اُردو زبان اور سیاسی ریلوکٹا 101

عجب لوگ

حضرت سعدیؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں نے ایک مکان خریدنے کا ارادہ کیا اس سلسلے میں بات چیت جاری تھی۔ اس مکان کے پڑوس میں رہنے والا تھانیدار مجھ سے ملا اور کہنے لگا کہ یہ مکان آپ ضرور خرید لیں اس میں کوئی عیب نہیں۔ اس کی یہ بات سن کر میں نے کہا ”ہاں اس میں کوئی عیب نہیں سوائے اس عیب کے کہ تو اس کا ہمسایہ ہے“۔
سعدیؒ نے تو اپنے ہمسائے کو پہچان لیا ہمارے لوگوں میں ہمسائے کو پہچان کر بھی اس کے عیبوں کو نہ پہچاننا بھی خوب آتا ہے۔
یہ لوگ بھی عجیب لوگ ہیں، صدیوں سے جن پڑوسیوں کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے ان کے حالات رسم و رواج خوبیوں عیبوں کے بارے میں بخوبی واقف رہے ان کے ساتھ زندگیاں بسر کرنے کے بجائے نئے پڑوس میں جا کر بسنے کا ارادہ کیا۔ اس کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرکے قربان کرکے نئے پڑوس میں جا کر بس گئے۔
یہ پل دو پل کی بات نہیں، یہ صدیوں کا قصہ ہے۔ ہندوستان کے اقلیتی صوبوں کے مسلمان جو اپنے اپنے علاقوں میں فاتحانہ زندگیاں گزار رہے تھے اپنے اپنے شعبوں میں اعلیٰ مقامات پر فائز تھے۔ دوسرے طبقات کے لوگوں میں اپنی حیثیت اور مرتبے کے مطابق پہچانے جاتے تھے جس کی وجہ سے وہ بہت با عزت حیثیت کے حامل سمجھے جاتے تھے ان کے پڑوسی جو تعداد میں ان سے کہیں زیادہ تھے مگر وہ ان اقلیتی مسلمانوں کی موجودگی کو اپنے لئے ایک اعزاز سمجھتے تھے کیونکہ یہ مسلمان جو اسلامی تعلیمات کے مطابق ان تمام غیر مسلموں سے برابری کی بنیاد پر حسن سلوک کے مرتکب ہوتے تھے ان کی نظر میں اعلیٰ ذات کا ہندو برہمن یا نچلی ذات کا اچھوت ایک حیثیت کے حامل سمجھے جاتے تھے کیونکہ ان مسلمانوں کی تعلیمات یہ ہی تھیں کہ کسی گورے کو کالے پر، کسی عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت ہے نہ کوئی برتری سوائے آپ کی نیکیوں کے۔
یوں تو اچھے برے انسان ہر طبقات می ہوتے ہیں مگر مجموعی طور پر اقلیتی مسلم صوبوں کے مسلمانوں کی دوسرے طبقات میں ان طرز زندگی کی بدولت ایک نمایاں حیثیت کے ساتھ ساتھ ایک اعلیٰ درجہ کی ساکھ بھی قائم ہو چکی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ تقریباً ایک ہزار سال تک ساتھ زندگیاں گزارنے کے باوجود یہ اپنے اپنے ہمسایوں کے ساتھ نہایت امن و شانتی سے پرمسرت زندگی گزارتے رہے۔ اس دوران مختلف حکمرانوں نے برصغیر پر حکومتیں بھی کیں لیکن ان مسلمانوں کے تعلقات آپس میں نہایت رواداری کے ساتھ پیار و محبت کے رہے۔ یہ لوگ اعلیٰ ذہن، بہترین تربیت رکھنے کے باوجود سادہ مزاج تھے جب برصغیر پر انگریز نے سو سال کی حکومت کے خاتمہ کے موقع پر اقتدار چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو اس نے ان لوگوں کے درمیان نفاق کے بیج بونے شروع کئے جس کے زیادہ اثرات ان ہی لوگوں میں پیدا ہونے شروع ہوئے اس طرح انہوں نے ایک تحریک آزادی کا آغاز کیا جس کو انہوں نے تحریک پاکستان کا نام دیا۔ جب کہ ان کے مقابلہ میں ان اکثریتی صوبوں کے مسلمانوں نے انگریز کی اس سازش کو سمجھتے ہوئے ان کی اس تحریک میں شروع میں دلچسپی نہیں لی یوں برصغیر کے اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں نے تحریک پاکستان کے لئے اپنا سب کچھ داﺅ پر لگا دیا یوں وہ اس تحریک کو رفتہ رفتہ پروان چڑھاتے رہے آخر میں ان کو بھی معلوم ہو گیا کہ پاکستان ان کے اقلیتی صوبوں میں قائم نہیں ہو سکتا تو پھر انہوں نے تاریخی انہونا فیصلہ کیا کہ صدیوں سے ساتھ رہنے والوں پڑوسیوں کو چھوڑ کر ان علاقوں میں جا کر بس جائیں گے جہاں اکثریتی مسلم صوبوں میں پاکستان قائم ہو گا اس طرح ان لوگوں کو پاکستان کے نام سے ایک والہانہ عقیدت اور محبت قائم ہو گئی یوں وہ پاکستان کے نام پر سب کچھ لٹا کر پاکستان ہجرت کر گئے کیونکہ ان کو یہ معلوم تھا وہ جن صلاحیتوں کے مالک ہیں ان صلاحیتوں کی پاکستان کو شدید ضرورت ہے جب کہ وہاں کے مقامی مسلمانوں میں ان صلاحیتوں کا فقدان ہے۔ انہوں نے پاکستان آکر ان صلاحیتوں سے پاکستان کے تمام اداروں کو نہ صرف مضبوط بنیادوں پر قائم کیا اور سنوارا بلکہ اپنے مقامی مسلمان بھائیوں کو تربیت دے کر اپنے ساتھ ساتھ شامل کیا اس میں سب کچھ پاکستان کی محبت کی بدولت ہوا۔
جب یہ ادارے مضبوط بنیادوں پر قائم ہو گئے اس وقت وہ خود کمزور سے کمزور ہوتے چلے گئے۔ ان اداروں کی بدولت جو لوگ طاقتور ہوئے انہوں نے ان کے ساتھ نا انصافیوں کا سلسلہ شروع کردیا یہ دل ہی دل میں کڑھتے رہے ان نا انصافیوں کے خلاف احتجاج کرتے رہے مگر ان کی کوئی سنوائی نہیں ہوئی ان کی ایک نسل نے ان نا انصافیوں کو پاکستان کی محبت میں قبول کرلیا اور وقت کے قبرستان میں دفن ہو گئے پھر ان کی دوسری نسل نے جب یہ دیکھا کہ ان نا انصافیوں کا سلسلہ بجائے ختم ہونے کے بڑھتا چلا جا رہا ہے تو ان میں شدید احساس محرومی پیدا ہونا شروع ہوا مگر پاکستان سے محبت ان کے دل سے نہ مٹ سکی۔
جب ان کے شہر کراچی سے دارالحکومت تبدیل ہوا تو ان کا احساس محرومی اور بڑھ گیا مگر پاکستان سے محبت نہ مٹ سکی۔ جب باقی پاکستان قائد اعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت میں ان کے شہروں پر چڑھائی کی گئی تو ان کے دل سے پاکستان کی محبت نہ مٹ سکی جب کہ ان کے مقابلہ میں بنگالیوں کے ساتھ معمولی سی نا انصافی ہوئی تو وہ پاکستان کی محبت ختم کرکے پانے الگ ملک کے لئے کوشاں ہو گئے مگر ان عجب لوگوں جو اقلیتی صوبوں سے تعلق رکھتے تھے پاکستان سے محبت ختم کرنے کو تیار نہ ہوئے۔
پھر یحییٰ خان نے ان کے 303 اعلیٰ عہدے داروں کو بیک جنبش قلم فارغ کیا ت وان کے دل سے پاکستان کی محبت ختم نہیں ہوئی۔ بھٹو کے دور میں اردو کے ساتھ اردو بولنے والوں کے جنازے نکلے تو پاکستان کی محبت ختم نہ ہوئی۔ جب اس دور میں بھی ان کے 1300 اعلیٰ افسران کو فارغ کیا اور کوٹہ سسٹم نافذ کیا تب بھی پاکستان کی محبت ان کے دلوں سے ختم نہ ہو سکی۔ یہ وہ دور تھا جب معمولی نا انصافیوں پر سندھ میں سندھو دیش کے نعرے لگائے جارہے تھے۔ بلوچستان میں فوجی آپریشن کی نوبت آگئی تھی، سرحد میں پختون زملے کے نام سے تنظیم قائم ہو گئی تھی پھر الذوالفقار نام کی تنظیم قائم ہو گئی تھی مگر یہ عجیب لوگ پاکستان اور پاکستان کے نام پر قائم رہنے والی قوتوں کے ساتھ کھڑے رہے مگر ان عجیب لوگوں نے ان تمام نا انصافیوں کے باوجود پاکستان کی محبت کو فراموش نہیں کیا مگر اس موقع پر ایک تنظیم بھی قائم کر لی اس تنظیم نے ان نا انصافیوں کے خاتمہ کے لئے جدوجہد کرنے کا آغاز کیا تو اس کے لئے اتنی بھرپور سپورٹ کی یہ سندھ کے شہری علاقوں کی سب سے طاقتور تنظیم بن کر اُبھری۔ اس تنظیم کے لئے انہوں نے نہ صرف بھرپور ووٹ کا استعمال کیا بلکہ وقت آنے پر اس پر اتنا نوٹ برسایا کہ دنیا حیران ہو گئی ایک وقت یہ بھی آیا کہ انہوں نے اس تنظیم کی خاطر پندرہ ہزار لوگوں کے خون کی قربانی بھی با رضا و رغبت پیش کردی۔ اس کے قائد کے لئے یہ بھی نعرہ لگایا کہ ہمیں ”منزل نہیں رہنما چاہئے“ کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ان کی نا انصافیوں اور مشکلات کا حل ان کے قائد کے ہاتھ میں ہے۔ ان کے اباﺅ اجداد نے یہ جانتے بوجھتے کہ پاکستان ان علاقوں میں قائم نہیں ہوگا جہاں وہ رہتے ہیں پاکستان کے لئے اپنی لاکھوں جانوں کے ساتھ ساتھ زمین مال رواج معاشرت سب کچھ قربان کردیا۔ مگر جب ان کے ساتھ نا انصافیوں کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا تو ایک ایسی تنظیم قائم کردی جس کی مثال برصغیر میں کہیں نہیں ملتی۔ اس تنظیم کے رہنما کے لئے نعرہ لگا کر ”منزل نہیں رہنما چاہئے“ ”جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے“۔
مگر یہ عجب لوگ ہیں انہوں نے اپنی محبوب ترین قائد کو جس کے لئے وہ ووٹ، نوٹ اور خون دے دیتے جب اس قائد نے پاکستان کے خلاف نعرہ لگا دیا تو اس عجیب قوم کے عجیب لوگوں نے اس پاکستان کی خاطر اپنے محبوب ترین قائد کا بھی ساتھ چھوڑ دیا۔ جس طرح ان کے بزرگوں نے پاکستان کے نام پر اپنی زمین معاشرت اعلیٰ مقام مرتبہ اور اقتدار چھوڑ کر پاکستان کے نام کو تھاما۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں