پی ڈی ایم ۔ چور مچائے شور کا ٹولہ! 111

مملکت خداداد کس طرف جارہا ہے؟

جب سے ہم نے ہوش سنبھالی ہے، بدقسمتی سے مملکت خداداد جو کہ بیش بہا قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہوا، کی واضح منزل کا تعین نہ ہو سکا۔ ہماری قومی ترجیحات کیا ہیں؟ کچھ معلوم نہیں ہے۔ ہر آنے والی حکومت عوام کو بے وقوف بنا کر کوئی نیا لالی پاپ منہ میں دے دیتی ہے اور عوام بے چارے اسے چباتے چباتے اچھے مستقبل کے خواب بننے لگتے ہیں جو کہ ہمیشہ سراب ثابت ہوتے ہیں۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پاکستان کے عوامی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے مغربی اور مشرقی پاکستان کے سادہ لوح لوگوں کو روٹی، کپڑا اور مکان بہم پہچانے کی یقین دہانی کروائی تھی اور اسی نعرہ کو اتنی پذیرائی ملی کہ بھٹو دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان کے لوگوں کا ہر دلعزیز لیڈر بن گیا۔ بھٹو دور میں جو کچھ ہوا وہ سب کے علم میں ہے مگر غریب اور پسے ہوئے عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان جیسی بنیادی ضروریات میں سے کچھ نہ ملا۔ غریب غریب تر ہوتا چلا گیا اور امیر امیر تر۔ دو طبقاتی نظام کی بنیاد رکھ دی گئی۔ امیر کے لئے جہاں اور غریب کے لئے جہاں اور۔ جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوا۔
خودنمائی کا زہر گھلا گیا۔ خوشحال لوگوں کو دیکھ کر متوسط طبقے میں ہر جائز اور جائز طریقے سے ان کی برابری کرنے کی دوڑ شروع ہو گئی۔ اسی طرح غریب طبقے نے متوسط لوگوں کو کاپی کرنا شروع کردیا۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے نوجوانوں کو جرائم کرنے پر مجبور کردیا۔ غربت نے حتیٰ کہ غربا کے گھروں کی بیٹیوں کو جسم فروشی کے دھندے پر لگا دیا۔ یقین کریں کہ فیملی کی کفالت اور پیٹ کی بھوک مٹانے کے لئے انسان اپنی انا اور مرضی کے خلاف کیا کچھ کر گزرتا ہے۔ سوچ کر رونگٹھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
بھٹو دور سے معاشرتی تنزلی کا یہ سلسلہ شروع ہوا جو ضیاءالحق، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور پرویز مشرف ادوار سے گزرتا ہوا یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ الامین الالحفیظ۔ پچھلے دو سال سے عمران خان وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہے۔ جس کی دو دہائیوں پر مشتمل سیاسی جدوجہد کا حاصل یہی تھا کہ پاکستان کے معاشی اور معاشرتی ڈھانچے کو درست شکل دی جائے۔ اسے ریاست مدینہ کے اصولوں پر مثالی ملک بنایا جائے۔ پچھلے چالیس سالوں میں پیدا ہونے والا معاشرتی بگاڑ اس حد تک ملک کی بنیادیں کھوکھلی کر چکا ہے کہ اس عمارت کے منہدم ہونے کا خطرہ نظر آرہا ہے۔ ہمارے ملک میں کسی بھی شعبہ کو ہاتھ لگا کر دیکھ لیں سامنے سے آپ کو مایوسی ہی مایوسی نظر آئے گی۔ بائیس کروڑ عوام کا ملک بائیس کروڑ مسائل سے دوچار ہے اور ہر مسئلہ دوسرے سے اہم ہے۔
ہمارا اداراتی نظام زبوں حالی کا شکار ہے۔ قومی اہمیت کے جتنے بھی اہم ادارے نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، پولیس، عدلیہ اور مقننہ کی کارکردگی دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ جہاں قومی ادارے تباہ حال ہیں وہیں ہماری عوام جو کہ بہت بڑی تعداد خواندہ اور ناخواندہ ہے اس جرم میں برابر کی شریک ہے۔ کسی کو اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا ادراک نہیں ہے، ہر کوئی اپنا حق مانگ رہا ہے۔ چاہے کوئی لیڈر ہو یا عوام۔ ملک آپ سے کیا تقاضا کرتا ہے اس سے کسی کو غرض نہیں ہے۔ ہر کوئی غیر ذمہ داری اور بے حسی کی زندہ مثال ہے۔ ہم بطور قوم تباہ حال ہیں اور اسی لئے زمانے میں ہر وقت رسوا ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی ہمیں امریکہ بلیک میل کرتا ہے اور کبھی سعودی عرب، ہماری اپنی کوئی پالیسی انا اور شناخت نہیں ہے۔
پاکستان میں بڑھتے ہوئے جنسی زیادتی کے کیس ہماری انتظامیہ کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ ہے اگر کوئی محسوس کرے تو حال ہی میں ہونے والے اجتماعی زیادتی کے کئی واقعات نے ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی ناہمواریوں کی قلعی کھول دی ہے۔ نوجوان طبقے میں ذہنی اضطراب، جنسی کشش، بے روزگاری اور نشہ کے بے دریغ استعمال نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ جرائم کے یہ واقعات صرف ہمارے ملک میں ہو رہے ہیں۔ ساری دنیا اس کی لپیٹ میں ہے لیکن مہذب ملکوں نے بغیر ٹیکنالوجی، بہتر معیار تعلیم اور بہترین حکمت عملی سے ان پر کافی حد تک قابو پایا ہے اس کی وجہ بروقت انصاف کی فراہمی بھی ہے۔
سخت سزاﺅں سے لوگوں کو جرم کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں موجودہ حکومت کو جو کہ ریاست مدینہ کی دائی ہے اسلامی سزائیں متعارف کروانی چاہئیں، یقین کریں اس کے بڑے جلد اور دور رس نتائج برآمد ہوں گے، کوئی بھی شخص جرم کرنے سے پہلے دس بار سوچے گا۔ جنسی زیادتی کے کیسز کو فوری طور پر نمٹایا جائے اور مجرموں کو چوکوں، چوراہوں پر سرعام پھانسیاں دی جائیں۔ آپ دیکھیں گے کہ جرائم کس طرح کم ہوتے ہیں۔ ہماری عوام جہاں غیر ذمہ دار ہے وہیں ڈرپوک بھی ہے۔ عمران خان کو ریاست مدینہ کی طرف قدم اٹھانے کے لئے سب سے پہلے سستا اور جلد انصاف مہیا کرنا ہوگا۔ چادر اور چار دیواری کا تحفظ یقینی بنانا ہو گا۔ پورے ملک کو چوبیس گھنٹے محفوظ خطہ زمین بنانا ہوگا۔ جہاں ہر مرد و زون آزادی اور بے خوفی سے نقل و حمل کر سکے اور یہ صرف اور صرف سخت اسلامی سزاﺅں سے ہی ممکن ہو سکے گا۔ اس کا کوئی سیاسی یا جمہوری حل نہیں ہے۔ ہمیں جمہوری اور مہذب معاشروں کے برابر پنپنے کے لئے بہت لمبا عرصہ درکار ہے جو کہ شاید ہماری زندگیوں میں تو ممکن نہ ہو، ہماری خواہش ہے کہ ہم پاکستان کو محفوظ اور خوشحال ملک دیکھیں۔ عمران خان سے بہت امیدیں وابستہ کئے بیٹھے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی (Radical) قدم نہیں اٹھایا گیا۔ جس کی توقع سب لوگ کررہے ہیں اور بڑی بے تابی سے تمام مافیا کی سرکوبی کے منتظر ہیں۔ رب ذوالجلال ملک پاکستان کو محفوظ رکھے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں