پاکستان میں نظام کی بے بسی! 188

لاہور میں پی ڈی ایم جلسہ: عوام کے ہاتھوں دُرگت

13 دسمبر 2020ءکو لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے کی تیاریاں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری تھیں، مینار پاکستان پر ہونے والے اس جلسے کو بڑا اور کامیاب بنانے کے لئے مریم صفدر نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا۔ اس سے پچھلے ہفتے مسلم لیگ (ن) کے میڈیا گروپ سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے بھی روایتی عوام چاپلوسی کی باتیں کیں اور لوگوں کو شرکت کی تاکید کی۔
قطع نظر اس کے یہ جلسہ بڑا اور کامیاب ہوتا، عمران خان حکومت کے لئے ذرہ برابر بھی خطرے کی گھنٹی نہیں تھی کیونکہ آئینی اعتبار سے کسی بھی طرح جلسوں، ریلیوں اور دھرنوں سے حکومت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس سلسلے میں اعتزاز احسن، وسیم سجاد، اشتر اوصاف سمیت نامور قانون دانوں کی آراءپہلے ہی میڈی اپر آچکی ہیں۔ مارچ 2021ءمیں ہونے والے سینیٹ انتخابات کو سبوتاژ کرنے کے لئے پی ڈی ایم سارے پاپڑ بیل رہی ہے۔ جس میں انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا کیوں کہ آئینی اعتبار سے سینیٹ پاکستان کبھی بھی غیر فعال نہیں ہوتا۔ ہاں اس میں تاخیر اس صورت میں ہو سکتی ہے کہ اگر کوئی اسمبلی تحلیل کردی جائے۔ تو اس اسمبلی کے انتخابات بعد میں ہو جائیں گے لیکن قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی، کے پی کے اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی کبھی تحلیل نہیں ہوں گی، لہذا ان سب میں سینیٹ کے انتخابات کرادیئے جائیں گے اور اگر ایسی صورت پیدا ہوتی ہے تو پاکستان تحریک انصاف بہت بڑی اکثریتی پارٹی بن جائے گی جس کو اس عمل سے روکنے کے لئے یہ سارے جشن کئے جارہے ہیں۔
لاہور کے جلسے پر بے تحاشہ روپیہ خرچ کیا گیا اور مریم صفدر نے لاہور کے کریہ کریہ جا کر لوگوں سے جلسے میں آنے کی درخواست کی۔ اور وعدے لئے کہ آپ جلسے میں ضرورت شرکت کریں گے۔ لوگوں نے نہ آنا تھا اور نہ ہی آئے۔
اس کی بڑی وجوہات ہیں مثلاً نواز شریف اور مریم صفدر سمیت فضل الرحمان کا فوج مخالف بیانیہ، عدلیہ کی توہین، اداروں کو ذلیل کرنا اور سب سے بڑھ کر عمران خان کی آئینی حکومت کو کھیل تماشا سمجھنا جب کہ اڑھائی سال کی سخت محنت کے نتیجے میں معاشی گراف اوپر جانا شروع ہو گیا ہے۔ پاکستان استحکام کی جانب جا رہا ہے۔ لاہور سمیت پاکستان کے عوام کو مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے اکابرین کی کرپشن کے معاملات کا اچھی طرح علم ہے اب تو ہر بچے کی زبان پر ان کی کرپشن کی داستانیں ہیں۔
ابو بچاﺅ مہم پر نکلے ہوئے بہن بھائی مریم اور بلاول نے بے حسی اور بے شرمی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ ابھی کچھ سال پہلے ہی مریم جلسوں میں عمران خان، زرداری بھائی بھائی کے نعرے لگاتی تھی اور آج والدین کی کرپشن بچانے کے لئے دونوں بچے شیر و شکر ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹروں، نرسوں اور ہسپتالوں کی آڑ میں نواز شریف اور زرداری چھپ کر بیٹھ گئے ہیں۔ دونوں کمزور بیٹسمینوں کو تیز رفتار باوئلر کے سامنے باﺅنسر کھانے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ عمران خان کے باﺅنسر سے نہ صرف یہ زخمی ہوں گے بلکہ ریٹائرڈ ہرٹ ہو کر پولین لوٹ جائیں گے۔ ان کو اس میچ میں شکست فاش ہو گی جو کہ دیوار پر لکھا ہے۔
لاہور جو نواز شریف کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، اس کے باسیوں سے اس قسم کی توقع نہ تھی کہ وہ یکسر جلسے کو نظر انداز کر دیں گے۔ حکومت کی طرف سے مکمل فری ہینڈ دینے کے بعد ان کی قلعی کھل گئی ہے۔ کرونا کے باعث پابندیوں کے باوجود پی ڈی ایم کا جلسہ اعلان بغاوت ہے۔ فضل الرحمن، بلاول اور مریم کے رعونت سے بھرے ہوئے بیانات اور دھمکیاں ریکارڈ کا حصہ بن رہی ہیں۔ان کو اس کا اخراج ادا کرنا پڑے گا۔ حکومت وقت بہت اعتدال اور بردباری سے ان سے نمٹ رہی ہے۔ لیکن آخر کس چیز کی کوئی حد بھی ہوتی ہے۔
لاہور کے جلسے کی بری طرح ناکامی کے بعد مریم ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی ہے، اس کا بس نہیں چل رہا کہ وہ کسی طرح عمران خان کو حکومت سے نکال دے۔ پی ڈی ایم کا سارا بیانیہ ہی غلط ہے، کسی راہنما کے پاس حکومت ختم کرنے کا کوئی ٹھوس جواز موجود نہیں ہے۔ بس ان کا کہنا ہے کہ یہ جعلی حکومت ہے۔ اس طرح نہیں ہو گا، پی ڈی ایم والو! پی ٹی آئی ایک کروڑ ستر لاکھ ووٹ لے کر آئی ہے۔ کیا حکومت کو غیر آئینی طریقے سے نکالنا مناسب ہو گا؟ اگر یہ ہو گیا تو پھر عمران خان آئندہ آنے والوں کے لئے صحیح معنوں میں لوہے کا چنا ثابت ہوگا۔ اول تو یہ ممکن نہیں ہے، یہ کچھ ہی مہینوں میں سینیٹ کے الیکشن کے بعد جھاگ کی طرح بیٹھ جائیں گے، اور عمران خان پانچ سال پورے کرے گا اور اگر اس نے اگلے اڑھائی سالوں میں اور بہتر پرفارم کرلیا تو پھر اگلے انتخابات میں بھی وہی کامیاب ہوگا جس کی فکر ان کرپٹ ٹولوں کو کھائے جارہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں