348

‘مسلم لیگ (ن) سینیٹ میں آکر سیاسی فائدہ حاصل کرے گی’

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شفقت محمود نے واضح کیا کہ اگر سینیٹ چیئرمین کے لیے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اپنا امیدوار لے کر آئی تو وہ اس کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرے گی۔
ڈان نیوز کے پروگرام ‘دوسرا رخ’ میں گفتگو کرتے ہوئے شفقت محمود کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) وہ جماعت ہے جس نے اس ملک کو تباہ کر کے رکھ دیا اور اب جس طرح سے اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے وہ انتہائی شرمناک بات ہے، لہذا اسے کسی صورت بھی جمہوریت کی علمبردار سیاسی جماعت تصور نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہمارا مئوقف بہت واضح ہے اور ہم سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کو کسی صورت میں بھی کامیابی حاصل کرنے نہیں دیں گے اور نہ ہی اس کی حمایت کریں گے’۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ‘سینیٹ میں کامیابی کی صورت میں (ن) لیگ اپنے تمام سابقہ داغوں کو صاف کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ یہ 2018 کے انتخابات میں عوام کو دھوکہ دے کر ایک مرتبہ پھر سے اقتدار پر قبضہ کرسکیں اور ایسا اب ہم ہونے نہیں دیں گے’۔
ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ چیئرمین کے لیے تحریک انصاف نا تو مسلم لیگ (ن) اور نا ہی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حمایت کرے گی اور اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ اس عہدے کے لیے بلوچستان کے آزاد گروپ سے کسی امیدوار کا انتخاب کرنا چاہیے۔
شفقت محمود نے مزید کہا کہ ان کی جماعت کی بلوچستان کے علاوہ فاٹا کے بھی آزاد سینیٹرز کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور خواہش ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اس عہدے کے لیے کوئی امیدوار لے کر آئیں جس کی ہم بھرپور حمایت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ‘اگر بلوچستان اور فاٹا سے کوئی امیدوار نہیں آتا تو اس صورت میں بھی ہم پیپلز پارٹی کا ساتھ ہرگز نہیں دیں گے، کیونکہ یہ تحریک انصاف کا اصولی فیصلہ ہے، جس سے کسی قیمت پر بھی پیچھے نہیں ہٹا جائے گا’۔
یاد رہے کہ حالیہ سینیٹ انتخابات میں وفاق اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سمیت چاروں صوبوں میں 52 خالی سینیٹ نشستوں پر 133 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا تھا۔
خیال رہے کہ پنجاب کی 12 نشستوں پر 20 امیدوار، سندھ کی 12 نشستوں پر 33 امیدوار، خیبرپختونخوا کی 11 نشستوں پر 26 امیدوار، بلوچستان کی 11 نشستوں پر 25 امیدوار، فاٹا کی4 نشستوں پر 25 امیدوار اور وفاق سے 2 نشستوں پر 5 امیدوارحصہ لیا تھا۔
سینیٹ انتخابات 2018 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امیدواروں نے برتری حاصل کرلی، سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کو واضح برتری حاصل ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ مولانا سمیع الحق کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
سینیٹ کے حالیہ انتخابات کے بعد نئے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے حوالے سے ملک کی اہم سیاسی جماعتوں نے جوڑ توڑ کا آغاز ہوگیا ہے۔
واضح رہے کہ سینیٹ انتخابات میں اکثریتی جماعت بننے کے بعد جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) اپنا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ لانے کی کوششوں میں مصروف ہے، وہیں اپوزیشن جماعتیں خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے بھی رابطے تیز کردیئے گئے ہیں۔
اس قبلم مسلم لیگ (ن) کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے لیے رضا ربانی کا نام دیا گیا تھا، تاہم پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد اب دونوں جماعتوں کی اپنا امیدوار لانے کے لیے کوشاں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں