اسلام آباد ہائی کورٹ میں سولہ صحافیوں کی سبکی! 150

عید الفطر کرونا کے سنگ!

تمام اہل اسلام کو راقم کی طرف سے پیشگی عیدالفطر بہت بہت مبارک! شوال یعنی عید کا چاند نظر آتے ہی رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے جب کہ ہر مسلمان کی زبان سے بے اختیار اللہ کی عظمت کی شان کے الفاظ جاری ہو جاتے ہیں۔ ”اللہ اکبر، لا الہ اللہ، اللہ اکبر، اللہ اکبر، وللہ الحمد“ تکبریںی کہنے کا یہ سلسلہ نماز عید ادا کرنے تک جاری رہتا ہے۔ عید کی نماز ادا کرنے سے پہلے ہر صاحب استطاعت مسلمان پر صدقہ فطر یا فطرانہ ادا کرنا ضروری ہے۔
عید کی نماز سے فارغ ہوتے ہی پچھلی روایات کے مطابق ایک دوسرے سے مصافحہ کرنا اور گلے ملنا سنت طریقہ ہے۔ جس سے رنجش دور ہوتی ہیں، دل صاف ہوتے ہیں، خوشی کے اس موقع پر اپنوں اور غیروں کے درمیان صلع ہو جایا کرتی ہے۔ لوگ مسجدوں سے ہلکے دل و دماغ سے گھروں کا رخ کرتے ہیں۔ راستے میں ملنے والے اشخاص اوربچوں کو بھی اسی طرح گلے ملتے، اس سے معاشرہ میں ہم آہنگی اور پیار و محبت کی خوشبو پھیلتی ہے۔ گھروں میں آکر خواتین کو بھی عید کی مبارک باد اسی طرح دی جاتی ہے جیسے مسجد میں لوگوں کو دی جاتی ہے۔ والدہ سے دعائیں لی جاتیں ہیں، بہنوں کے سروں پر ہاتھ رکھا جاتا ہے، بیٹیوں کو گلے لگایا جاتا ہے، نانیوں، دادیوں سے بھی اسی طرح دعائیں بٹوری جاتی ہیں۔
عید کے بعد بڑے، بوڑھے، خواتین، نوجوان اور بچے نئے کپڑے زیب تن کرتے ہیں۔ جس سے ان کی خوشی کا اظہار ہوتا ہے، بہن بھائی، رشتہ دار اور دوست احباب ایک دوسرے کی دعوتیں کرتے ہیں۔ انواع اقسام کے کھانے پکائے جاتے ہیں۔ ریسٹورنٹس میں تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی، بچوں کے لئے میلے ٹھیلے لگتے ہیں۔ عید کی طویل چھٹیوں میں خوب انجوائے کیا جاتا ہے بعض لوگ اندرون ملک اور بعض بیرون ملک بھی عید منانے کے لئے جاتے ہیں۔
یہ تو تھے پچھلے سال تک عید منانے کے طور طریقے لیکن اس بار پوری دنیا کو جس موذی وباءکا سامنا ہے اس کے پیش نظر ہمیں عید کیسے منانی ہو گی اس کا اظہار آج وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بھی کرونا بریفنگ کے دوران کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ ماہرین کے مطابق کرونا کی ویکسین کی تیاری میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔ اس لئے اب ہمیں کرونا کے ساتھ ہی حفاظتی تدابیر لیتے ہوئے عید منانی ہو گی۔ پیر سے مزید کاروبار بھی کھولے جارہے ہیں۔ حکومت نے گھروں سے باہر نکلتے ہوئے فیس ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے کو جرمانہ یا سزا ہو سکتی ہے۔
خوش آئند امر یہ ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا، وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے مطابق کرونا کی دوا امریکہ میں بنا لی گئی ہے یاد رہے یہ ویکسین نہیں ہے، یہ ٹیبلیٹ ہو گی، اس سے خاطرہ خواہ مثبت نتائج نکلیں گے۔ امریکہ کی اس دوا ساز کمپنی نے دنیا بھر میں جن چھ کمپنیوں کو یہ دوا تیار کرنے کی اجازت دی ہے اس میں پاکستان بھی شامل ہے اور یہ دوا پاکستان دنیا کے ایک سو ستائیس ممالک کو ایکسپورٹ بھی کرے گا۔ یعنی ڈبلیو ایچ او اور عالمی اداروں کا پاکستان پر اعتماد بڑھ رہا ہے اور اس کا سہرا ہماری قیادت عمران خان کو جاتا ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد جدید دنیا کی بنیاد رکھی گئی تب سے لے کر 2019ءکے اختتام تک لوگوں نے کرونا جیسی وبا نہیں دیکھی تھی۔ اس دوران کئی وبائیں آئیں مگر وہ محدود خطوں اور لوگوں تک محدود رہیں، کسی وبا نے پوری دنیا کے نظام کو مفلوج نہیں کیا۔
گزشتہ تین چار ماہ سے کرونا سے لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور تیس لاکھ سے زائد افراد پازیٹو کیسز کے ساتھ زیر علاج ہیں۔ بڑے بڑے مضبوط معیشت والے ملکوں کا بھرکس نکل گیا ہے۔ صورت حال اس قدر ابتر ہے کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی سمیت دنیا بھر کے مذہبی عبادت خانے بند کردیئے گئے ہیں۔ تمام بڑے ایونٹس منسوخ کر دیئے گئے ہیں۔اس رمضان کے دوران مساجد میں وہ رونق دیکھنے کو نہیں ملی جو گزشتہ سالوں میں ہوتی تھیں۔ حتیٰ کہ نماز پنجگانہ اور نماز تراویح بھی محدود پیمانے پر ادا کرنے کی اجازت دی گئی تاکہ یہ موذی مرض کے پھیلاﺅ کو روکا جا سکے۔اس وباءکا پھیلاﺅ ہاتھ ملانے، گلے ملنے، چھ فٹ سے قریب آنے اور اجتماعی نوعیت کے ایونٹس سے ہوتا ہے اس کی حفاظتی تدابیر سب کے علم میں ہیں۔
ان خصوصی حالات میں اس بار ہمیں رضائے الٰہی سمجھتے ہوئے اور اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے، عید کی نماز حکومتی ہدایات کے مطابق ادا کرنا ہوگی۔ پرانی روایات کو ترک کرکے موجودہ ماہرین طب کی ہدایات کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔ تاکہ یہ وباءپھیل نہ سکے، کوشش کریں کہ گھروں میں ہی نماز عید کا اہتمام کریں، اگر مسجد یا کھلے میدانوں میں نماز ادا کرنے کی محدود پیمانے پر اجازت ملے بھی تو بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کو گھر پر ہی نماز ادا کرنے کا کہیں۔
اس بار نئے کپڑے نہ بنوائیں تو اسی رقم سے مستحقین کی مالی مدد کردیں تو میں سمجھتا ہوں آپ کو دلی اور روحانی سکون ملے گا۔ گھروں پر رہیں، فیملی کے ساتھ وقت گزاریں، کتابوں کا مطالعہ کریں، اپنی پرانی یاداشتیں قلمبند کریں، اچھی اچھی اصلاحی ویڈیوز دیکھیں، واٹس اپ یا زوم پر دنیا بھر میں رہنے والے بہن، بھائیوں، عزیز و اقارب اور دوست احباب سے تبادلہ خیال کریں۔
عیدالفطر کرونا کے سنگ کی یادیں قلمبند کریں اور شیئر کریں تاکہ ہماری آئندہ آنے والی نسلیں جب کرونا وائرس پر تحقیق کریں تو انہیں آسانی ہو کہ اس وقت لوگوں نے کس طرح اس میں وقت گزارہ تھا اور کیسے مقابلہ کیا تھا۔ تاریخ رقم کریں، خود تاریخ بننے سے بچیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں