Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 132

مدر جونس

1890ءمیں امریکہ میں ایک بوڑھی آئرش امیگرینٹ خاتون کو امریکہ کی خطرناک ترین عورت کا خطاب دیا گیا۔ وہ خاتون مدر جونس کے نام سے مشہور تھی۔مدر جونس کا اصل نام “میری ہیرس “تھا اور شادی کے بعد میری ہیرس جونس ہوگیا وہ 1837 میں آئرلینڈ کے ایک قصبے کارک میں پیدا ہوئی۔ 1845 سے 1849کے درمیان آئرلینڈ میں ایک بہت بڑا قحط پڑ گ?ا تھا اس قحط کے نتیجے میں دس لاکھ افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے اور تقریبا” اتنے ہی آئرلینڈ سے ہجرت کرگئے تھے اس قحط کا شدید اثر آئرلینڈ کے مغربی اور جنوبی حصّے پر پڑا تھا اور میری ہیرس کے والدین ان متاثرہ حصّوں میں رہتے تھے لہذا میری ہیرس جو کہ اس وقت دس سال کی تھی اپنے والدین کے ہمراہ کینیڈا ہجرت کرگئی۔کینیڈا میں ٹورنٹو کے ایک اسکول میں کچھ تعلیم حاصل کرنے کے کچھ عرصہ بعد یہ خاندان امریکہ کی اسٹیٹ مشی گن آگیا۔ امریکہ اورکینیڈا دونوں جگہ یہ خاندان نسلی تعصّب کا شکار ہوا کیونکہ ایک تو یہ لوگ ہجرت کرکے آئے تھے اور دوسرے ان کا تعلق عیسائیوں کے کیتھولک فرقے سے تھا جو اس وقت نارتھ امریکہ میں بہت کم تعداد میں تھے مشی گن میں اس نے ٹیچر اور ڈریس میکر دو چیزوں کی ٹریننگ حاصل کی۔ ٹریننگ کرنے کے بعد جب وہ تیئس سال کی تھی اسے 31 اگست 1859 میں مشی گن کے ایک اسکول میں ٹیچر کی نوکری مل گئی جہاں اسے آٹھ ڈالر مہینہ تنخواہ ملتی تھی وہ بہت جلدی اس نوکری سے اکتاگئی اور مشی گن چھوڑ کر شکاگو آگئی اور یہاں سے میمپھس چلی گئی جہاں اس نے 1861 میں جونس سے شادی کرلی۔ اس کے شوہر کی اتنی آمدنی تھی کہ میری ہیرس کو نوکری کرنے کی ضرورت نہیں تھی لہذا اس نے گھر سنبھال لیا۔ 30 سال کی عمر میں جب وہ اپنے شوہر اور چار بچّوں کے ساتھ سکون کی زندگی گزار رہی تھی اچانک ایک وبائ نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔یہ وبائ پیلے بخار کی صورت میں وارد ہوئی تھی جس نے کئی ہنستے کھیلتے لوگوں کو موت کے منہ میں پہونچادیا۔ یہ 1860 کی بات ہے جب میری 30 سال کی تھی اس پیلے بخار نے اس کے شوہر اور چاروں بچّوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ان کو موت کی نیند سلادیا ذرا تصوّر کریں اس عورت کی کیا حالت ہوگی جس کے سامنے اس کا شوہر اور چاروں بچّے ایک ایک کرکے موت کی آغوش میں جا پہونچے اور وہ بے بسی سے دیکھتی رہ گئی۔تیس سال کی عمر میں ہی وہ بیوہ اور اپنے تمام بچّوں سے محروم ہوگئی۔ ایک عام سی زندگی گزارنے والا خاندان جہاں وہ عورت نوکری پیشہ نہیں تھی بلکہ شوہر اور بچّوں کی دیکھ بھال میں ہی سارا دن گزرتا تھا اور اچانک سب اس کو چھوڑ کر چلے گئے۔عموما” ان حالات میں ایک اکیلی عورت موت کی ہی تمنّا کرتی ہے لیکن میری ہیرس بہت مظبوط اعصاب کی مالک تھی وہ زندگی اور موت دونوں ہی سے لڑنا جانتی تھی۔ مصیبت آنے کے بعد اس کے ساتھ وہی کچھ ہوا جو ان حالات میں ہوتا ہے۔ تمام جان پہچان والے ایک کنارے ہوگئے ۔دل برداشتہ ہوکر وہ واپس شکاگو آگئی اور نئے سرے سے زندگی کی ابتدا کی اور یہاں وہ چیز اس کے کام آئی جس کی اس نے ٹریننگ لی تھی ۔اس نے ڈریس میکنگ کا کا م شروع کیا تین چار سال سخت محنت اور کام پر توجّہ دینے کے بعد وہ اس قابل ہوگئی تھی کہ اب وہ سب کچھ بھلاکر اپنی زندگی سکون سے گزار سکے کہ ایک اور المیے نے اس کا سکون غارت کردیا 1871 میں شکاگو میں ہونے والی تاریخی آگ جس نے پورے شکاگو کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اس آگ میں اس کی کپڑوں کی دکان بھی آگ کا ڈھیر بن گئی۔حالات بہتر ہونے کے بعد اس نے ایک فیکٹری میں ملازمت کرلی۔اس زمانے میں امریکہ میں مزدوروں پر آج سے زیادہ ظلم ہوتا تھا۔بغیر اوور ٹائم مزدوروں سے کئی کئی گھنٹے کام لیا جاتا تھا اور وہ کسی بھی سہولت سے محروم تھے۔بہت کم اجرت پر مزدوری کرتے تھے اور نہایت غربت کےعالم میں تھے۔ان حالات کو دیکھ کر میری ہیرس نے مزدوروں کی مدد کرنے کی ٹھانی اس زمانے میں امریکہ میں اپنے حق کی بات کرنا گویا موت کو دعوت دینے کے برابر تھا لیکن میری جونس کو حالات نے لوہے کا بنا دیا تھا اس کے دل سے موت کا خوف مٹ چکا تھا وہ نہ کسی سے ڈرتی تھی اور نا ہی کسی کے رعب میں آتی تھی ۔اس کے پاس دلائل سے بات کرنے اور اپنی گفتگو سے لوگوں پر اثر ڈالنے کا سلیقہ تھا ڈھنگ تھا لوگ اس کی بات سنتے تھے اور متاثر ہوتے تھے۔بہرحال اس نے مزدوروں کو اکھٹّا کرنا شروع کیا۔ سب سے زیادہ مصیبت میں کانوں میں کام کرنے والے مزدور لوگ تھے۔ اس نے دس ہزار کان کن مزدوروں کو جمع کرنے کے بعد بہت جلد تین لاکھ مزدور جمع کرلئے اور ان کو تحریک کا ممبر بنایا وہ امریکہ کے شہروں شہروں گئی اس نے اپنے آپ کو میری ہیرس سے مدر جونس کہلوایا۔وہ مدر جونس کے نام سے مشہور ہوئی اور اس نے امریکہ کی مزدور برادری میں انقلاب بپا کردیا۔مزدوروں کے حقوق کے لئے جگہ جگہ مظاہرے اور ان کو حق دلانے کے لئے معاہدے کئے۔ اس دوران اسے کئی مرتبہ گرفتار کیا گیا اور سزا بھی ہوئی لیکن اس نے ہمّت نہیں ہاری وہ اتنی مظبوط ہوچکی تھی کہ اب مزید اسے گرفتار کرنا یہ سزا دینا ناممکن تھا کیونکہ اس کے پیچھے مزدوروں کی ایک بڑی تعداد تھی جنہوں نے اسے مدر جونس کے نام سے قبول کیا تھا۔ایک مرتبہ ویسٹ ورجینیا کی عدالت میں جب کے وہ ایک کیس کے سلسلے میں وہاں آئی تھی وہاں کے ڈسٹرکٹ اٹارنی نے اسے امریکہ کی سب سے خطرناک عورت کا خطاب اس لئے دیا کہ اس نے 1902 میں مائن ورکر جو کہ کان کن کہلاتے ہیں اور مختلف معدنیات کی کانوں میں کام کرتے ہیں ان کو اور ان کے خاندان کو جمع کیا اور کانوں کے مالکان کے خلاف احتجاج کرنے میں ان کی مدد کی۔کیونکہ کانوں کے مالکان ان کو ان کی محنت کے مطابق مزدوری نہیں دیتے تھے اور جو کانوں میں دب کر مر جاتے تھے ان کے خاندان کی کوئی مدد نہیں تھی۔اس نے بچّوں سے مزدوری کروانے کے خلاف بھی احتجاج کیا اور بچّوں کی لانگ مارچ کا انتظام کیا جو کہ پنسلوانیہ سے نیو یارک تک تھی۔اس نے ا پنی تحریک اور احتجاج سے امریکہ کے پورے نظام کو بدل کر رکھ دیا تھا۔وہ صرف ایک تھی جو اپنا خاندان اپنے بچّے سب کھوچکی تھی لیکن اس کی ہمّت اس کا عزم زندہ تھا۔اس نے وہ مقام حاصل کرلیا تھا کہ جب بڑے بڑے سرمایہ دار اور راک فیلر جیسے بڑے بڑے کاروبار کے مالک اس سے مل کر مزدوروں کو ان کے حقوق دینے پر راضی تھے۔وہ بہت ہی بےباک اور نڈر تھی۔اور ظالم سرمایہ داروں کے لئے درد سر بن گئی تھی۔ 30 نومبر 1930 کو مدر جونس انتقال کرگئی اور اسے شکاگو سے 253 میل دور ماو¿نٹ اولیو میں دفنا یا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں