Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 103

میاں صاحب کا کیا بنے گا۔۔۔؟

میاں نواز شریف کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا برطانیہ اسے واقعی ڈی پورٹ کردے گا؟ یا پھر اسے بالاخر سیاسی پناہ دے ہی دے گا۔ یہ وہ سوالات ہیں جو ان دنوں برطانیہ اور پاکستان دونوں ملکوں میں زیربحث ہیں، خود میاں برادران کے حامی اور ان کے مخالفین سب ہی ایک دوسرے سے یہ ہی سوالات پوچھتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ آخر اس معاملہ کا کیا بنے گا؟ آخر برطانیہ نے میاں صاحب کو ان کی درخواست اور خرابی صحت کے باوجود ویزے میں توسیع کیوں نہیں کی؟ کیا برطانیہ واقعی میاں صاحب کو اپنے ملک سے بے دخل کرنے کے لئے سنجیدگی سے غور و خوض کررہا ہے؟ کیا برطانوی حکومت عمران خان کے پروپیگنڈہ یا پھر ان کے بیانیہ کے دباﺅ میں آگئی ہے وہ ڈر گئے ہیں، گھبرا گئے ہیں یا پھر برطانوی حکومت پر خود اپنے ملک کے عوام کا دباﺅ بڑھ گیا ہے اور حکومت نے یہ کارروائی خود کو غیر معمولی عوامی دباﺅ سے نکالنے کے لئے کی ہے۔ آخر کوئی تو وجہ ہے کہ جس کی وجہ سے برطانوی حکومت کو اتنا بڑا قدم اٹھانا پڑا، میاں صاحب کے برطانیہ میں رہنے کی وجہ سے تجارتی اور سیاسی دونوںلحاظوں سے برطانوی حکومت کو فائدہ ہی ہے۔ ان کی اربوں پاﺅنڈز کی جائیدادیں اور اتنی ہی رقم خود برطانوی بینکوں میں پڑی ہیں اگر میاں صاحب اپنی پراپرٹی اور بینک بیلنس برطانیہ سے نکلواتے ہیں تو اس کا کچھ نہ کچھ اثر تو برطانیہ کے مالی صورتحال پر پڑے گا۔ آخربرطانیہ نے اتنا بڑا قدم کیوں اور کس وجہ سے اٹھایا۔ اس بارے میں مسلم لیگ ن کے سیاستدان جہاں سوچ و بچار میں گم ہیں وہیں خود ان کا لے پالک میڈیا بھی سخت پریشان ہے کہ آخر بیٹھے بٹھائے برطانوی حکومت کو یہ کیا سوجھی جو انہوں نے میاں صاحب کو ویزہ نہ دے کر ایک طرح سے عمران خان کے کرپشن کے خلاف جاری بیانیہ پر اپنی مہر ثبت کردی ہے کہ عمران خان کا بیانیہ درستہے اس سلسلے میں مختلف طرح کی تھیوریاں اس وقت سیاست کے بازار میں سرگرم ہیں، کسی کا کہنا ہے کہ برطانیہ کسی بھی صورت میں میاں نواز شریف کو ملک سے نکالنے کی غلطی نہیں کرے گا، برطانیہ اب تک جب الطاف حسین کے خلاف کچھ نہیں کر سکا تو پھر میاں صاحب کے کارنامے تو الطاف حسین کے کارناموں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، ان پر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات ہیں، دہشت گردی کے نہیں، اس وجہ سے میاں صاحب کا اس طرح سے بقول شاعر ”بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کچے سے ہم نکلے“ کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔
برطانوی حومت کے یہ اقدامات کچھ اور ہیں، جو ابھی تو سمجھ میں نہیں آرہے ہیں مگر اس تمام تر صورتحال اور خود برطانوی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے بعض نیوٹرل تجزیہ نگاروں کا یہ کہنا ہے کہ جو بھی کچھ ہونے جا رہا ہے اس میں میاں برادران کو ہی فائدہ ہونے والا ہے۔ برطانوی حکومت خود تنقیدوں کے بڑھتے ہوئے نشترو ںسے نکالنے کے لئے یہ سارے اقدامات کررہی ہے ان کا طریقہ واردات بالکل اسی طرح سے ہے کہ ”سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے“ یعنی میاں برادران برطانیہ میں بھی رہے اور خود برطانوی حکومت پر کوئی الزام بھی نہ لگے، اس وجہ سے برطانوی حکومت کو یہ بڑا قدم اچانک نہیںبلکہ طے شدہ منصوبہ کے تحت اٹھانا پڑا۔
ایک تجزہ نگار تو برمال کہہ رہا ہے کہ میاں محمد نواز شریف کو جھولی پھیلانے یا دوسرے معنوں میں بھیک مانگنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ بھیک وہ بھی ”سیاسی پناہ“ کی۔ اس کے سوا برطانیہ میں رہنے کا میاں صاحب کے پاس اور کوئی آپشن ہی نہیں ہے۔ میاں صاحب کا پاکستانی سیاست سے عملی طور پر پتا کٹ چکا ہے اور وہ کود بھی پاکستان جانے کے حق میں نہیں ہیں وہ ذہنی طور پر برطانیہ میں آخری سانسوں تک رہنے کا منصوبہ بنا چکے ہیں، جس کا علم خود برطانوی ڈپلومیٹ کو بھی ہے، اسی وجہ سے کافی سوچ و بچار کے بعد ہی اس سارے معاملے کا حل یہ نکالا ہے۔ میاں صاحب پاکستان جانا نہیں چاہتے اور برطانیہ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر میاں صاحب کو برطانیہ سے نکالنا نہیں چاہتے۔ تو اس کے بعد میاں صاحب کے پاس سیاسی پناہ لینے کے اور کوئی چوائس ہی نہیں اور سیاسی پناہ لینا کوئی جرم یا پھر کوئی غیر اخلاقی یا غلط کام نہیں کہ جس کو کرنے سے کسی کو کوئی ندامت یا شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔ اس سے قبل بھی نامور سیاستدان مختلف ملکوں میں سیاسی پناہ لیتے رہے ہیں جس میں انقلاب ایران کے روح رواں امام خمینی شامل ہیں۔ جام صادق مرحوم اور دوسرے بہت سارے سیاستدان، شاعر اور انقلابی رہنماﺅں کی بہت بڑی تعداد شامل ہے۔ اب سیاسی پناہ کوئی کس طرح سے لیتا ہے اور کوئی ملک اسے کس طرح سے دیتاہے، کوئی اس کا مجاز ہے یا نہیں۔ یہ الگ بات ہے اس کا جائزہ لینا سیاسی پانہ مانگنے والے اور سیاسی پناہ دینے والوں کا کام ہے فی الحال تو یہ ہی سب کچھ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے کہ اس کا باضابطہ اعلان ہونا ہے اس کے بعد ہی ساری صورتحال واضح ہو جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں