Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 38

لاوارث جزیرہ

دنیا میں بے شمار لوگ مختلف قانونی اور غیر قانونی کاروبار میں مصروف ہیں بعض کاروبار تو ایسے ہوتے ہیں جس میں سر اٹھانے کی فرصت نہیں ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی زندگی کھانا پینا اوڑھنا بچھونا کاروبار ہوتا ہے۔ دنیا میں کیا ہو رہا ہے، انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، یہ لوگ تفریح کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ کاروبار کے علاوہ بھی کوئی اور زندگی ہے ان کو پروا نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اپنے خاندان سے بھی کسی حد تک لاپرواہ ہو جاتے ہیں۔
شہزاد اختر بھی ایک ایسے ہی کاروباری شخص تھے لیکن کچھ عرصے پہلے وہ اپنی جوانی کی طرف لوٹ آئے تھے۔ جوانی میں وہ مختلف کھیلوں میں حضہ لیتے تھے، ورزش بھی کرتے تھے، تعلیم میں بھی بہت آگے تھے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی، یراکی، کشتی رانی میں ماہر تھے۔ پیسے کی ریل پیل تھی، والد کے گزر جانے کے بعد کاروبار سنبھالا اور پھر کاروبار میں ہی گم ہو گئے۔ ایک دن اچانک انہیں خیال آیا کہ ایک طویل عرصہ صرف کاروبار میں سر جھکائے گزار دیا یوں لگا جیسے نیند سے جاگ اٹھے ہوں اور پھر ان کے معمولات میں تبدیلی آئی۔ ورزش شروع کی اس طرح کھیل وغیرہ میں دلچسپی لی۔ ان کا ایک ذاتی ہوائی جہاز تھا لہذا کبھی کاروباری مصروفیات سے اکتا کر جہاز لے کر نکل جاتے اور آسمان کی بلندیوں میں گم ہو جاتے۔
اسی طرح ایک دن کاروباری مصروفیات سے فارغ ہو کر جلدی گھر آگئے، طبیعت میں کچھ بے چینی سی تھی، بوریت سے گھبرا کر فلائنگ کرنے کی ٹھانی، اس دن بہت خراب موسم کی پیشن گوئی تھی، چھوٹے جہاز والوں کو خاص طور پر تاکید تھی کہ فلائنگ پر ناجائیں لیکن شہزاد اختر نے سوچا زیادہ دیر تک فلائنگ نہیں کریں گے اور ایک آدھ گھنٹے میں واپس آجائیں گے لہذا وہ جہاز لے کر نکل کھڑے ہوئے۔
جہاز اڑاتے ہوئے وہ خیالات کی رو میں بہک گئے اور وقت گزرنے کا بالکل احساس نا ہوا اور جب احساس ہوا تو چاروں طرف دھند پھیل چکی تھی، آہستہ آہستہ ہوا کی شدت میں بھی تیزی آچکی تھی، انہوں نے رابطے کے لئے ریڈیو آن کیا اور مائیک اٹھایا، پتہ چلا کہ ریڈیو بھی کام نہیں کررہا ہے، ایک لمحے کے لئے ان پر گھبراہٹ طاری ہوئی، لیکن فوراً ہی انہوں نے اپنے اعصاب پر قابو پایا اور صورت حال سے نبٹنے کی ترکیبیں سوچنے لگے۔ انہوں نے جہاز کو نیچے کرنا شروع کیا لیکن یہ بھی خطرہ تھا کہ دھند کی وجہ سے جہاز کسی درخت یا چٹان سے نا ٹکرا جائے۔ آہستہ آہستہ جب وہ جہاز کو نیچے لائے تو یہ جان کر تسلی ہوئی کہ وہ سمندر کے اوپر ہیں لیکن پریشانی کی بات یہ تھی کہ دھند کی وجہس ے تھوڑی دور بھی کچھ نظر نہیں آرہا تھا اور انہیں یہ نہیں پتہ چل رہا تھا کہ وہ کس سمت میں جارہے ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد انہیں خشکی نظر آگئی اور ان کی جان میں جان آئی۔ جہاز کو اور کرنا شروع کیا، مبادہ کسی درخت سے نا ٹکرا جائے۔ ہوا کی شدت میں بہت تیزی آچکی تھی۔ جہاز قابو سے باہر ہوتا چلا جارہا تھا۔ اب فیول بھی اختتام پر تھا۔ جہاز کو اچانک جھٹکے لگنا شروع ہوئے۔ شہزاد اختر سمجھ چکے تھے کہ جہاز گرنے والا ہے۔ انہوں نے جلدی جلدی پیراشوٹ باندھا، چہرے اور کانوں کو ڈھانپنے کے لئے ماسک لگایا اور گرتے ہوئے جہاز سے چھلانگ لگا دی۔ پورا چہرہ ڈھانپنے کے باوجود ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہوا تیر کی طرح ان کے کانوں میں گھسی جارہی ہے۔ ہوا کی شدت برداشت سے باہر تھی، تھوڑی دیر کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وہ ہوا میں جھول رہے ہیں، انہوں نے سر اٹھا کر دیکھا ان کا پیراشوٹ ایک درخت کی شاخ میں اٹکا ہوا تھا، کچھ دیر وہ اسی طرح رہے پھر اپنی سانسیں قابو میں کرکے کسی طرح درخت کی ایک شاخ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ پیراشوٹ کو نکال کر نیچے پھینکا اور خود بھی کسی طرح درخت سے نیچے آگئے۔ طوفان ابھی تک نہیں تھما تھا، قریہ ہی ایک بڑا سا ٹیلہ تھا، انہوں نے پیراشوٹ بدن پر لپیٹا اور ٹیلے میں آکر لیٹ گئے۔
طوفان کی شدت میں کمی آتی گئی اور شہزاد اختر نیند کی وادیوں میں کھو گئے، پرندوں کے چہچہانے کی آوازوں نے نیند کے طلسم کو توڑ دیا۔ آنکھ کھلتے ہی فوراً ہی ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کہاں ہیں لیکن آہستہ آہستہ پچھلا تمام منظر ان کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا، وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھے، چاروں طرف نگاہ دوڑائی، آسمان بالکل صاف تھا، طوفان کا دور دور نشان نا تھا، دور دور تک نا کوئی آدم نا آدم زاد، درخت، جھاڑیاں، پودے، پرندے، حشرات الارض کے علاوہ اور کچھ نا تھا۔ شدت سے بھوک محسوس ہو رہی تھی لہذا وہ ٹیلے سے نیچے اترے اور ایک طرف چل پڑے، بھوک کسی نا کسی قسم کا کھانا تلاش کر ہی لیتی ہے۔ مختلف جنگلی پھلوں اور پتوں سے پیٹ کی آگ بجھائی اور ایک نئی صورت سے دوچار ہوئے پر غور کرنے لگے، کئی گھنٹے گھومنے پھرنے کے بعد ان کے علم میں یہ بات آئی کہ وہ ایک بہت بڑے غیر آباد جزیرے میں ہیں، جس کا نا کوئی وارث ہے اور نا کوئی رکھوالا۔ انہیں حیرت ہو رہی تھی کہ انہوں نے بارہا سمندر کے اوپر جہاز اڑایا تھا لیکن ایسا کوئی جزیرہ آج تک ان کے سامنے نہیں آیا تھا۔ چلتے چلتے انہیں اپنا تباہ شدہ جہاز بھی نظر آگیا، ایک اطمینان سا محسوس ہوا، درختوں کی رکاوٹ کی وجہ سے جہاز ملبے کا ڈھیر نہیں بنا تھا، البتہ چند ٹکڑوں میں بٹ گیا تھا، جلد ہی انہیں اپنے اوزاروں کا تھیلا بھی مل گیا۔ سب سے پہلے آگ جلانے کا مسئلہ تھا۔ انہیں پتھر کا زمانہ یاد آگیا، جب لوگ پتھر پر پتھر مار کر آگ جلاتے تھے، یہ کام انہوں نے ہتھوڑی اور اپنے دوسرے اوزاروں سے لیا اور خشک پتے جمع کرکے ہتھوڑی مار مار کر آگ جلائی۔ ساحل پر آئی ہوئی مری ہوئی مچھلیوں سے غذا کا مسئلہ بھی حل ہو گیا۔ انہیں اندازہ ہو چکا تھا کہ اس جزیرے سے نکلنا اتنا آسان نہیں ہے لہذا لکڑیاں جمع کرکے ایک گھر بھی بنا لیا اور اپنے آپ کو قدرت کے حوالے کردیا۔
کئی روز گزر گئے، شہزاد اختر کو اب یہاں مزہ آنے لگا تھا، نا کوئی کاروباری مصروفیت، نا کوئی جھنجھٹ، نا دنیاوی جھگڑے وہ اس جزیرے کے بے تاج بادشاہ تھے، دن بھر گھومتے پھرتے، چھوٹے موٹے جانوروں کا شکار کرتے اور رات کو پتوں کے بستر پر چین کی نیند سو جاتے، انہوں نے دیکھا کہ اس جزیرے کے چاروں طرف بہت سرکش اور طوفانی لہریں اٹھتی ہیں اور ساحل پر کئی فٹ اونچی لہریں اٹھتی ہیں شاید اسی وجہ سے جہاز اس خطرناک حصے کی طرف نہیں آتے، اس کے علاوہ بے چین بے تاب اور سرکش لہریں جب ساحل سے ٹکراتیں تو اپنے ساتھ خشکی کا کچھ حصہ بھی لے جاتی تھیں۔ انہوں نے سوچا کہ اس طرح تو یہ پورا جزیرہ ایک دن سمندر کی نظر ہو جائے گا۔ کاش کسی جگہ بند باندھے جاتے، کچھ رکاوٹیں کی جاتیں اور موجوں کی تیزی روکنے کا انتظام ہوتا تو یہ جزیرہ بچ سکتا ہے۔
جیسے جیسے دن گزر رہے تھے جزیرے کا ایک بڑا حصہ سمندر کی نظر ہو رہا تھا۔ جس نے انہیں تشویش میں متبلا کردیا لیکن ایک دن اچانک انہیں اپنے سر پر ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ انہوں نے حیرت سے اوپر دیکھا، تھوڑی ہی دیر میں ہیلی کاپٹر نیچے آچکا تھا۔ اس میں سے کچھ لوگ نیچے اترے اور انہوں نے شہزاد اختر سے کہا ”شکر ہے ہم نے تمہیں دیکھ لیا، یہاں سے دھواں اٹھتے دیکھ کر ہماری توجہ اس طرف ہوئی، ہم ایک بڑے بحری جہاز سے آئے ہیں، یہ جزیرہ کچھ دنوں میں ڈوبنے والا ہے“۔ شہزاد اختر نے کہا ”نہیں وہ یہاں سے نہیں جائیں گے“۔ پھر وہ ان لوگوں کی منتیں کرنے لگے کہ اگر کچھ لوگ ساتھ دیں تو ہم اس جزیرے کو بچا سکتے ہیں، ہم ان سرکش لہروں کو شکست دے سکتے ہیں ہم ان کے سامنے بند باندھ سکتے ہیں لیکن آنے والوں نے کہا نہیں اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ اس جزیرے کو کوئی نہیں بچا سکتا اور وہ زبردستی شہزاد اختر کو ہیلی کاپٹر میں لے گئے۔ راستے میں شہزاد اختر سوچ رہے تھے۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ ہم اس جزیرے کو بچانا ہی نہیں چاہتے، کیوں کہ ہم بچانے والے نہیں ڈبونے والے ہیں۔ ہر چیز تباہ کرنے والے ہیں۔ ہم بند باندھنے والے نہیں بلکہ ہم تو خود وہی سرکش لہریں ہیں جو ہر جزیرے کو بڑے سے بڑے جزیرے کو ڈبو دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں