Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 70

مزار قائد کی حرمت پر بھی سیاست

مزار قائد کے تقدس کی پامالی کے بعد جس طرح سے اب اس پر سیاست کی جارہی ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور اس کے بعد پے در پے اس کے ردعمل میں جس طرح کے واقعات پیش آئے اس نے تو انتظامی ڈھانچے کو ہی ہلا کر رکھ دیا ہے، کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی بہت کچھ ہو گیا۔ مستقبل میں ممکنہ طور پر آنے والے کسی بہت بڑے طوفان کی ایک طرح سے جھلک ہر کسی کو دیکھنے کو مل گئی۔
ہمارے ہاں جرم کی نوعیت اس کی نزاکت اور سنگینی کو دیکھنے کے بجائے اس جرم کے مرتکب کردہ افراد کے قد کاٹھ ان کے وزن اور ان کے مرتبوں کو دیکھ کر ہی قانون نہ صرف حرکت میں آتا ہے بلکہ اپنی راہ بھی خود بناتا ہے۔ مزار قائد کا افسوس ناک واقعہ پولیس اور انتظامیہ کے مجرمانہ غفلت و لاپرواہی کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔ اس واقعہ کے رونما ہونے کے بعد بریگیڈ پولیس کو کسی مدعی کی ضرورت نہیں تھی اگر کوئی مدعی رپورٹ درج کروانے آتا ہے تو اچھی بات ہے ورنہ پولیس خود بھی بذریعہ سرکار مدعیت کے مقدمہ درج کرکے اس میں ملوث ملزموں کو گرفتار کرنے کی پابند ہے لیکن افسوس کے اس اہم ترین معاملے میں بھی پولیس نے روایتی بے حسی کا مظاہرہ کیا اور ڈی آئی جی ایسٹ نعمان صدیقی نے اپنا ملبہ سی سی پی او کراچی غلام نبی میمن اور سی سی پی او نے اپنا ملبہ آئی جی سندھ مشتاق مہر کے سر ڈال دیا۔ غرض جب کسی نے بھی اتنے بڑے معاملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تو پھر کسی نے تو قانون کی پاسداری کرنا تھی اور اس کے بعد وہی ہوا جو کہ نہیں ہونا چاہئے تھا لیکن جو کچھ ہوا اس کے ذمہ دار کوئی اور نہیں خود پولیس افسران کا اپنا طرز عمل اور اپنے قانون تعزیرات پاکستان ضابطہ فوجداری اور پولیس ایکٹ کو یکسر نظر انداز کرکے دوسروں کے قانونی کم اور سیاسی احکامات پر آنکھ بند کرکے عمل کرنا ہے۔
آئی جی سندھ کیوں نہیں کہتے کہ انہیں مقدمہ درج کرنے سے سندھ حکومت نے منع کیا تھا، اتنی جرات اور ہمت سندھ پولیس کے افسران میں ہونی چاہئے کہ وہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہہ سکے لیکن جو بھی کچھ ہوا وہ غلط ہوا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور اب افسوسناک واقعہ کے بعد پولیس کے اعلیٰ افسوں کی جس طرح سے عزت افزائی کی گئی ہے اس پر پولیس کے محکمے میں احتجاج کرنے کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے اور چھوٹے بڑے سارے افسران ہی چھٹی پر بھاگنے کی تیاریاں کررہے ہیں اور آئی جی سندھ مشتاق مہر اور ان کے پورے پینل نے ہی چھٹی کی درخواستوں کے دینے کا سلسلہ شروع کردیا ہے جس سے سندھ پولیس میں ایک افراتفری اور بھگڈر سی مچ گئی ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنے کے لئے بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سندھ دونوں رات گئے آئی جی ہاﺅس پہنچ گئے اور انہوں نے ناراض آئی جی مشتاق مہر کو مناتے ہوئے اپنے فرائض جاری رکھنے کی ہدایات کردی۔ اس طرح سے سندھ پولیس میں جو بدامنی اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی تھی اس پر قابو پا لیا گیا ہے اور صورتحال اس طرح سے سندھ حکومت کے کنٹرول میں آگئی ہے۔
ان تمام صورت حال پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے اس واقعہ کے بعد اب سندھ پولیس میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کا ہونا یقینی امر ہو گیا ہے، ابھی فوری طور پر تو نہیں لیکن نومبر کے پہلے ہی ہفتے میں سندھ پولیس کے سربراہ کراچی پولیس کے سربراہ کی تبدیلی اور کراچی کے تمام ڈی آئی جیز بھی تبدیل کر دیئے جائیں گے کیونکہ پولیس کا موجودہ طرزعمل بالکل چوری اور اس کے بعد سینہ زوری کی طرح کا لگتا ہے۔ ایک تو پولیس والوں نے اپنا بنیادی کام نہیں کیا جو کہ ان کی اولین ذمہ داری تھی اور اس کے بعد جب دوسرے ملک اور قانون کے نفاذ سے اندھی محبت کرنے والوں نے اپنے ہی طور طریقوں سے ان سے ان کا بھولا ہوا سبق یاد کروانے کی کوشش کی تو وہ برا ان گئے اور اسے طور طریقے کو اپنے شان میں گستاخی سے تعبیر دی اور نئی نویلی دلہن کی طرح سے روٹھ کر میکے جانے کا ناٹک کیا جس کے بعد بلاول بھٹو ناراض آئی جی مشتاق مہر کو منانے کے لئے آئی جی ہاﺅس گئے اور انہیں اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کو درگزر کرتے ہوئے صوبے اور خود محکمہ پولیس کے وسیع تر مفاد میں چھٹی پر نہ صرف خود نہ جانے بلکہ اپنے ساتھ بطور احتجاج چھٹی پر جانے والے دوسرے افسران کو بھی روکنے کی ہدایات کی۔ اس موقع پر بلاول بھٹو نے آئی جی سندھ کو یقین دہانی کروائی کہ ان کے ساتھ کئے جانے والے ناروا سلوک کے ذمہ دار اہلکاروں کو صوبے سے باہر نکالیں گے تاکہ آئندہ کسی کو پولیس کے اعلیٰ افسران کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنے اور پولیس کا مورال گرانے کی جرات نہ ہو جب کہ وفاقی حکومت نے سندھ پولیس کے ان تمام اعلیٰ افسروں سے متعلق رپورٹ مانگ لی ہے جو اچانک چھٹی پر جانے کے لئے تیار ہو گئے تھے اس سلسلے میں ایک خفیہ ایجنسی کو یہ کام سونپ دیا گیا ہے۔ حکومت کو چاہئے پولیس فورس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے والوں سے سختی سے نمٹے اور پولیس کے ڈسپلن کا شیرازہ بکھرنے سے پہلے ہی انہیں بچائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں