افغانستان، حقوق نسواں 41

مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا فیور

مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا کے رجحان میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ مذہبی تعصب کی بناءپر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں روز بروز تیزی دکھائی دے رہی ہے۔ حال ہی میں کینیڈا کے شہر لندن اونٹاریو میں ایک ہی فیملی کے چار افراد کو سفاکانہ طریقہ سے ٹرک کے نیچے کچل دینا اور گزشتہ روز ایک مسلمان شخص پر چند افراد کا حملہ اور ایک پاکستانی کاشف نامی شخص کو دو سفید فام افراد کا حملہ کرکے زخمی کر دینا، نہ صرف حملہ بلکہ حملہ آوروں نے مذکورہ شخص کی داڑھی بھی کاٹ ڈالی۔ گزشتہ دنوں کینیڈا کے شہر سینٹ البرٹ میں دو مسلمان خواتین پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔ چاقو بردار شخص نے خواتین کو دھکے دیئے ان پر نسلی جملہ کسے اور پھر حجاب کھینچ ڈالے۔ اس کے علاوہ کینیڈا کے شہر ٹورنٹو جہاں کثیر تعداد میں مسلمان موجود ہیں کی ایک مسجد میں ایک مرد اور ایک خاتون نے زبردستی گھسنے کی کوشش کی تھی۔ ان تمام واقعات کا رونما ہونا یقیناً کینیڈا اور دیگر ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے لئے تشویش کا باعث ہیں۔ خصوصاً کینیڈا جیسے ملک میں جہاں حکومت بھی مسلم فرینڈلی ہو۔ اس قسم کے واقعات کا رونما ہونا حیران کن ہے۔ مسلمانوں کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ ان واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے کہ ہماری نئی نسل کو خوف زدہ کرنے کے لئے اس قسم کے واقعات جنم لے رہے ہیں۔
کینیڈا سمیت دنیا جس کونے میں بھی اسلاموفوبیا کی لہر اس کے آگے مکمل بندھ باندھنے کی ضرورت ہے اور یہ کام صرف مذمتی بیانات کے ذریعے ممکن نہیں۔ مغربی ممالک پاکستان میں رونما ہونے والے چھوٹے سے واقعہ کو بھی دنیا بھر کے میڈیا پر دکھا کر مسلمانوں کو بنیاد پرست ہونے کا طعنہ تو دیتے ہیں مگر دوسری جانب مغربی ممالک میں ہونے والے ان واقعات کی ذمہ داری کون لے گا؟ دنیا میں تو پہلے ہی تہذیبوں کی جنگ جاری ہے اور تصادم کے خطرات موجود ہیں۔ لہذا کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا فرض بنتا ہے کہ وہ کینیڈا کا سوفٹ امیج دنیا میں برقرار رکھنے کے لئے اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے خطرناک نظریات و رجحانات کو بھرپور جذبہ انسانیت کے ساتھ کچل دیں ورنہ پانی سر سے گزر گیا تو پھر سب لاحاصل رہے گا۔ یاد رہے کہ کینیڈین مسلمان موجودہ حکومت اور وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو پر بہت اعتماد کرتے ہیں اور موجودہ کینیڈین حکومت نے بھی تمام مذاہب کو یکجا کرکے امن اور آتشی سے رہنے کا موقعہ فراہم کیا ہے۔ ایسے میں چند گروپ اور افراد کی جانب سے اس قسم کے عمل کا مقصد موجودہ حکومت کو بدنام کرنا اور آنے والے الیکشن میں لبرل حکومت کو دوچار کرنے کی سازش نظر آتا ہے۔ چنانچہ کینیڈین وزیر اعظم اور موجودہ حکومت کو سخت اقدامات اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں