اب کی باری میاں صاحب کی باری 117

میچ فکسر اور عمران خان

میڈیا کی آزادی سے پاکستان میں ان معاملات پر بھی کھل کر گفتگو شروع ہو گئی۔ جن پر ہمیشہ سے پردہ ڈال کر رکھا گیا اور جوں جوں پردے اٹھتے جارہے ہیں تو پچھلے دور کے بہت سے سر چھپے ہوئے معاملات بھی نمایاں طور پر سامنے آتے رہے ہیں۔ پچھلے دنوں کرکٹ میں چھپے ہوئے رازوں سے بھی پردے اٹھنے شروع ہوئے تو اس میں ملوث کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ میچ فکسنگ کروانے والے خفیہ گروہوں کا ذکر شروع ہوا۔ اس طرح کرکٹ کی میچ فکسروں کی طرف انگلیاں اٹھنا شروع ہوئی تو نگاہ قومی میچ فکسر کی طرف اٹھتی چلی گئیں۔ بات نکلی تو سیاست کے کھلاڑیوں سے ہوتی ہوئی ان سیاسی میچ فکسروں تک چلی گئی۔ اس طرح کرکٹ کے میچ فکسر کے خلاف آگاہی حاصل ہونے کے ساتھ قومی اور سیاسی میچ فکسروں تک پہنچ گئی اور تمام آدمی کو بھی اس طرح بات آسانی سے سمجھ میں آنی شروع ہو گئی۔ میچ فکسر دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک قومی میچ فکسر دوسرے غیر سیاسی میچ فکسر کھلاڑیوں کو اپنے ساتھ ملا کر میچ کا فیصلہ اپنی مرضی کا کروا کر اس میں سٹہ بازی سے کروڑوں اربوں ڈالر کماتے رہے اور اس میں قومی کرکٹ ٹیم کے بڑی بڑے نامور کھلاڑی جن کو قومی ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہے وہ بھی شسامل ہو کر کرکٹ کے ہی ان داتا بن گئے بلکہ وہ قومی کھلاڑی ان داتاﺅں میں بھی شمار ہوئے۔ سیاسی مخالفین ایک دوسرے پر میچ فکسنگ کا الزام لگاتے ہیں۔ پاکستان کی ابتدائی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ سیاسی میچ فکسنگ کا آغاز بھی ابتاءسے ہی ہوا، کبھی میچ فکسر خود برسر اقتدار آکر میچ فکس کردیتے اور کبھی کبھی سیاسی کھلاڑیوں کو بھی اس میں شامل کر لیتے۔ شروع میں چند اخبار اور سرکاری ریڈیو ہی میڈیا میں شمار ہوتے تھے ان کو با آسانی خاموش کروا دیا جاتا تھا۔ کہتے ہیں سیاسی میچ فکسنگ کا آغاز تو لیاقت علی خان کی شہادت سے ہی شروع ہو گیا تھا جس میں میچ فکسر پس پردہ ہی رہ کر سیاسی کھلاڑیوں کو استعمال کرتے رہے اس طرح سیاسی ٹیمیں بھی ان کی مرضی سے تبدیل ہوتی رہی اور ملک کے وزیر اعظم بھی۔
جب یہ تبدیلیاں اتنی تیزی سے وقوع پذیر ہوتی چلی گئیں تو پڑوسی ملک کے وزیر اعظم کو کہنا پڑا کہ میں اتنی تیزی سے دھوتیاں نہیں تبدیل کرتا جتنی تیزی سے پڑوس میں وزیر اعظم تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ طعنہ ان فکسر کو بہت برا محسوس ہوا تو انہوں نے وزیر اعظم کا عہدہ ہی ختم کرکے ملک میں صدارتی نظام رائج کردیا۔ یہ صدارتی نظام ملک کے ایک بڑے حصے کو کھا گیا تو میچ فکسروں نے اپنے ساتھ پھر دوبارہ وزیر اعظم کو شامل کردیا۔ اس وزیر اعظم کو بھی مزید پانچ سال برداشت کرنے کے بعد خود کھا گئے۔
1971ءمیں ایک مشرقی حصہ کو کھانے کے بعد جو کھانے پینے کا آغاز ہوا تو میچ فکسر نے اقتدار میں کبھی کبھی سیاسی کھلاڑیوں کو شامل کیا اور کبھی خود ہی میچ کھلتے رہے اس میں وہ فکسنگ کرکے ملک کے اندر میچ تو جیت جاتے تھے مگر بین الاقوامی طور پر ہارتے چلے جاتے۔ کبھی ملک کے مشرقی بازو کو ہارتے تو کبھی بچے مغربی حصہ میں میچ ہارتے ہارتے بڑی مشکل سے میچ ڈرا کروا پاتے۔ 19071ءکی جنگ کا میچ ہار کر، کبھی 1965ءاور 1999ءکی جنگیں بڑی مشکل سے بچا کر میچ ڈرا کروا دیا کرتے تھے۔ اس ہی طرح جب میڈیا کو آزادی ملی تو پچھلے میچوں کی ہار جیت کا بھی ذکر چلنا شروع ہوا۔ جوں جوں میڈیا آزاد ہوتا رہا، میچ فکسنگ کے کھلاڑیوں کا نقاب بھی الٹنا شروع ہو گیا۔ جن سیاسی کھلاڑیوں نے میچ فکسنگ کرنے سے انکار کیا ان کو راستے سے ہٹا دیا گیا۔ پہلے ایوب خان نے ایبڈو کے قانون کے تحت بہت سے سیاسی کھلاڑیوں کو اپنے ساتھ ملایا اور بہت سے سیاسی کھلاڑیوں پر پابندی لگائی۔ پھر جب ذوالفقار علی بھٹو نے میچ فکسنگ سے انکار کیا تو ان کو راستے سے ہٹا دیا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے وسیم اکرم کی طرح سمجھ داری کا ثبوت دیا تو میچ فکسر سے سمجھوتہ کرکے اقتدار حاصل کیا پھر نواز شریف نے بھی میچ فکسر کی ٹیم میں شامل ہو کر میچ فکسنگ میں اپنا حصہ وصول کرنا شروع کردیا۔
میڈیا کے آزاد ہونے کے بعد میچ فکسنگ کی کہانیاں سامنے آنا شروع ہوئی۔ بے نظیر کے خلاف آئی جے آئی کے قیام میں جو میچ فکسنگ ہوئی اس کی گونج میڈیا میں جب شروع ہوئی اس میں شریک تمام کھلاڑی ننگے ہو کر سامنے آتے چلے گئے۔ مرزا اسلم بیگ، جنرل درانی اور جنرل حمید گل کے ساتھ نواز شریف اور ان کے سیاسی ساتھیوں کا نام اس میچ فکسنگ میں سامنے آیا پھر اسی طرح 1999ءمیں نواز شریف نے میچ فکسنگ کرکے ایک ڈیل کی اور فوجی حکمرانوں سے جان بچا کر جدہ کی راہ لی۔ بعد میں بے نظیر نے طویل خودساختہ جلاوطنی اختیار کرکے جنرل مشرف سے این آر او کی ڈیل کرکے میچ فکسنگ کی اور اس خمیازہ بھی اپنی جان دے کر بھگتنا پڑا اس ہی طرح نواز شریف نے بھی بہت سے میچ فکسنگ میں اپنا حصہ وصول کیا بعد میں جب ان کو اندازہ ہوا تو انہوں نے بھی نظریاتی ہو کر خلائی مخلوق یعنی میچ فکسر کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا اور اس کی پاداش بہت سے زخم کھا کر لندن کے ہسپتال کے ایک بستر پر جا کر لیٹ گئے۔ لیکن بہت دیر ہو چکی تھی اب وہ بیمار بھی ہو چکے تھے، بوڑھے بھی جب ان کی جگہ پر اس عمران خان نے میچ فکسر کے ساتھ شامل ہو کر اقتدار حاصل کیا دوسروں کو اس طرح اقتدار سے محروم رکھا جس طرح 1996ءاور 1999ءاور 2003ءکے ورلڈکپ کو دوسرے کپتانوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکا۔ عمران خان کی مدد کرکٹ کے ماہر کھلاڑیوں نے بھرپور انداز میں کی جن میں وسیم اکرم، وقار یونس، مشتاق، انضمام الحق، سلیم ملک، عطاءالرحمن نے کی تاکہ عمران خان کے ورلڈکپ جیتنے کا اعزاز منفرد رہے یوں انہوں نے جان بوجھ کر 1996ئ، 1999ئ، 2003ءکے ورلڈکپ ہارے۔ یوں بھی 1992ءکے ورلڈکپ جیتنے میں سب سے زیادہ مددگار ان کا کرکٹ کا جینئس جاوید میانداد رہا تھا۔ مگر سیاسی کھیل میں ان کے پاس جاوید میانداد کے علاوہ دیگر ماہر کھلاڑیوں کی ٹیم نہیں تھی۔ جو اس طرح کے سیاسی میچوں میں ان کو کامیاب کروا سکے یہ ایک حقیقت ہے کہ سلیکٹر کی مکمل کوشش یہ ہی رہی ہے کہ وہ ان کو کسی بھی طرح میچ فکسنگ کرکے کامیابی دلوا سکیں مگر اب تک وہ ناکام ثابت رہے۔ میچ فکسر گزشتہ بڑی عرصہ تک جن کھلاڑیوں کو میچ فکسنگ بعد کامیاب کرتے چلے آئے وہ عمران خان کے مقابلے میں بہتر سیاسی کھلاڑی ثابت ہوئے اس کے علاوہ ان کو سیاسی وکٹ بھی اتنی خراب حالت میں نہیں ملی جتنی کے عمران خان کو ملی۔ واضح رہے کہ عمران خان کے اس دور میں میڈیا ایک حد تک میچ فکسر کے قابو سے باہر ہو چکا ہے جس پر ان کا کنٹرول ایک زمانے میں بھرپور انداز میں رہا۔ ماضی میں میچ فکسر ساتھ میڈیا کے علاوہ عدلیہ نے بھی بھرپور انداز میں دیتے رہی اور ساتھ ساتھ بیوروکریسی کی خدمات وقت ضرورت حاصل ہوتی رہی ہیں۔ کیونکہ ابتدائی دور سے میچ فکسر کو عدلیہ اور میڈیا کی بھرپور مدد کے باعث سیاسی میچ فکسنگ میں کامیابیاں حاصل ہوتی رہیں اس لئے اگر کہیں سیاسی کھلاڑی اناڑی بھی ثابت ہوئے تو انہوں نے فوراً ان کو تبدیل کرکے دوسرے کھلاڑی کو آزمایا یا کہیں پر خود ہی سیاسی میدان میں کود پڑے۔
پرانے سیاسی کھلاڑی ایک عرصے تک میچ فکسر کے استعمال میں آتے رہے لیکن جب وہ اپنے کام میں ماہر ہوتے گئے تو انہوں نے ان میچ فکسر کے حکم کو نہ ماننے کی بھی روایت قائم کرنا شروع کردی۔ روایات کی ابتداءذوالفقار علی بھٹو سے ہوئی جنہوں نے ایوب خان کے ساتھ شامل ہو کر ان کے شریک کار بن کر محترمہ فاطمہ جناح کو ہرانے میں بڑا کردار ادا کیا پھر بعد میں یحییٰ خان کے ساتھ مل کر مجیب الرحمن کو اقتدار میں آنے سے روکا۔ انہوں نے اپنے ان اعمال کی تلافی اپنی جان کی قیمت چکا کر ادا کیا جب ضیاءالحق کے ساتھ مل کر میچ فکسنگ سے انکار کیا۔ اس ہی طرح نواز شریف نے ضیاءالحق کے ساتھ مل کر میچ فکسنگ کی اور اقتدار میں لائے گئے پھر اس جرم کی پاداش میں پہلے مشرف کے سامنے کلمہ حق بلند کیا پھر موجودہ میچ فکسر کو بھی چیلنج کردیا۔ اس ہی طرح بے نظیر نے پہلے ضیاءکی باقیات کے ساتھ میچ فکسنگ کی پھر بعد میں مشرف سے این آر او کرکے سیاسی میدان میں واپسی کی اور بعد میں ان میچ فکسر سے مقابلہ میں اپنی جان گنوا بیٹھی۔ اس طرح روایات یہ ہی رہی جن کھلاڑیوں کو میچ فکسر سیاسی میدان میں لاتے رہے وہ کھلاڑی بعد میں ان کے مقابل آکر خود ان کو چیلنج کرتے رہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کتنے عرصہ تک سیاسی میچ فکسر کے زیر اثر رہیں گے یہ ان کی صلاحیتوں پر منحصر ہے کہ کب وہ سیاسی شعور کا مظاہرہ کریں اور ان سیاسی میچ فکسروں کو چیلنج کرسکیں کیونکہ سیاست میں اپنے سیاسی اناڑی پن کے باوجود ذاتی طور پر کرپٹ نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں