بحیثیت قوم کیا ہم اختتام پذیر ہوچکے ہیں؟ 26

عمران خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب

وزیر اعظم عمران خان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی حالیہ تقریر کو عالمی سطح پر بے انتہا پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ عمران خان کی یہ تقریر اس وقت سب سے زیادہ سنی جانے والی تقریر ہوتی ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم نے ان تمام موجودہ مسائل کا جو اس وقت عالمی سطح پر سر اٹھا رہے ہیں، بہترین انداز میں احاطہ کیا۔ یہ تقریر ایک جامع اور فکر آمیز تقریر تھی۔
عمران خان نے ان تمام مسائل پر نہ صرف کھل کر بات کی بلکہ خصوصاً اپنی حکومت کے نقطہ نظر کو انتہائی مضبوطی اور مدلل طریقہ سے اجاگر کیا اور اقوام متحدہ کے تمام ممبران کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اب وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ان مسائل کو باہم یگانگت اور روابط کے ذریعے حل کرنے کی جانب اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے خاص طور پر ان ممالک کو خطاب کیا جو مختلف ممالک کے کرپٹ افراد کو مالی تحفظ مہیا کرتے ہیں۔ یہ واضح کیا گیا کہ اس مد میں نہ صرف آپ دوسرے ممالک کو نقصان پہنچانے کے لئے آلہ کار بنتے ہیں بلکہ ان افراد کو پناہ دے کر آپ عالمی سطح پر کرپشن پھیلانے کی ذمہ داری کے مرتکب بھی ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک ان افراد اور کمپنیوں کی وجہ سے شدید معاشی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ عمران خان نے کشمیر اور فلسطین کے موجودہ حالات کا بھرپور تجزیہ کیا۔ بھارت اور اسرائیل کی مسلم کش پالیسی کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی نفی کرنے والی بھارتی پالیسیوں پر عالمی برادری کے خاموش ردعمل پر احتجاج اٹھایا اور ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کردیا کہ پاکستان اپنی پوری توانائی کے ساتھ بھارت کی کسی بھی شر انگیزی سے نپٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم کی اس تقریر کے دوران بھارتی وفد ان باتوںکی امید رکھتا ہوا اسمبلی سے واک آﺅٹ کر گیا۔ اپنی پچھلی تقریر کی طرح عمران خان نے اپنی اس تقریر میں بھی تفصیلی طور پر دنیا میں اسلاموفوبیا پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور نہ صرف یہ واضح کیا کہ اسلام مخالف بیانات اور عمل سے مسلمانوں کے لئے نہ صرف شدید دل آزاری کے اسباب پیدا ہوتے ہیں بلکہ انتہائی مضبوط لہجے میں یہ واضح کیا کہ اسلام امن پسند اور دوسروں کو عزت اور تحفظ دینے والا ایک مذہب ہے جس میں نا انصافی اور ظلم کی کوئی گنجائش نہیں۔
پاکستان نے ماحولیات کی بہتری کے لئے جو اقدام اٹھائے ہیں ان سے منسلک کرتے ہوئے عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ یہ ایک انتہائی گمبھیر مسئلہ ہے جس کی طرف توجہ نہ دینا ناگزیر ہے۔ پاکستان نے اس وقت اپنی خارجہ پالیسی کے تحت افغانستان کے امن مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان اپنے ہر پڑوسی ملک اور دنیا میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں ہمیشہ شامل رہے گا۔ مجموعی طور پر پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی اس تقریر کو ایک انتہائی مربوط اور منظم خیالات و افکار کے طو پر عالمی سطح پر انتہائی ستائش کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔
جہاں عمران خان کی تقریر نے عالمی سطح پر اپنا ایک مقام متعین کیا ہے وہیں کچھ اور حالیہ تقریروں نے پاکستان کے اندرونی سطح پر ایک ہلچل مچائی ہے۔ وہ اے پی سی جس کے چرچے تھے بالاخر منعقد ہو گئی اور اپوزیشن کی تقریباً تمام جماعتیں مل بیٹھیں اور اسے ڈیموکریٹک موومنٹ کا نام دیا گیا۔ جماعت اسلامی اس الائنس میں شریک نہیں ہوئی۔ ابتداءمیں یہ خبریں آئیں کہ مولانا فضل الرحمان بڑی پارٹیوں سے بددل ہو کر چھوٹی پارٹیوں سے رابطہ کرنے میں مصروف ہو گئے ہیں بالاخر اپوزیشن ایک ہوئی اور اس الائنس کی پہلی بیٹھک کے بعد جو اعلامیہ جاری ہوا اس میں مہنگائی سے لے کر سیاست میں فوجی مداخلت حکومت کی ناکام معاسی پالیسیاں، ٹیکسوں کی بھرمار، صوبائی خودمختاری، صدارتی حکومت کے امکان کی نفی، ملک میں دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تناﺅ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مولانا کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ سقوط کشمیر کی ذمہ داری بھی موجودہ حکومت کی ہے، فیصلہ یہ سنایا گیا کہ احتجاج کا مرحلہ 4 ماہ بعد جنوری میں شروع کیا جائے گا اس پر کئی حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ یہ طویل درمیانی وقفہ کس بنیاد پر لیا گیا ہے، کیا تمام شرکاءاس دوران میں کسی اور راستہ کی تگ و دو میں مصروف رہیں گے کیونکہ اپوزیشن کی کئی جماعتوں کا ماضی ایسی بے شمار کارروائیوں سے مزین ہے یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ مولانا نے پچھلی دفعہ کی چوٹ کھانے کے بعد اس دفعہ یہ اصرارکیا کہ اس اعلامیہ پر اس دفعہ تمام جماعتوں کے دستخط ہونے چاہئے۔ ابھی ان دستخطوں کی سیاہی خشک بھی نہ ہونے پائی تھی کہ نون لیگ کے فوجی رابطوں کے راز آشکار ہونے لگے۔ دونوں جانبوں سے پریس کانفرسوں کا سلسلے شروع ہو گیا۔ حکومتی وزراءاور مشیروں نے اپنی کارکردگی برقرار رکھی اور حسب روایت بیشتر نان ایشوز کو ایشوز بنانے میں سرگرم عمل ہو گئے۔ اپوزیشن کی صفوں میں بھی کھلبلی مچی اور ایک اور بیٹھک عمل میں آئی، جس میں محترم نواز شریف نے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی انہوں نے تقریباً 50 منٹ تک تقریر کی اور حسب روایت موجودہ حکومت کو سلیکٹ کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کی اور ایک دفعہ پھر اسٹیبلشمنٹ اور عدالتوں کو للکارنے کا انداز اپنایا۔ اس کانفرنس میں اسمبلی سے استعفیٰ دینے کی بات کی گئی بلکہ وزیر اعظم سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ نواز شریف ایک معاہدہ پر بیرون ملک بھیجے گئے ہیں۔ عدالتی حکم کے مطابق ان پر سیاست میں عمل دخل پر پابندی ہے انہوں نے اپنی تقریروں میں فوج اور عدالتوں کے خلاف سخت زبان اور لہجہ اختیار کیا ہے اور کانفرنس کے شرکاءسے سخت ترین ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہو گاکہ مکمل نواز لیگ اتنے بیانیے کے ساتھ کس قدر کھڑی ہو گی، کیا نواز لیگ اور دوسرے عام کارکن اپنی فوج کے خلاف علم بغاوت بلند کریں گے۔ کیا استعفوں کی سیاست کرنے پر آمادگی ہو گی جب کہ مولانا تو ویسے ہی خالی ہاتھ ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں کا اکھٹا ہونا کوئی نئی یا غیر معمولی بات نہیں ہے۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ 1964ءمیں ایوب خان کے خلاف کمبائنڈ اپوزیشن پارٹی کی بنیاد رکھی گئی پھر اسی پارٹی سے محترمہ فاطمہ جناح کو صدارتی امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا۔ 1968ءمیں نوابزادہ نصر اللہ خان کی سربراہی میں ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی وجود میں آئی۔ 1977ءمیں پاکستان نیشن الائنس اور 1983ءمیں تحریک بحالی جمہوریت سرگرم عمل رہی۔ اسی طرح 2002ءمیں ایک دفعہ پھر بحالی جمہوریت کی متحدہ تنظیم قائم ہوئی مگر گزشتہ تحریکوں اور موجودہ موومنٹ میں ایک واضح فرق یہ نظر آرہا ہے کہ ماضی کی تحریکوں کا محور سیاست رہی ان میں سیاسی اختلافات کا عنصر نمایاں رہا جب کہ موجودہ الائنس کے بیشتر شرکاءکسی نہ کسی طور پر نیب یا عدالتوں کو مطلوب ہیں۔ مقدمے سیاست کے بجائے کرپشن اور بددیانتی پر مبنی ہیں۔ بعض حلقوں اور حکومت کی طرف سے اس وقت نواز شریف کی تقریروں کو ریاست کے خلاف بیانیہ قرار دیا جارہا ہے اگر دیکھا جائے تو نواز شریف اس وقت انتہائی فرسٹیٹڈ نظر آرہے ہیں۔ مایوس اور بددل بھی۔ ماضی میں وہ جن راستوں سے مفاہمت کے دروازے کھولتے رہے ہیں فی الحال ان کی کوئی امید نظر نہیں آرہی۔ عدالتیں ان کے بارے میں منفی بیانات کررہی ہیں۔ شہباز شریف گرفتار ہو چکے ہیں، مریم نواز کے مقدمے سے جان چھوٹنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ تین دفعہ وزیر اعظم رہنے والا شخص اگر اپنے ملک کے دفاعی رازوں کی حفاظت کی صلاحیت سے محروم ہو جائے تو یہ ایک نہ صرف انتہائی غیر ذمہ داری بلکہ انتہائی طور پر کمزوری کی دلیل ہے۔ اپوزیشن کی جماعتیں کیا فوج کے اور ریاست کے خلاف برسرپیکار ہوں گی۔ یا یہ کارخیر صرف ن لیگ کے حصے میں آئے گا۔ آصف زرداری نے اپنی ڈیڑھ منٹ کی تقریر میں واضح کردیا ہے کہ وہ کھل کر کھیلنے کے عمل میں شامل نہیں ہوں گے۔ ن لیگ یوں بھی لگتا ہے کہ خود اپنی بیانیوں کی صداقت پر ایمان نہیں لا پا رہی ہے کہ اب اس کی طرف سے پنجابی کارڈ کا نعرہ بلند ہوا ہے۔ یہ کسی بھی جماعت کے لئے انتہائی کمور ہونے کی علامت ہے۔ الائنس کی صدارت مولانا فضل الرحمن کو سونپ دی گئی ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہوئے ایک دفعہ پھر مولانا کے ساتھ ہاتھ کھیلنے کا ارادہ رکھ رہی ہے۔
پس منظر میں تحریک انصاف پر اپنی کارگزاریوں کو بہتر بنانے اور ملکی حالات پر گرفت رکھنے کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ میڈیا پر بیان بازیاں مسئلوں کا حل نہیں ہوتیں۔ اس وقت نہ صرف وزیر اعظم بلکہ مشیروں اور وزیروں کو سنجیدگی سے عوام کی مشکلات پر توجہ دینی ہو گی۔ چنگاری آگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ امکانات ہمیشہ رہتے ہ یں، کسی بھی عمل کو نظر انداز کرنا یا بے توجہی سے دیکھنا حکومتوں کے حق میں بہتر نہیں ہوتا۔ مضبوط حکومتیں خود احتسابی کے عمل پر کاربند رہتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں