Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 637

مٹّی کا قرض

دنیا کے کئی ممالک میں وحشت کا کاروبار زور شور سے جاری ہے لیکن کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جنہوں نے بہت جلد اس بات کو محسوس کرلیا کے وحشی بن کر رہنے میں سراسر تباہی ہے۔لہذا انہوں نے اپنے آپ کو بالکل بدل لیا،کیوں کے وہ سمجھ چکے تھے کہ امن اتّحاد محبّت اور بھائی چارگی اور محنت سے ہی وہ ترقّی اور خوشحالی حاصل کرسکتے ہیں اور آج وہ تمام ممالک ترقّی یافتہ قوموں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔چین کوریا اور جاپان اس کی زندہ مثا ل ہیں۔یہ قومیں کسی زمانے میں وحشی قومیں کہلاتی تھیں۔لیکن افسوس کے ہمیں ستّر سال گزرچکے ہیں لیکن ابھی تک وحشت اپنے عروج پر ہے۔ پانچ سال پہلے میں نے ایک بہت ہی حسّاس معاملے پر ایک آرٹیکل لکھا تھا جس میں اس بات کا تذکرہ تھا کہ ہمارے ملک کی موجودہ صورت حال انتہائی خطرناک حالات کی طرف جارہی ہے کیوں کے زبان اور قومیت کے اختلافات بڑھتے جارہے ہیں اور ہمارے وہ تمام سیاستدان جن کا تعلّق جس صوبے سے ہے وہاں کے لوگوں کو اپنا حامی بنانے کے لئے اس اختلاف کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔اور ہماری قوم خاص طور پر نئی نسل پاکستان بننے کے محرکات سے نا آشنائی کی بناہ پر ایک غلط سوچ کو پروان چڑھارہی ہے۔موجودہ بے چینی کی فضائ زبان اور قومیتوں کے اختلافات میں قصور ان لوگوں کا ہے جنہوں پاکستان بننے کے بعد حالات کو قدروں کو بھائی چارگی کو اور پاکستان بننے کے محرکات کو نئی نسل سے نا آشنا رکھّا بچپن سے لے کر جوانی تک انسان کی تعلیم و تربیت کا ذریعہ اس کے ماں باپ ،بزرگ، اساتذہ اور اس کے ماحول سے تعلّق رکھنے والے آس پاس کے لوگ ہوتے ہیں۔اور جن حالات میں وہ پرورش پاتا ہے اسی حالات اور ماحول میں ڈھلتا چلا جاتا ہے۔میں مسلمان ہوں اسلام کے بارے میں جو کچھ سیکھا پڑھا وہ سب ہمارے بزرگوں کا ہی بتایا ہوا پڑھایا ہوا تھا ،شعور کی منزل تک پہونچتے پہونچتے یہ تمام تعلیم ہمارے اندر رچ بس گئی۔اور اسی حساب سے ہم مختلف فرقوں اور مسلک میں ڈھل گئے۔آج جو ہمارے معاشرے میں بے چینی بد اعتمادی اور نفرتوں کی فضائ قائم ہے اس کا ذمہّ دار آخر کون ہے۔
کیا ہمارے ذہن میں منفی باتیں خود بخود پیدا ہوئی ہیں یا ہم نے ماحول کا اثر لیا یا پھر غیر محسوس طریقے سے ہم کو انجانے میں ایسی تعلیم ملی جس نے ہمارے ذہن میں بٹوارہ پیدا کیا۔کچھ دن پہلے سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ پر نظر پڑی جس میں کراچی کی ایک دیوار پر نعرہ لکھا ہوا تھا ،مہاجروں ہندوستان واپس جاو¿، تیس سال پہلے مڑ کر دیکھتا ہوں تو شائید کراچی میں ایسا کہنے والا کوئی نہ تھا۔اور پھر یہ احساس بھی ہوا کہ یہ نعرہ اس بات کی طرف اشارہ دیتا ہے کہ اس طرح کی سوچ رکھنے والوں کی تعداد کراچی میں اکثریت اختیار کر گئی ہے۔مجھے کسی قوم کسی زبان والے سے کوئی شکایت نہیں ہے پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ اچھّے برے ہر قوم میں ہوتے ہیں۔افسوس یہ ہے کہ اس طوح کھلّم کھلّا نفرتوں کا اظہار ہوہا ہے یہ دراصل نعرہ لکھنے والوں کی جہالت اور لا علمی ہے کہ ان کو حقائق سے دور رکھّا گیا اور ان کو اپنی تاریخ کا زرا سا بھی علم نہیں ہے پاکستان اور ہندوستان دو علیحدہ ملک کیسے بنے اس کے پیچھے کیا حقائق پوشیدہ تھے۔اس وقت کے لوگوں نے نہ جانے کیوں اپنی اولادوں سے اور آنے والی نسلوں سے حقائق کو پوشیدہ رکھّا۔اور کچھ لوگوں نے شائید تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔جس کے نتیجے میں آج یہ نعرہ کراچی کی دیواروں پر لکھا نظر آرہا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ ہجرت یکطرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ تھی۔صرف مسلمان ہی ہندوستان کے ایک حصّے سے ہجرت کرکے دوسرے حصّے میں نہیں آئے بلکہ ہندو ،سکھ ، پارسی اور کچھ دوسرے مذاہب کے لوگ موجودہ پاکستان والے حصّے سے ہجرت کرکے انڈیا گئے۔سوال یہ ہے کہ کیا کوئی انڈیا میں ان کو کہتا ہے کہ مہاجروں پاکستان واپس جاو¿۔پاکستان اور انڈیا ایک معاہدے کے تحت دو حصّوں میں تقسیم ہوئے یہ تقسیم کن وجوہات کی بنائ پر عمل میں آئی مسلمانوں نے اسے کیوں قبول کیا اس کی کیا وجوہات تھیں انگریز نے اس بٹوارے پر کیوں زور دیا اور اس کا کیا فائدہ تھا یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔لیکن دونوں حصّوں سے ہجرت اس معاہدے کا ہی ایک حصّہ ہے ہجرت کا یہ عمل پورا ہونے کے بعد ہی دو مملکت کا تصوّر پورا ہونا تھا اس وقت تک کوئی بھی شخص قانونی طور پر پاکستانی نہیں تھا۔بے عقلوں کی سمجھ میں یہ بنیادی بات نہیں آتی کہ موجودہ پاکستان ہندوستان کا ہی ایک حصّہ تھا اور یہاں پیدا ہونے والے یا ان کے آباو¿ اجداد ہندوستان کے اسی حصّے میں رہتے تھے چاہے وہ پنجاب ہو پختونستان ،بلوچستان یا سندھ سب ہندوستان میں شامل تھا اور یہاں کے رہنے والے ہندوستانی ہی کہلاتے تھے وہ سب بعد میں پاکستانی کہلائے۔اور ہجرت کرنے والے چاہے ان کا تعلّق یوپی سے ہو یا مشرقی پنجاب سے وہ سب ہندوستانی کی حیثیت سے ایک حصّے سے دوسرے حصّے میں منتقل ہوئے اور اس کے بعد وہاں پہلے سے رہنے والے اور ہجرت کرکے آنے والے جو کہ اس وقت تک سب ہندوستانی تھے وہ سب پاکستانی کہلائے تو پھر صرف ہجرت کرکے آنے والے ہی ہندوستانی کیوں کہلائے جاتے ہیں۔تقسیم کے وقت تک جو لوگ موجودہ پاکستان کے حصّے میں رہتے تھے وہ اگر ہندوستانی نہیں تھے تو پھر ان کی شناخت کیا تھی اور اگر ان کا تعلّق پہلے ذہنی طور پر ہندوستان سے نہیں بلکہ کسی اور ملک سے تھا تو پھر ان کو بھی واپس اسی ملک چلے جانا چاہئے۔سیدھی بات یہ کہ ہم نے آخر آپس میں نفرتیں پھیلانے اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے کیوں جھوٹ کا سہارا لیا ہوا ہے سچ اور حق بات کہتے ہوئے ہم کیوں شرماتے ہیں کیوں نفرتوں کو ہوا دیتے ہیں۔سچ اور حق کی دنیا میں انسان بہت اعتماد کے ساتھ جیتا ہے نہ ذہن پر بوجھ ہوتا ہے اور نہ ضمیر پر انسان ذیادہ خوش اور صحت مند رہتا ہے بے شمار لوگ جو ہمارے آس پاس بہت اکڑے ہوئے اور رعونت کے انداز میں دیکھتے ہوئے نظر آتے ہیں یقین کریں یہ اندر سے کھوکھلے ہیں۔اعتماد اور پیار محبّت بھا?ئی چارگی ،اتّحاد کے ساتھ جینے کا لطف ہی اور ہے۔بڑے سے بڑے ظالم کی ظالم ملکوں اور حکمرانوں کی پرواہ نہیں رہتی۔
خلوص ،محبّت ،عاجزی ،انکساری کے پودے اگانے اور تناور درخت بنانے کے لئے سچ اور حق کے بیج بونے پڑتے ہیں ۔تب یہ پھول اور پھل دار درخت بنتے ہیں ورنہ جھوٹ کے بیجوں سے صرف خاردار جھاڑیاں ہی اگتی ہیں اور ہماری تمام نئی نسل ان ہی خاردار جھاڑیوں میں الجھی ہوئی ہے ۔آپس کی چپقلش قومیتوں اور زبان کے جھگڑوں نے ہمیں تقسیم کردیا ہے اور لیڈروں نے اپنی سیاست چمکانے کے لئے اس خلیج کو اور بڑھادیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر قوم اپنی زبان کے لیڈر کے ساتھ کھڑی ہے۔ ملک کی سالمیت کی کوئی پرواہ نہیں ہے کوئی کتنا بڑا بھی چور ہے ملک دشمن ہے اس کا کوئی خیال نہیں خیال ہے تو صرف اتنا کہ بس اپنی زبان والے کو کامیاب کرنا ہے اپنا سب کچھ داو¿ پر لگادیا جاتا ہے یہاں تک کہ ملک کی سالمیت کی بھی فکر نہیں رہتی اللہ ہمارے ملک پر اور اس قوم پر رحم کرے۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں