچ کا وقت ایک ہی تھا۔
دو ہزار سے زائد شہزادوں کا بٹیر بازی، مرغ بازی، کبوتر بازی اور مینڈھوں کی لڑائی کا وقت بھی وہی تھا۔
آئیے اب ڈیڑھ سو سال پیچھے چلتے ہیں۔
برطانیہ سے نوجوان انگریز کلکتہ، ہگلی اور مدراس کی بندرگاہوں پر اترتے ہیں، برسات کا موسم ہے، ہر طرف مچھر ہیں، اور پانی ہے، ملیریا سے اوسطاً دو انگریز روانہ مرتے ہیں، لیکن ایک شخص بھی اس ”مرگ آباد“ سے واپس انگلینڈ نہیں جاتا، لارڈ کلائیو پہروں گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتا ہے۔
آئیے اب 2018ءمیں چلتے ہیں۔
پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی، یورپین، افریقی اور چائنیز رات کا کھانا سات سے آٹھ بجے کے درمیان کھا لیتے ہیں۔ نو بجے سے دس بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں۔ بڑے سے بڑا ڈاکٹر صبح چھ بجے ہسپتال میں ڈیوٹی پر موجود ہوتا ہے۔ پورے یوروپ، امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور سنگاپور میں کوئی دفتر، کارخانہ، ادارہ، ہسپتال ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں۔
آج کل چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکی ہے۔ پوری قوم صبح چھ سے سات بجے ناشتہ اور دوپہر ساڑھے بارہ بجے لنچ اور شام سات بجے تک ڈنر کر چکی ہوتی ہے۔
اللہ کی سنت کسی کے لئے نہیں بدلتی، اس کا کوئی رشتہ دار نہیں ہے، نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی نے اس کو جنا، جو محنت کرے گا تو وہ پھل پائے گا اور کامیاب ہوگا۔ عیسائی ورکر مٹکاف سات بجے دفتر پہنچ جائے گا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والا مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہو، ناکام ہی ہوگا۔
جنگ بدر میں فرشتے نصرت کے لئے اتارے گئے تھے لیکن اس سے پہلے مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو کہ آسان کام نہیں تھا اور خدا کے محبوب رات بھر جاگ کر یا تو پالیسی بناتے رہے یا سجدے میں پڑے رہے تھے۔ جس ملک کے ووٹر ذہنی غلام ہوں، پیر اور شاہ غنڈے ہوں، مولوی منافق ہوں، ڈاکٹر سوداگر ہوں، سیاستدان، جج، وکیل، سرکاری آفیسر اور پولیس بے ایمان اور لٹیرے ہوں۔ لکھاری خوشامدی ہوں، اداکار بھانڈ ہوں، ٹی وی چینل مسخرے ہوں، تاجر بے ایمان اور سود خور ہوں، اساتذہ فرائض ٹھیک ادا نہ کریں، دوکاندار کم تولنے والے اور ملاوٹ کرنے والے ہوں، جہاں تین سال کی بچی سے لے کر عمر رسیدہ عورتوں کی عصمت دری کی جائے اور مجرموں کو سیاسی دباﺅ یا کرپشن کی وجہ سے چھوڑ دیا جائے۔
کیا اس قوم کو تباہ ہونے سے دنیا کی کوئی قوم بچا سکتی ہے؟ کیا اس قوم کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے؟ جو بھی کام آپ دوپہر کو زوال کے وقت شروع کریں گے وہ زوال ہی کی طرف جائے گا، کبھی بھی اس میں برکت اور ترقی نہیں ہوگی۔
اور یہ مت سوچیں کہ میں صبح صبح اٹھ کر کام پر جاﺅں گا تو اس وقت لوگ سو رہے ہوں گے ، میرے پاس گاہک کدھر سے آئے گا، گاہک اور رزق اللہ تعالیٰ بھیجتے ہیں۔
بہادر شاہ ظفر کے سارے شہزادوں کے سر قلم کرکے اس کے سامنے کیوں پیش کئے گئے۔
قبر کے لئے ہندوستان میں جگہ کیوں نہ ملی
آج بھی اس کی نسل کے بچے کھچے لوگ بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔
کیوں؟
تباہی ایک دن میں نہیں آتی، یاد رکھیں یہ آہستہ آہستہ قوموں کو برباد کرتی ہے، ہم اس سے قریب ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں تاریخ سے سیکھنے کی توفیق دے، آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں