حامد میر کا ایک مرتبہ پھر فوج پر حملہ! 68

مشرقِ وسطیٰ میں ظلم کی انتہا!

صیہونی فوجوں کی طرف سے ہونے والی گولہ باری اور فضائی حملوں میں غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر عرصہ حیات گنگ کر دیا گیا ہے اب تک کی اطلاعات کے مطابق دو سو سے زائد بچے، عورتیں اور دوسرے افراد شہید ہو چکے ہیں اور سینکڑوں شدید زخمی ہیں۔ اسرائیلی میزائلوں نے نہ صرف شہری آبادی کو نشانہ بنایا بلکہ میڈیا کے دفاتر کو بھی خس و خاشاک کردیا۔ غزہ کی تیل کی سپلائی بند ہو چکی ہے۔ وہاں بجلی نہیں ہے، لوگ خوراک کو ترس رہے ہیں، بچے بلک بلک کر زندگی کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کی طرف سے بربریت اور ظلم کی انتہا کر دی گئی ہے، موجودہ جنگ کافی عرصہ بعد ہو رہی ہے اس دوران چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوتی رہی ہیں مگر بڑے پیمانے پر بھاری ہتھیاروں اور فضائیہ کا استعمال بہت عرصے بعد ہوا ہے۔
فلسطینی پتھروں کے ساتھ حملہ آور ہیں جب کہ حماس نے پہلی مرتبہ بہت بڑی تعداد میں اسرائیل پر راکٹ فائر کئے ہیں۔ جس کا کچھ فائدہ نہیں ہوا بلکہ الٹا نقصان ہوا ہے کہ اسرائیل نے دنیا کے سامنے پوزیشن لے لی ہے کہ اہم اپنا دفاع کررہے ہیں۔ اسرائیل کے اس موقف کو جوبائیڈن نے بھی دہرایا ہے بلکہ پوری بائیڈن انتظامیہ اسرائیل کی حمایت کررہی ہے جب کہ اسرائیل کی اس جارحیت کے خلاف دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ مسلمان ممالک کی تنظیم او آئی سی کا اجلاس بھی منعقد ہوا اور انہوں نے بھی اسرائیل کے خلاف متفقہ قرار داد منظور کی ہے۔ پاکستان نے بھی ایسی ہی قرارداد منظور کی ہے۔ دنیا بھر کا میڈیا اس کی مذمت کررہا ہے مگر اسرائیل کے سر پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ 57 اسلامی ممالک اسرائیل کے سامنے بے بس ہیں، کوئی بھی ملک عملی اقدام کرنے سے قاصر ہے۔ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔
یاد رہے کہ 1948ءمیں جب اسرائیل نے آزادی کا اعلان کیا تو اس کا تصور بھی برطانیہ نہ دیا تھا۔ Belfour ڈیکلیئریشن جو کہ 1917ءمیں ہوا اس میں پہلی مرتبہ برطانیہ نے فلسطین میں ہی یہودیوں کو آزاد ملک بنانے کی خوشخبری دی تھی اور اس کی تقسیم بھی اسی طرح کی گئی جس طرح برصغیر پاک و ہند کی بعد میں کی گئی اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ مشرق وسطی اور ساﺅتھ ایشیا میں سرحدوں کو اس طرح تقسیم کیا گیا کہ وہ ہمیشہ اس پر لڑتے رہیں اور یہ ممالک انجوائے کرتے رہیں اور اپنا اسلحہ بیچتے رہیں یہ ممالک مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں اور ان کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے کئی مسلمان ممالک اس وقت انسانی حقوق کی پامالیوں سے دوچار ہیں پچھلے بیس سالوں میں لاکھوں مسلمانوں کو افغانستان، عراق، یمن، شام، لیبیا اور کئی دوسرے ممالک میں ہلاک کردیا گیا، ان کا لہو کس کے ہاتھ پر تلاش کریں۔ اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد و اتفاق کا فقدان اس کی بہت بڑی وجہ ہے وگرنہ مسلمانوں کو شکست دینا ناممکن ہے اس وقت مسلمان تاریخ کے بدترین موڑ پر کھڑے ہیں، ہر کوئی اپنے مفاد کو دیکھ رہا ہے۔ مسلمانوں کی اجتماعی سوچ کا جنازہ نکل چکا ہے۔
دو عالمی جنگوں کے نتیجے میں مغربی ممالک نے اس بات کا ادراک کرلیا کہ آپسی لڑائی میں ہم بہت کمزور ہو چکے ہیں اور دشمن اس کا فائدہ اٹھا رہا ہے آج سارا یوروپ یک جان ہو چک اہے تمام بارڈرز کھل چکے ہیں انہیں آپس میں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے ان کے لوگ ایک دوسرے کے ممالک میں آزادانہ گھومتے ہیں، باہمی تجارت پر کوئی قدغن نہیں ہے اگر کسی مالی طور پر کمزور ملک کو ضرورت پڑتی ہے تو اس کی سب مل کر مدد کرتے ہیں۔ یوروپین نے پچھلے ساٹھ ستر سالوں میں اپنے اپنے ممالک کو انڈسٹریل اسٹیٹ بنا دیا ہے ان کی معیشت اتنی طاقتور ہے کہ تمام اسلامی ممالک مل کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کو اپنا لیا ہے کسی حد تک تین چار ملکوں کے علاوہ یہ لوگ ہتھیاروں کی دوڑ سے باہر آچکے ہیں۔ اکیسویں صدی معیشت کی صدی ہے۔ اس میں جس ملک کی معیشت مضبوط ہو گی وہی سپرپاور کہلائے گا۔ ہتھیاروں کا زمانہ گزر چکا ہے کیوں کہ کرونا وائرس نے ثابت کردیا ہے کہ انسانیت کی تباہی و بربادی کے لئے ایک وائرس ہی کافی ہے۔
وائس آف کینیڈا اردو کے پروگرام راﺅنڈ اپ کینیڈا میں اظہار خیال کرتے ہوئے ریحانہ ہاشمی جو کہ کارلٹن یونیورسٹی میں Criminologo کی پروفیسر ہیں نے کہا ہے کہ اسرائیل میں اب جو واقعات رونما ہو رہے ہیں وہ بڑے خطرناک ہیں اور ان کے اثرات بہت دور رس ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی دفعہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ یروشلم میں رہنے والے فلسطینی اور یہودی آپس میں دست و گریباں ہیں جو کہ صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ پیار و محبت سے زندگی گزار رہے تھے یعنی یہ بہت خطرناک تبدیلی ہے کہ آپ کا ہمسایہ ہی آپ کا دشمن ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ اس خطہ کے مالکان کو ہی بے دخل کررہے ہیں اور یہ صرف بزور شمشیر ہو رہا ہے اور امریکہ کی پشت پناہی اس میں شامل ہے۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ہمیں یعنی مسلمانوں کو متحد ہونا ہو گا وگرنہ صیہونی قوتیں فلسطین کے پاس بچا کھچا علاقہ بھی چھین لیں گی جو کہ بہت بڑا سانحہ ہوگا۔ فلسطینی مسلمان ہی قبلہ اول کے متولی ہیں اور وہی اس کی حفاظت اور حصول کی جنگ لڑ رہے ہیں ہم سب کا فرض ہے کہ ہم انہیں ہر طرح کی سپورٹ کریں۔ ہم ہر طرح سے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے اس بہیمانہ قتل پر سخت مذمت کرتے ہیں اور اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسرائیل کی طرف سے جاری جنگ کو فوری طور پر رکوایا جائے۔ اللہ تعالیٰ فلسطینیوں کا حامی و ناصر ہو، (آمین)۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں