Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 103

قاضی فائز عیسیٰ کیس اور ملکی سیاست

قاضی فائز عیسیٰ کیس کا فیصلہ ملک کی سیاست میں ہل چل مچا دے گا، بہت سارے بیمار سیاسی گھوڑوں میں نئی جان ڈال دے گا اور بہت سارے دوڑتے گھوڑوں کی ہوا نکال دے گا یہ میں نہیں وہ حالات کہہ رہے ہیں جو اس اہم ترین عدالتی سماعت سے پیدا ہوتے جارہے ہیں اور کیوں نہ پیدا ہو جو ملک کے سب سے بڑی عدالت کے 10 معزز جج صاحبان صرف یہ معلوم کرنے کے لئے سرجوڑ کر بیٹھے ہیں کہ چھوٹی موٹی ٹیکس چوری کا معاملہ ایک معزز جج کے کردار کشی اور ان کے خلاف ریفرنس کا باعث کس طرح سے بنا۔۔۔؟ کس نے یہ جرات اور ہمت کی۔۔۔؟ وہ کون سا روشن خیال دماغ تھا جس نے حکومت کو ایسا کرنے کے مشورہ دیا۔۔۔؟ اس طرح کی اس ساری عدالتی کارروائی کے دوران اس مقدمے کے اثرات کے تلے اصل مقدمہ ہی دفن ہو کر رہ گیا کہ 2012ءمیں قاضی کے بیوی بچوں نے لندن میں جو پراپرٹی خریدی اس کے لئے سرمایہ کہاں سے آیا۔۔۔؟ منی ٹریل کیا ہے۔۔۔؟ اتنی بڑی عدالتی سماعت کے دوران اس اہم نقطے پر بات ہی نہیں کی جارہی ہے جو اس سارے فساد کی جڑ ہے اور اب تو معزز ججوں نے یہ جواز پیش کرکے منی ٹریل کے زہر کو ہی اس سانپ سے نکال دیا کہ جس زمانے میں لندن کی پراپرٹی خریدی گئی تھی اس وقت منی لانڈرنگ پاکستان میں کوئی جرم نہیں تھا اس کا قانون ہی 2016ءمیں بنا اس لئے اس قانون کا اطلاق جسٹس قاضی کے مقدمے پر نہیں ہو سکتا جس کے بعد یہ مقدمہ صرف ٹیکس چوری کا ایک معمولی مقدمہ بن جاتا ہے جس پر سپریم کورٹ کے کسی معزز جج کو گھر بھجوانا بے جواز ہو گا یہ وہ سوچ ہے جس کے زیر اثر عدالتی کارروائی چل رہی ہے اس تاثر کو ختم کرنے کے لئے سابق وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم وزارت سے استعفیٰ دینے کے بعد سرکار کی جانب سے مقدمہ کی پیروی کررہے ہیں اور ان پر معزز ججوں کی جانب سے جس طرح سے سوالات کی بوچھاڑ کی جارہی ہے اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سارے جج سوالات کی شکل میں بیرسٹر فروغ نسیم کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے حکومت کی وکالت کرنے یا معزز جج قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کچھ بولنے سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ تاثر صرف میرا ہی نہیں بلکہ ملکی عوام کا بھی ہے اور ملکی عوام تو اب اتنی سیانی ہو چکی ہے کہ انہیں پہلے سے ہی معلوم ہو چکا ہے کہ اس سارے طوطا مینا کی کہانی کا انجام کیا ہونے والا ہے اسی وجہ سے مقدمہ کے فیصلے سے مستفیض ہونے والے سیاستدانوں نے پہلے ہی سے مٹھائی بنانے والوں کو آرڈر دے دیئے ہیں۔ یہ مقدمہ بھی حدیبیہ پیپر ملز کے مقدمے کی صف کی جانب رواں دواں دکھائی دے رہا ہے بظاہر اس مقدمے کے بینیفشری نواز شریف اور پرویز مشرف نظر آرہے ہیں اس لئے کہ انہیں بھی ان قانون کے تحت سزائیں سنائی گئی ہیں جو قانوناً جرم کے سرزد ہونے کے بعد بنائے گئے تھے اب اس طرح سے ایک جج پر کئے جانے والے سائے سے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ امکان ہے اس سارے کیس میں پاکستانی سوکالڈ لبرل کی جانب سے یہ واویلا مچایا گیا ہے کہ چونکہ مذکورہ جج نے فیض آباد دھرنے میں فوج کے خلاف سخت ترین اور ریمارکس دیئے تھے جس کی وجہ سے فوج اس کے خلاف ہوگئی ہے اور یہ سارا ریفرنس ہی فوج کی دباﺅ ہیں آکر بنایا گیا ہے۔ بدقسمتی سے اس طرح کا مائینڈ سیٹ سپریم کورٹ کے بعض ججوں کا بھی بن گیا ہے جو اس دس رکنی بنچ میں شامل ہیں جو اس کیس کی سماعت کررہا ہے اب ان معزز ججوں سے کوئی یہ پوچھے کہ معزز جج قاضی فائز عیسیٰ کی فیملی نے لندن کی پراپرٹی 2012ءمیں خریدی تھی جس میں انہوں نے بے ضابطگی کی جب کہ فیض آباد دھرنا ان پراپرٹی کے خریدنے کے دو سال بعد یعنی 2014ءمیں ہوا تھا اور 2014ءمیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنا پر ضروری اور غیر ضروری ریمارکس فوج اور حساس اداروں کے خلاف دیئے تھے۔ ان ریمارکس کو بنیاد بنا کر کہا جاتا ہے کہ فوج ان کے خلاف ہو گئی ہے جب کہ پراپرٹی خریدنے کا جرم یا بے ضابطگی فیض آباد دھرنے سے دو سال قبل کی گئی تھی۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ان ریمارکس کو اس پراپرٹی سے کیوں جوڑا جارہا ہے؟؟ ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ معزز جج نے خود کو اس بے ضابطگی سے بچانے کے لئے ہی فیض آباد دھرنا کیس میں دانستہ فوج اور حساس اداروں کے خلاف ریمارکس دیئے ہوں تاکہ ان ریمارکس کو اپنے بے گناہی اور دوسروں کے انتقام کا نشانہ بنانے کے جواز کے طور پر وہ استعمال کر سکیں۔ یہ وہ ساری باتیں اور قیاس آرائیاں ہیں جو ملکی عوام میں ان دنوں ہو رہی ہیں، ملکی عوام اور خود وکلاءبرادری دو حصوں میں بٹ چکی ہے، ایک گروپ قاضی فائز عیسیٰ کا اور دوسرا بیرسٹر فروغ نسیم کا حمایتی بن گیا ہے، دونوں کے پاس اپنے اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لئے ٹھوس دلائل موجود ہیں مگر حقیقت کیا ہے؟ اس کا فیصلہ تو سپریم کورٹ کا دس رکنی بنچ ہی کرے گا جب کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ آئین کے مطابق سپریم کورٹ کی پشت پر کھڑے ہوتے ہوئے ان کے ہر فیصلے کو قبول کرکے اسے مشعل راہ بنائے کسی کو بھی اپنی انا کو انصاف کی سربلندی پر فوقیت نہیں دینا چاہئے اسی میں نئے اور بدلتے ہوئے پاکستان کی ترقی مضمر ہے۔ اسی مقدمے سے متعلق آخری اطلاع یہ ملی ہے کہ ممکن ہے اس مقدمہ کے فیصلے کو التواءمیں ڈال دیا جائے اس لئے کہ کسی جانب سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ملکی سلامتی اس مقدمے کے فیصلے کا متحمل نہیں ہو سکتی۔ اس ئے مقدمہ کے فیصلے کو فی الحال التواءمیں رکھا جائے اس کا حتمی فیصلہ خود سپریم کورٹ نے کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں