Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 125

قومی اکھاڑہ

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر دنیا کی حالت بہت زیادہ خراب ہوچکی تھی۔معاشی حالت مخدوش ہوچکی تھی اور جنگ کے اثرات سے کوئی ملک بھی محفوظ نہیں رہ سکا تھا۔چاہے یوروپ ہو امریکہ ،ایشیا افریقہ یا مشرق وسطی’ اور چند ممالک کی حالت تو قابل رحم تھی جس میں اٹلی ، جرمنی ، اور ایسٹرن یوروپ کے کئی ممالک شامل تھے ساتھ ہی چین ، جاپان، کوریا بھی سخت معاشی بحران کا شکار تھے۔بعض اقوام کی تو یہ حالت تھی کہ لوگوں کو دو وقت کا کھانا تک نصیب نا تھا۔جب یہ تمام ممالک اپنی معاشی حالت بہتر بنانے اور بھوک و افلاس سے چھٹکارہ پانے کی دوڑ میں لگے ہوئے تھے اس ہی دوران ہمارا ملک پاکستان وجود میں آیا اور حیرت انگیز طور پر پاکستان کی حالت کوریا اور اس جیسے کئی ساوتھ ایشیائ ممالک سے بہت بہتر تھی لیکن پاکستان بنتے ہی کرسی حاصل کرنے میں رسّہ کشی سازشوں اور سیاسی مخالفتوں میں کئی سال ضائع ہوگئے اس کے بعد جب ایّوب خان نے تمام سازشوں کو کچل کر اقتدار سنبھالا تو حالات کچھ بہتر ہوئے ایوب خان کا دور تاریخی دور کہلایا پاکستان کی معاشی حالت بھی بہتر ہوتی چلی گئی اور ترقّی کا عمل بھی تیز تر ہوتا گیا۔خارجہ پالیسی بہت بہتر ہوتی جارہی تھی اور پاکستان کی ترقّی دیکھ کر دوسرے ممالک بھی حیرت زدہ تھے۔پاکستان ایوب خان کے دور میں ترقّی کی جانب گامزن تھا دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہورہا تھا پاکستان کا ہر شعبہ نہایت ذمّہ داری اور محنت سے اپنے فرائض انجام دے رہا تھا۔پھر انگریزوں کے پٹھّو ایسے لوگ سیاست میں آنا شروع ہوگئے جن کے آبا و اجداد انگریزوں کی وفاداری میں ہمیشہ مسلمانوں کے لئے خطرہ بنے رہے جنہوں نے ہندوستان میں مسلمان قیادت کو ناقابل تلافی نقصان پہونچایا اور انعام میں انگریزوں سے انعام و اکرام اور جائ?دادیں وصول کیں پاکستان میں انگریزوں کی عطا کی ہوئی بڑی بڑی زمینوں اور جاگیروں کے مالک بنے اور پیسے اور اپنے علاقے میں اثر و رسوخ کے باعث ملکی سیاست میں داخل ہونا شروع ہوگئے ان کے علاقوں میں رہنے والے لوگ صدیوں سے غلامی کی زندگی بسر کررہے تھے ان کو آزادی کا کوئی احساس نہیں تھا دراصل انگریز نے نہایت چالبازی سے کام لیا تھا اس نے براہ راست کسی کو اپنا غلام کبھی بھی نہیں بنایا اور نا ہی کسی کو غلام اور اپنے آپ کو آقا کہا اس نے ہر علاقے میں کتّے پالے ہوئے تھے جو اس علاقے کے کرتا دھرتا تھے ان کو انگریز نے مال و زر اور جائیدادیں دے کر اس علاقے میں رہنے والے غریب باشندوں پر بھونکنے کے لئے چھوڑ دیا تھا غریب عوام ہمیشہ راجوں ،مہاراجوں ، نوابوں ، سرداروں، وڈیروں ، جاگیرداروں کے زیر اثر رہے اور ان کی نسل در نسل ابھی تک غلامی میں ہے یہی لوگ اور ان کی نسلیں سیاست دانوں کے روپ میں ستّر سال سے ملک پر پنجے گاڑے ہوئے ہیں اور ہم ان کے شکنجے سے کسی طرح باہر نہیں آپا رہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ ان سیاست دانوں کے وہ غلام ہیں جو یہ تسلیم کرنے کو تیّار نہیں ہیں کہ وہ آزاد ہوچکے ہیں۔انگریزوں کے بکے ہوئے ان نام نہاد سیاست دانوں کو ایوب خان کے دور میں اپنی من مانی کرنے یا ملکی معاملات میں دخل اندازی کا اتنا موقع نا مل سکا لیکن دشمن انسانیت بھٹّو نے ان کو یہ موقعہ فراہم کردیا اور ایوب خان کے خلاف سازش کرکے اسے استعفی’ دینے پر مجبور کیا ملک کے دو ٹکڑے کئے اور پاکستان پر بغیر عوام کی رائے دہی کے قابض ہوگیا اور اس کے بعد پاکستان کی بربادی کا دور شروع ہوگیا۔تمام صنعتی اداروں کو قومی تحویل میں لینا معیشت کی ریڑھ کی ہڈّی پر ایک کاری ضرب تھی۔تمام اہم اداروں میں نااہل ناکارہ اور جاہلوں کی بھرتی نے ترقّی کی طرف بڑھتے ہوئے پاکستان کا رخ تنزّلی کی طرف موڑ دیا لیکن ان لوگوں کو ملک کی کیا پرواہ تھی ان کو تو اپنی جیبیں بھرنے سے فرصت نہیں تھی اس وقت ہم کیا کیا دیکھتے تھے اور خون کے آنسو پیتے تھے۔اور بس وہیں سے موروثی سیاست کا دور شروع ہوا پاکستان کی بدقسمتی اور ہماری بے وقوفی ہمیشہ یہ رہی کہ ہم نے ان ہی موروثی سیاست دانوں کا انتخاب کیا اور کسی پر بھروسہ نا کیا اور سیاست دانوں کی ان اولادوں کو ترجیح دی جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصّہ یوروپ میں گزارا ہم نے یہ بھی نہیں سوچا کہ ان کو بھلا ہمارے مسائل ہماری تکلیفوں سے کیا دلچسپی ہوگی۔ہم نے اقتدار ان سیاست دانوں کے حوالے کیا جو اپنے بچّوں کو اپنے ہی دور اقتدار میں پاکستان میں تعلیم دلوانا پسند نہیں کرتے حکومت تو اس ملک پر کرتے رہے لیکن تعلیمی نظام ایسا نہیں بناسکے کہ تمام وزرائ تک اپنے بچّوں کو یہاں پڑھانا پسند نہیں کرتے ایسے اسپتال نہیں بنائے جہاں وہ خود یا ان کے وزرائ علاج کراسکیں ۔ ناکارہ تعلیمی اور صحت کا نظام صرف غریب عوام کے لئے تھا اور پھر بھی حکومت کا حق ہم نے خود ان کو دیا جو صرف اس ملک کو باہر سے لوٹنے آتے ہیں۔ان سب کے دو دو گھر ہیں ایک عارضی جو کہ پاکستان میں ہے اور ایک مستقل جو باہر کے کسی ملک میں ہے۔یہ ایسے لوگ ہیں جن کا بچپن باہر ملک میں گزرا جن کی جوانی غیر ممالک میں گزری باہر کا ماحول باہر کی تعلیم اور کچھ تو ایسے بھی ہیں جن کو پوری طرح سے پاکستان کے بارے میں واقفیت تک نہیں ہے۔جب ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمھارے باپ کی جاگیر ایک پورے ملک کی صورت میں موجود ہے اور وہاں بے شمار گدھے تمھارے غلام تمھارے انتظار میں موجود ہیں تو ان کو یقین نہیں آتا لیکن جب وہ ائیر پورٹ پر اترتے ہیں اور بے شمار گدھے پھولوں کے ہار لئے وہاں موجود ہوتے ہیں تب ان کو یقین آجاتا ہے۔ان کو خوش آمدید کہا جاتا ہے اور ان کی خدمت شروع ہوجاتی ہے انہوں نے تو یوروپ میں ایسا ماحول کبھی نہیں دیکھا ہوتا ان کے لئے تو یہ جگہ جنّت سے کم نہیں ہوتی ہے۔انہوں نے ساری زندگی باہر گزاری ہوتی ہے ان کو اس ملک یا یہاں رہنے والوں سے کیا ہمدردی ہوسکتی ہے یا یہاں کے مسائل سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے۔لیکن ہم سب غلامانہ ذہنیت کے لوگ ہیں یہ ہماری گھٹّی میں پڑی ہوئی ہے بغیر کسی کی غلامی میں آئے ہم جی نہیں سکتے ہیں غلامی ہماری آکسیجن ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ سیاسی عناصر کے لئے پورا ملک ایک سیاسی اکھاڑہ بنا ہوا ہے ہر سیاسی شخصیت دوسرے کو پچھاڑنے میں لگی ہوئی ہے عوام بنیادی ضروریات سے محروم ہیں ہر شخص پریشان ہے لیکن یہ سیاست دان اور ان کے حواری صرف اپنے سیاست کے کھیل میں مگن ہیں۔اس اکھاڑے میں یہ صرف اپنے دشمنوں پر حملے کررہے ہیں پہلے سیاسی مخالفت ہوا کرتی تھی لیکن اب مخالفت نہیں سیاسی دشمنی ہے سیاسی انتقام میں سب اندھے ہوچکے ہیں یہ اپنے سیاسی حریف کو تباہ کرنے کے لئے ملک کی سالمیت عزّت ہر چیز کو داو پر لگائے ہوئے ہیں۔سب اہم ادارے خسارے میں جارہے ہیں اور یہ سب سیاست دانوں کے انتقام کے کھیل میں ہورہا ہے اس کی تازہ مثال پی آئی اے کے ہوابازوں کا تازہ واقعہ ہے ۔ دنیا کی بہترین ائیر لائن اور ان مانے ہوئے پائلٹ کو دو کوڑی کا کردیا گیا۔ اورینٹ ائیرویز سے پی آءاے میں ڈھلنے والی ائیرلائن جس نے دنیا میں اپنا نام روشن کیا بہترین سروس اور عمدہ فلائنگ آپریشن سے دنیا کو حیرت زدہ کردیا ایک وقت تھا پاکستانی پائلٹس کا شمار دنیا کے بہترین پائلٹس میں ہوتا تھا ۔پی آئی اے ایشیا کی پہلی ائیرلائن تھی جس نے 7 مارچ 1960 کو بوئنگ 707 جیٹ ائیر کرافٹ کمرشل استعمال کیا اور 1964 میں پہلی غیر کمیونسٹ ملک کی ائیر لائن تھی جس کو چین نے اپنے ملک میں آنے کی دعوت دی یہ سب کچھ بھٹّو کے آنے سے پہلے تھا ۔پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ سفارشی، نا اہل اور جاہل لوگوں کی بھرتیاں شروع ہوگئیں اور پی آئی اے کا بیڑہ غرق ہونا شروع ہوگیا اور حیرت کی بات ہے کہ ہر آنے والی حکومت نے یہی کچھ کیا عوام کو صرف بیانات سے بہلایا جاتا رہا کسی حکومت کوبھی پی آئی اے میں ہونے والی بد عنوانیوں اور قومی ائیر لائن کو تباہی کی طرف لے جانے کی فکر کبھی بھی نہ رہی اپنے ہی ملک اپنے ہی اداروں سے کھلواڑ خود حکمران پارٹیاں کرتی رہیں اب جو کچھ ہوا ہے یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے خود اپنے ہی پائلٹس کو دنیا کی نظر میں ناکارہ قرار دےکر خسارے میں جاتی ہوئی ائیر لائن کو مزید گڑھے میں دھکیلنا نا جانے کسی سازش کا حصّہ ہے یا کوئی اور راز ہے۔ ایک پی آئی اے ہی کیا تمام بڑی صنعتوں کا بیڑہ غرق ہوتا رہا۔سیاسی لوگوں کے لئے یہ کوئی ملک نہیں بلکہ صرف سیاسی اکھاڑہ ہے ملک کو نقصان پہونچتا ہے تو پہونچے بس اپنی سیاست چمکتی رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں