yasmeen-muzafar columnist 94

عروس البلاد کراچی

کراچی جو وفاق کے خزانے کو 65% ریونیو کما کر دیتا ہے، سندھ کے بجٹ میں 95% کا حصہ ڈالتا ہے۔ پاکستان کی وہ واحد بندرگاہ جو نہ صرف پاکستان بلکہ پڑوسیوں کے لئے بھی ایک رابطہ مہیا کرتا ہے۔ جس شہر میں پاکستان کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہے جو پاکستان کا خوبصورت ترین شہر تھا بلکہ ہر لحاظ سے بے حد متحرک، علمی، ادبی، تجارتی، معاشی اور معاشرتی طور پر پاکستان کا دل تصور کیا جاتا تھا۔ کراچی جو ہزاروں لاکھوں لوگوں کی امیدوں کا مرکز ہے، جس میں پاکستان کے ہر حصے سے لوگ اپنا رزق تلاش کرنے آتے ہیں اور وہ اپنی بانہیں پھیلائے ایک ماں کی طرح ان کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔ ان کی پرورش کرتا ہے، وہی کراچی آج بے یارومددگار ہے، وہ سب کا تھا، ہے اور رہے گا، مگر اس کا کوئی نہیں۔ یہاں آکر قدم جمانے والے، اپنی زندگیاں بنانے والے اور اثاثے بنانے والے اور پھر اس کے بل بوتے پر آگے بڑھ جانے والے کوئی بھی اس سے تعلق نہیں رکھنا چاہتے۔ یہ ایک ایسا پرستان ہے جہاں کی جادوئی کیفیت ہر ایک کو اس کے خوابوں کی تعبیر بخش دیتی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانے والے بہت ہیں مگر اس کے کام آنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔
کلاچی سے کراچی تک اور دیبل سے گوادر تک کا سفر کرنے والے شہر سے تو اسی وقت آنکھیں پھیر لی گئی تھیں جب 1960ءمیں دارالحکومت اٹھا کر اسلام آباد منتقل کیا گیا۔ اسے سندھ میں ضم کردیا گیا۔ کوٹہ سسٹم نافذ کردیا گیا۔ پہلے مارشل لاءکے بعد یہاں لسانی فرقہ واریت کو ہوا دی گئی۔ کراچی میں بسنے والوں کے درمیان دیوار کھینچنے کی کوشش کی گئی اور اس میں خاطر خواہ کامیابی بھی ہوئی۔ اس وقت کراچی ڈوب رہا ہے۔ ڈوب تو بہت پہلے ہی رہا تھا، کئی دہائیوں سے کسی بھی وفاقی حکومت نے کراچی کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ 1984ءمیں کراچی میں ایم کیو ایم کی بنیاد پڑی۔ 1998ءکی مردم شماری کے حساب سے کراچی میں 65% فیصد آبادی اردو بولنے والوں کی تھی۔ اس جماعت کو کراچی نے بھرپور حمایت دی، اس سے پہلے کراچی جماعت اسلامی کا شہر کہلاتا تھا، ایم کیو ایم نے اس 65% آبادی کی نبض پر ہاتھ رکھا، ان کے مسائل کے حق میں آواز اٹھائی اور عزت، مال و جان کی قربانی دے کر ہجرت کرنے والوں کو مہاجر کا عنوان دیا۔ اس جماعت نے جہاں اردو بولنے والوں کو ایک پہچان دی، وہیں انہیں دوسروں خاص کر سندھیوں سے ایک الگ مقام پر لاکھڑا کیا۔ یہ ایک طرح کی تقسیم تھی، جس نے بعد میں اپنا اثر اور ردعمل دکھایا۔ ابتداءمیں اس جماعت نے ایک پڑھی لکھی اور منظم کردار کی عکاسی کی۔ کراچی میں کام بھی کئے مگر پھر اس کی سیاست کا محور بدل گیا۔ 1988ءسے لے کر اب تک ایم کوی ایم ہر حکومت کی شریک کار رہی ہے مگر اہلیان کراچی کو ان کی بھرپور پذیرائی کے باوجود اس نے مایوسی سے دوچار کیا، کراچی کے مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہی چلے گئے۔ وفاقی حکومتوں نے کراچی کو ایک خاص انداز فکر کے لوگوں کا شہر سے موسوم کرتے ہوئے اسے نظر انداز کرنے کا رویہ اختیار رکھا۔ مشرف دور میں کراچی کے حالات کچھ بہتر ہوئے۔ کراچی کو کچھ ترقیاتی فنڈز الاٹ ہوئے اور یقینی طور پر مصطفیٰ کمال نے کراچی کی شکل بدلنے کی کوشش کی۔ گزشتہ برسوں میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے نعمت اللہ خان نے بھی کراچی کی باگ ڈور سنبھالی اور ترقیاتی کام کئے۔
پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے وقت کراچی کی آبادی 4 لاکھ کے لگ بھگ تھی جو اب بڑھ کر سوا دو کروڑ سے اوپر ہو چکی ہے۔ اس کا رقبہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔ 1976ءمیں بلدیہ عظمی کراچی بنایا گیا۔ 2001ءمیں 5 اضلاع یا ڈویژن میں تقسیم کردیا گیا۔ ابھی حال ہی میں سندھ حکومت نے ایک اور نئے ضلع کا اعلان کیا ہے۔ کراچی کو اضلاع میں اس لئے تقسیم کیا گیا کہ اس کی بڑھتی ہوئی آبادی اور وسائل کو اور مسائل سے انتظامی طور پر بہتر طریقے سے نمٹا جا سکے۔ کراچی روشنیوں کے شہر سے مسائل کے شہر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ سندھ میں راج کرنے والی تمام جماعتوں اور حکومتوں نے اس میں اپنا بھرپور طریقے سے کردار ادا کیا ہے۔ تمام تقریباً شہری ادارے حکومت سندھ کے دائرے میں آتے ہیں مگر اس شہر میں کوئی کام ہوتا نظر نہیں آتا۔ کراچی میں ناجائز تجاوزات کی بھرمار ہے۔ کسی قسم کی پلاننگ نظر نہیں آتی بس یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زمین فروخت ہوئی اور متعلقہ ادارہ بلڈر سے کمیشن لے کر بغیر کسی منصوبہ کے تعمیر کی اجازت دے دیتا ہے۔ شہر کے اندر بے شمار جگہوں پر چائنا کٹنگ پر زمینیں ہی الاٹ کی گئی ہیں۔ پارکوں کو جگہوں پر کثیر المنزلہ عمارتیں کھڑی کر دی گئی۔ جگہ جگہ بڑے بڑے شاپنگ پلازے بنا دیئے گئے ہیں یہ سوچے بغیر کہ یہاں آنے والی گاڑیاں کہاں پارک کریں گے۔ ٹاﺅن پلاننگ جیسی کسی اسکیم سے لگتا ہے حکومت آگاہ ہی نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو اسے عام لوگوں کی مشکلوں کا ادراک کرنے کا احساس نہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ جیسی کوئی چیز سڑکوں پر نظر نہیں آتی۔ وہی ٹوٹ پھوٹی شکستہ بسیں یہاں کے لوگوں کا مقدر ہیں۔ وہ سرکلر ریلوے جو 60 کی دہائی میں شروع کی گئی تھی۔ غائب ہو چکی ہے۔ جس شہر میں لوگ پانی خود واٹر بورڈ کے ٹینکرز کے مافیا سے خرید کے پیتے ہوں۔ وہاں پانی کی کمیابی کا شکوہ کرنا بیکار ہے۔ لوڈشیدنگ کا دور دورہ ہے، کراچی میں گندگی اور کوڑے کا ڈھیر ہر طرف ہے، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا کوئی تصور ہی نہیں نظر آتا۔ اسٹریٹ کرائم عروج پر ہے، شہری اپنی جان و مال و عزت کی حفاظت خود کرنے کی تگ و دو میں رہتے ہیں۔ پچھلے 12 سال سے سندھ پیپلزپارٹی کی حکومت بارہا اس شہر کو سیف سٹی (Safe City) بنانے کے دعوے کررہی ہے مگر عملدرآمد کی کوئی نشانیاں نہیں دکھائی دیتی ہیں۔ وزراءاپنی اپنی پریس کانفرنس کرتے رہتے ہیں۔ اس وقت کی بارشوں سے کراچی جس طرح تباہ و برباد ہوا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ محکمہ موسمیات تو پیش گوئیاں کررہا تھا، سندھ حکومت حفاظتی اقدام کرنے میں کیوں کر ناکام رہی؟ 18 ویں ترمیم کے بعد یہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داریاں ہیں کہ وہ اپنے عوام کے مسائل سے نبٹنے کی صلاحیت اور انتظام رکھیں۔ میئر کراچی بھی آنسو بہاتے ہوئے چلے گئے کہ ”میرے تو ہاتھ بندھے ہوئے تھے، میں تو بے اختیار تھا“ کہ سوال یہ اٹھتا ہے کہ جاتے جاتے ہی انہیں اپنے تہی داماں ہونے کے المیہ کی خبر ہوئی۔ پچھلے 4 سال کہاں گزر گئے۔ سندھ حکومت اس وقت پھر وفاق سے مالی پیکیج کا تقاضا کررہی ہے، وہی پرانی کہانی جو پچھلے کئی سالوں سے دہرائی جارہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کراچی سے اتنی تعداد میں ووٹ لینے کے بعد تحریک انصاف کی حکومت کراچی کے مسائل کی طرف توجہ دیتی اور اس وقت یہ ثابت کرتی کہ واقعی وہ تبدیلی لانے کی خواہاں ہے۔ کراچی نے اسی امید پر پی ٹی آئی کا انتخاب کیا تھا۔ اگر تحریک انصاف کے پی پی پی کی سندھ حکومت سے کچھ تحفظات بھی تھے تو بھی اسے اس کا شکار اپنے ووٹروں کو نہیں بنانا چاہئے تھا۔ یہ وقت تھا کہ وہ یہ باور کراتی کہ کراچی نے ایم کیو ایم اور پی پی پی کے مقابلے میں اسے ووٹ دے کر صحیح فیصلہ کیا ہے یہ تو اسکورنگ کا وقت تھا، مگر ظاہر یہی ہو رہا ہے کہ پی ٹی آئی کراچی والوں کو محض یہ یقین دلانے میں مصروف رہی کہ سندھ کی موجودہ حکومت نا اہل ہے اور چونکہ پچھلے 12 سال سے یہاں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے اس لئے اب بھی نہیں ہوں گے۔ Covid-19 سے لے کر حالیہ بارشوں تک پی ٹی آئی صرف اپنی اور سندھ حکومت کی چپقلش کا رونا روتی رہی اور اس درمیان کراچی کو تباہ حال ہونے کے لئے چھوڑ دیا۔ اب وفاقی حکومت کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ ایک بہت بڑا کراچی ٹرانسفرمیشن پیکیج تیار کر لیا گیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک ترقیاتی کمیشن بنانے کا اعلان بھی کیا گیا۔ جس میں سندھ، وفاقی حکومت کے ارکان شامل تھے، پر عملدرآمد کب شروع ہو گا اور اس کے نتائج حاصل کرنے کے لئے کراچی والوں کو اور کس کرب ناک صورتوں سے گزرنا ہوگا۔ اس وقت کراچی میں نئے ایڈمنسٹریٹر کا تنازعہ بھی زور پر ہے، سندھ حکومت کسی ایسے امیدوار کی تلاش میں ہے جو ان کی پالیسیوں پر کام کر سکے اس ضمن میں کسی اور سے مشاورت کا امکان نظر نہیں آتا کہ سندھ حکومت نے یہ واضح کر دیا کہ یہ اس کا آئینی حق ہے کہ وہ جسے چاہے مقرر کر سکے۔ اس وقت کراچی کی حالت غیر ہو رہی ہے۔ کروڑوں کا نقصان ہر طرف ہوا ہے۔ کراچی کے لوگ اب حکومتوں سے نالاں اور مایوس ہیں۔ اس آڑے وقت اگر مقامی تنظیمیں مدد کرنے کا بیڑا نہ اٹھائیں تو صورت حال بہت ہی دگرگوں ہوتی۔ عمران خان کا یہ کہنا درست ہے کہ کراچی کو ایک میگاسٹی کا درجہ دینا چاہئے۔ کئی ممالک میں ان کے بڑے اور کاسموپولیٹن شہر خودمختاری کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کا اپنا ایک انتظامی ڈھانچہ ہوتا ہے۔ الگ انتظامی یونٹ کے طور پر کراچی کے لئے ایک مضبوط فیصلے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری کہ اس مسئلہ کو حل کرنے میں سنجیدگی اختیار کرے یا پھر کراچی کو ایک صوبہ کا درجہ دینا چاہئے۔ کراچی یحییٰ خان کی حکومت کے زمانے میں سندھ میں شامل کیا گیا۔ اس سے پہلے وہ اپنی ایک الگ شناخت رکھتا تھا۔ یہ کوئی نیا کام نہیں ہو گا۔ اس بے مقصد سندھ کی تقسیم ہر گز نہیں ہو گی بلکہ ایک بڑے شہر کو اپنے معاملات خود چلانے کی ذمہ داری دینی ہو گی۔ اگر جنوبی پنجاب میں ایڈمنسٹریٹر لگ سکتا ہے تو کراچی کو بھی انتظامی یونٹ کے طور پر تسلیم کرنا چاہئے تاکہ اس شہر کے مسائل کا حل نکل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں