Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 67

قربانی

پاکستان ٹائمز کے تمام قارئین کو عید الاضحی’ مبارک ہو۔ اس عید کی مناسبت سے کچھ باتیں قربانی کے بارے میں حاضر ہیں۔ ہر سال اس موقعہ پر قربانی کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔جگہ جگہ حضرت براہیم اور ان کے بیٹے حضرت اسما عیل کا واقعہ لکھا جاتا ہے پڑھا جاتا ہے اور بیان کیا جاتا ہے۔بس اس پر سوچا نہیں جاتا ہے۔اس پر کوئی بھی دھیان نہیں دیتا ہے کہ اس واقعہ میں کیا سبق پوشیدہ ہے اور یہ ہمیں کیا سوچنے پر مجبور کرتا ہے دراصل لوگ اتنی انسانی جانوں کی قربانیاں دیکھ رہے ہیں کہ ہر سال جانوروں کی یہ قربانی صرف ایک تہوار کے طور پر رہ گئی ہے۔اس کے مقاصد اور مطلب سے کسی کو کوئی سروکار نہیں ہے حضرت ابراہیم کا پورا واقعہ ہر سال لوگ لکھتے ہیں اور ہر سال مضامین شائع ہوتے ہیں سوال یہ ہے کہ یہ واقعہ کس کے لئے لکھا جائے کیا کوئی ایسا مسلمان ہوگا جسے اس واقعے کے بارے میں علم نا ہو اور صرف ہمارے لکھنے کے بعد ہی واقفیت ہو۔اگر اس واقعہ کا اس مقدّس دن کا احساس ہو اس کی پرواہ ہو تو جس انداز میں جانوروں کی خریداری ملبوسات اور دیگر اشیاء کی خریداری پر جو نمائش لگتی ہے وہ نا ہو کیونکہ اس نمائش کا اس مقدّس دن سے کوئی تعلّق نہیں ہے ایک ایسے ملک میں جہاں کوئی بچّہ ایک وقت کی روٹی کے لئے تڑپ رہا ہو وہاں دس پندرہ پچیّس لاکھ کی گائے قربان کردینا سمجھ سے باہر ہے۔اس طرح مہنگے جانور کو ذبح کرتے وقت بھی ایک جشن کا سماءہوتا ہے۔دو چار کلو گوشت نام کے لئے غریبوں کو دیا جاتا ہے باقی کے تکّے کباب اور احباب کی دعوتیں۔اب تو یہ تصوّر بھی ختم ہوچکا ہے کہ قربانی کن لوگوں پر واجب ہے اب تو قربانی محلّے داروں ، رشتے داروں اور دوست احباب میں عزّت کا مسئلہ بنا ہوا ہے پیسے ہوں یا نا ہوں قرض ادھا ر لے کر قربانی کرنی ہے اور دوسروں سے مقابلہ کرنا ہے۔علمائ کے مطابق قربانی اس مسلمان عاقل بالغ مرد و عورت پر واجب ہے جس کے پاس ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کے برابر نقد رقم ہو یا پھر اسی قیمت کی دوسری ایسی اشیائ ہوں جو ضرورت سے زیادہ ہوں تو ایسے لوگوں پر قربانی واجب ہے لیکن عالم یہ ہے کہ گردن تک قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں لیکن مزید قرض لے کر قربانی کرنا ضروری ہے اور پھر دعا بھی کہ اللہ اس قربانی کو قبول کرے۔کسی شخص یا گھر کے کسی فرد کے نام پر قربانی ہوتی ہے کہ مصیبت اور آفات سے بھی نجات ملے لیکن بے چارہ قرض لے کر قربانی کرنے پر اور مصیبت میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ویسے قربانی کا سلسلہ تو ہر دور میں رہا ہے چاہے وہ پتھر کا زمانہ ہو یا لوہے کا ہو چند خاص مذاہب سے آشنا ہونے سے پہلے بھی جب لوگ مختلف چیزوں اور دیوتاوں کی عبادت کیا کرتے تھے تو انسانوں تک کی قربانی دی جاتی تھی ایسے مقام آج بھی مصر اور اردن میں لوگوں کی توجّہ کا مرکز ہیں۔ایسا ایک مقام اردن میں دیکھنے کا اتّفاق ہوا یہ پیٹرا شہر میں ہے جسے وادی موسی’ بھی کہا جاتا ہے اور یہاں ایک عین الموسی’ بھی ہے ان چشموں میں سے ایک جو حضرت موسی’ نے زمین پر لاٹھی مار کر نکالا تھا۔بہرحال اس پیٹرا کے مقام پر میں نے وہ قربان گاہ دیکھی جہاں فرعون کے زمانے میں انسانی جانوں کی قربانی دی جاتی تھی جو ایک اونچے پہاڑ کی چوٹی پر ہے۔اب وہاں لوگ جانوروں کی قربانی کرنے جاتے ہیں۔زمانہ قدیم میں مختلف آفات اور مصیبتیں ٹالنے کے لئے انسانی جانوں کی بھی قربانی دی جاتی تھی۔آج کے بے شمار معمولات میں زمانہ قدیم کی جھلک نظر آتی ہے گو کہ طریقہ کار تبدیل ہوچکا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کے کچھ مقامات پر دور جدید سے دور قدیم کی طرف واپسی ہورہی ہے پتھّر اور لوہے کے دور میں لوگ اپنے معبود کی خوشنودی کے لئے مذہبی رسم کے طور پر انسانی جانوں کی قربانی دیا کرتے تھے۔بادشاہوں کے نوکروں کو اس عقیدے کے تحت قربان کردیا جاتا تھا کے مرنے کے بعد بھی یہ بادشاہ کے ساتھ اس کی خدمت کے لئے جارہے ہیں۔عبرانی بائبل میں اسرائیل کے ایک ایسے شخص کا ذکر ہے جس کا نام جیفہا تھا ۔ اس زمانے میں جنگ کے لئے عارضی طور پر جو لیڈر مقرّر کئے جاتے تھے ان کو جج کہا جاتا تھا ۔جیفہا اپنے لشکر کو لے کر عمّون پر قبضہ کرنے کے لئے روانہ ہوا عمّون وہ علاقہ تھا جو اب اردن کہلاتا ہے اور یہاں کے باشندے عمونی کہلاتے تھے۔اس جنگ میں جیفہا کو فتح ہوئی اور عمّون پر قبضہ کرنے کے بعد واپسی پر اس نے عہد کیا کہ گھر پہونچ کر اسے اپنے دروازے پر پہلی چیز جو نظر آئی وہ اپنے دیوتا یاحویح پر قربان کر دے گا اور جب وہ گھر پہونچا تو اسے گھر کے دروازے پر اپنی اکلوتی بیٹی نظر آئی اس نے اپنی بیٹی سے اس عہد کا ذکر کیا تو دیوتا پر قربان ہونے کے لئے وہ راضی ہوگئی لیکن دو مہینے کی مہلت مانگی اور دو مہینے بعد اس کے باپ نے اسے دیوتا پر قربان کردیا انسانی قربانی کا یہ دور ایک لمبے عرصے پر محیط ہے اسٹون ایج سے آئرن ایج کا دور آیا اور اس دور میں جو آٹھ سو سال قبل مسیح سے دو سو سال قبل مسیح پر محیط ہے اس انسانی قربانی سے چھٹکارے کے لئے کوششیں شروع ہوئیں۔جرمن فلاسفر کارل جیسپرس نے لکھا کہ اس سوچ کی تبدیلی انڈیا چائنا اور چند مغربی ممالک سے شروع ہوئی اور اس میں اضافہ ہوتا چلاگیا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک زمانے تک لوگ کسی پل ،عمارت خاص طور پر مذہبی عمارت کی تعمیر کے وقت اس کی سلامتی کے لئے اس کی بنیادوں میں یا اس کے قریب انسانوں کو قربان کر دیا کرتے تھے یا زندہ دفن کردیتے تھے مثلا” دیوار چین کی تعمیر میں سینکڑوں انسانوں کی قربانی دی گئی اسی طرح جاپان میں کیا جاتا رہا چودھویں صدی میں موجودہ میکسیکو کی جگہ اہرام کی تعمیر میں کئی سو انسانوں کی قربانی دی گئی۔پرانے دور میں جنگ جیتنے کی خاطر اپنے دیوتا کو خوش کرنے کے لئے اپنی اولاد تک کو قربان کردیا جاتا تھا مذہبی رہنما مصائب سے چھٹکارے کے لئے لوگوں کو قربانی پر آمادہ کرتے تھے۔آج کے دور میں انسانی قربانی کی شکل زرا مختلف ہے۔حکومت بچانے کے لئے جو قتل ہوتے ہیں وہ بھی انسانی قربانی ہے اسی طرح تمام سیاسی قتل حریف کو کمزور کرنے کے لئے قتل کسی سیاسی لیڈر ،حکمران ، یا اعلی’ عہدے دار کو بچانے کے لئے ان کے گارڈ پولیس یا ان کے ملازم اپنی جان کی قربانی دیتے ہیں۔یہاں تک کے عام کارکن جن سے لیڈر واقف بھی نہیں ہوتا ہے وہ اپنے لیڈر کے لئے جان دے دیتے ہیں یہ بھی قربانی کہلاتی ہے۔پتھّروں کے دور میں اور اس کے بعد متواتر کئی ادوار میں بادشاہ کو عمارتوں کو اور لوگوں کو بچانے کے لئے انسانی جانوں کی قربانی دی جاتی تھی آج کے دور میں بھی یہ سلسلہ کسی اور شکل میں جاری ہے کئی مسلم ممالک اس کی لپیٹ میں ہیں جہاں جانوروں کی قربانی کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں کی بھی قربانیاں دی جارہی ہیں۔جو کسی نا کسی کو مصیبت سے بچانے کے لئے ہیں زرا نظر ڈالیں ، فلسطین ، عراق ، افغانستان ، شام ، لبنان ، مصر ، یمن پاکستان ،کشمیر ان تمام انسانی جانوں کی قربانی میں کسی نا کسی کی بقاءپوشیدہ ہے انسانی قربانی کی اس سے بڑی مثال کسی دور میں نہیں ملتی ہے۔اللہ مسلمانوں پر رحم کرے۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں