الوداع اے محسن قوم الوداع 39

ماضی سے وابسطہ چند تلخ حقائق

دنیا بھر میں پاکستان کی حیثیت بالکل جداگانہ ہے۔ پاکستان کا محل وقوع انتہائی اہم ہے کہ قدرتی طور پر یا کہ پاکستان کی خوش قسمتی کہہ لیجئے کہ حکمرانوں اور فوجی جنرلوں کی تمام تر کرپشن اور بدمعاشیوں کے باوجود پاکستان کی ترقی کا کوئی نہ کوئی راستہ نکل ہی آتا ہے۔ ہر بار کوئی نہ کوئی معجزہ رونما ہوتا ہے اور پاکستان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ میں اس سے قبل بھی بارہا اپنے کالمز میں یہ لکھ چکا ہوں کہ کچھ تو ہے کہ پاکستان جیسے معاشی طور پر بدحال ملک کو اللہ رب العزت نے ایٹمی قوت بنا دیا۔ کہیں نہ کہیں تو کوئی وجہ پاکستان پر کرم نوازی کی بن جاتی ہے اور اللہ رب العزت شاید بزرگان دین اور ولیوں کی اس سرزمین پر اپنے کرم سے رحم فرما دیتا ہے وگرنہ ہمارے اعمال تو ہمیں تباہ و برباد کرنے کے لئے بہت کافی ہیں۔
حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان نے ببانگ دہل امریکہ کو للکارا ہے اور واضح کردیا ہے کہ ہم نے اپنی سرزمین سے کوئی ڈرون مارنے کی اجازت نہیں دینی اور ہم امریکہ کے ساتھ امن کے لئے تو ہیں مگر جنگ میں شریک کار نہیں بنیں گے اور اس بیان نے پوری دنیا میں ایک جوار بھاٹا پیدا کردیا ہے اور امریکی سرکار سوچ رہی ہے کہ پاکستان ہماری امداد پر پلنے والا ایک ملک ہر کچھ روز بعد ہمیں آنکھیں دکھانے لگتا ہے۔ یاد رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی امریکہ کو للکارا تھا مگر اندرونی سازشوں کے ذریعہ اور امریکہ کے پاکستانی ایجنٹوں کی بدولت بھٹو جیسے مضبوط اور ذہین سیاستدان کو سولی چڑھا دیا گیا۔ اس سازش میں بھی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ میں موجود ایجنٹوں نے امریکہ سے حق وفا نبھاتے ہوئے اپنے ہی مسلمان بھائی کو پھانسی چڑھا دیا یوں جس جس اسلامی ممالک کے سربراہان نے بھٹو کے پلان پر لبیک کیا سب کو ایک ایک کرکے ختم کردیا گیا۔ پھر نواز شریف اور زرداری آئے مگر یہ ضرورت سے زیادہ چالاک نکلے کہ ملکی دولت بھی لوٹتے رہے، امریکہ سے بھی لابنگ رکھی اور فوج سے کبھی مل گئے تو کبھی امریکہ مغلظات بکتے رہے۔ کبھی پاﺅں پکڑ لئے تو کبھی آنکھیں دکھا دیں۔
آج عمران خان کا دور ہے، فوج عمران خان کے پیچھے کھڑی ہے بالکل اسی طرح جس طرح سقوط ڈھاکہ کے وقت بھٹو کے پیچھے کھڑی تھی اور پھر ملک کو دولخت کروا کر اور بھٹو کو استعمال کرکے اپنے مقاصد پورے کرلئے۔ یہی کھیل گزشتہ 72 سالوں سے پاکستان میں کھیلا جا رہا ہے اور اس بار کا کپتان عمران خان ہے جو ضدی اور ہٹ دھرم بھی ہے، بغیر کسی انٹرنیشنل ڈپلومیسی کے بیانات دینا خود عمران خان کے لئے بھی خطرناک ہو سکتا ہے مگر سچ تو یہی ہے کہ جو عمران خان نے بول دیا ہے مگر کیا یہ قوم عمران خان کے پیچھے کھڑی ہے؟ کیا عمران خان بھٹو کی طرح ذہین، مضبوط اور زیرک سیاستدان ہے؟ یہ سوال ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کررہا ہے اگر حکومت کی کوئی اسٹریٹیجی نہیں اور صرف بیانات کی حد تک معاملہ ہے اور امریکہ کو دباﺅ میں لا کر پیسہ بٹورنا مقصد ہے تو پھر پاکستان پر فاتحہ ہی پڑھ لی جائے تو بہتر ہوگا کیونکہ اب دنیا بدل چکی ہے خصوصاً کرونا وائرس کے آئندہ ہونے والے اثرات نے بہت کچھ بدل دیا ہے اور آہستہ آہستہ بہت کچھ بدل جائے گا۔ کئی ملک دنیا کے نقشہ سے غائب ہو سکتے ہیں اور آئندہ ہونے والی معاشی جنگ کے اثرات میں پاکستان کا کیا مستقبل ہو گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر بات پھر وہیں جا ٹھہرتی ہے کہ پاکستان کو پھر کہیں نہ کہیں سے امید کی کرن نظر آ جاتی ہے اور اس بار پاکستان کی معیشت کو سنبھالنے کے لئے گوادر کی بندرگاہ اہم کردار ادا کررہی ہے اور چین اور پاکستان دوستی نے تمام دنیا کو چونکا دیا ہے۔ گوادر یقیناً مستقبل میں نہایت اہمیت حاصل کرنے جا رہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان امریکہ کے چنگل سے نکل پائے گا اور چین اور امریکہ جیسے دو ہاتھیوں کے درمیان میں کس طرح ڈپلومیسی کے ذریعہ آگے بڑھ سکے گا؟
خدشہ یہی ہے کہ اگر لفظوں میں سچائی نہ ہوئی اور اندرونی سازشوں کو پہلے ایڈریس نہ کیا گیا تو پھر پاکستان کو تباہی سے اللہ رب العزت کے سوا کوئی نہیں روک سکتا چنانچہ نہایت سنجیدگی سے فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں