Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 47

نمبر آف گیم

دو ہفتے بعد ہونے والا سینیٹ کا یہ الیکشن ہر لحاظ سے پاکستان کا اہم ترین الیکشن بن گیا ہے اسے قانون سازی کے ہتھیار کا نام دیا جائے تو غلط نہ ہو گا اس لئے کہ یہ الیکشن اور اس کے نتائج بعض انتہائی اہم قانون سازیوں کے گرد گھوم رہے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ اور نئے منتخب ہونے والے سینیٹرز دو گروپوں میں تقسیم ہوتے ہوئے صاف طور پر نظر آرہے ہیں، ایک گروپ ان نئے متوقع قانون سازیوں کے حق میں اور دوسرا اس کی مخالفت میں نظر آرہا ہے اب یہاں سارے کا سارا جھگڑا ہی نمبر آف گیم کا بن گیا ہے کہ کس گروپ کے پاس نمبر زیادہ ہیں جس کسی کے پاس بھی نمبر زیادہ ہوں گے وہی نہ صرف فاتح کہلائے گا بلکہ وہی ملک کے سیاسی دھارے کی تبدیلی کا باعث بھی بنے گا، یہ ہی وجہ ہے کہ ہر کسی نے سینیٹ کے اس الیکشن کے نتائج کو اپنے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیا ہے اب تک کی صورتحال سے تو یہ ہی نظر آرہا ہے کہ اس الیکشن میں عمران خان اور ان کے اتحادی ہی کامیاب ہوں گے جب کہ اپوزیشن کے بہت سارے ارکان خاموشی کے ساتھ عمران خان اور ان کے اتحادیوں کو اپنا ووٹ دیں گے جس کے بعد حسب روایت اپوزیشن خاص طور پر مولانا بہت زیادہ شور مچائیں گے مگر ان کا شور مچانا بالکل اسی طرح سے ہو گا کہ جب چڑیا چگ گئیں کھیت تو اب پچھتاوے سے کیا فائدہ۔۔۔
یہ صورتحال اس الیکشن کی نظر آرہی ہے، ملک بھر کے تجزیہ نگاروں کے اندازے بھی کچھ یہ ہی بتلا رہے ہیں کہ ایسا ہی ہونے جا رہا ہے جب کہ حکومت اور اس کے پس پردہ کام کرنے والی قوتوں کی پوری کوشش ہے کہ یہ الیکشن شفاف ہو مگر نتائج اس طرح سے ہو جو ملک کی سلامتی کے خلاف نہ ہو۔۔۔
اب یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ایک طرف انتخابات کو شفاف رکھنے کی بھی بات ہو رہی ہے اور دوسری جانب غیر متوقع نتائج کے لئے بھی تیار نظر نہیں آرہے، یہ انکشاف بعض باخبر تجزیہ کاروں نے کیا ہے لیکن یہ بات تو روز روشن کی طرح سے عیاں ہے کہ 2021ءکا سال تو بعض اہم ترین قانون سازیوں کا سال ہے جس میں 18 ویں ترمیم کے خاتمے کی قانون سازی خاص طور سے شامل ہے اسی وجہ سے سینیٹ کے یہ الیکشن بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں اور سینیٹ کے اس الیکشن پر اب بعض غیر ملکی عوامل بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ جو ایک طرح سے اپوزیشن پارٹیوں کو سپورٹ کررہے ہیں اور ان کے اراکین کو ہر طرح سے قابو کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کررہے ہیں کہ وہ انا ضمیر یعنی اپنا ووٹ لالچ یا دبدبے اور خوف کی وجہ سے حکومت کی جھولی میں نہ ڈالے اس وجہ سے ایک عجیب طرح کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، ہر کوئی سینیٹ کے اس الیکشن کا معرکہ سر کرنے کے لئے اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے جب کہ بعض مبصرین کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اس الیکشن اور اس کے نتیجے میں بننے والی اس سینیٹ کے ذریعے کچھ اس طرح کی قانون سازی کروائی جائے گی جو سانپ سے زہر نکال کر اسے ایک نمائشی سانپ بنانے کا باعث بن جائے گی یعنی اس کے بعد کسی بھی سیاسی پارٹی کی حکومت بنے گی تو ان کے پاس اتنی عددی اکثریت دونوں ایوانوں میں سے کسی ایک ایوان میں نہیں ہو گی کہ وہ قانون سازی کرنے کے قابل ہو سکے اس طرح سے سینیٹ کے موجودہ الیکشن کے ذریعے بننے والی سینیٹ سے جو تاریخی اور انقلابی قانون سازی کرلی جائے گی اس کے بعد اس میں کسی بھی طرح کی ردبدل کرنے کی جرات و ہمت کسی بھی حکومت میں نہیں ہو گی۔ جو جمہوری روایات کے تو عین مطابق ہو گی مگر زمینی حقائق سے مطابقت نہ رکھنے کا باعث ہو گی یعنی اراکین اسمبلی اور جمہوریت کے دعویدار بہت کچھ کرنے کے خواہش مند ہوں گے مگر خود جمہوری طور طریقے بھی ان کی راہوں اور امیدوں کے سامنے دیوار بننے لگے گی اس لئے تو کہتا ہوں کہ سینیٹ کے یہ موجودہ الیکشن بہت ہی زیادہ اہم ہیں اس الیکشن اور اس کے نتائج پر ہی ایک مستحکم پاکستان کا دارومدار ہے کہ کس طرح سے جمہوریت کے ذریعہ وفاق کو کمزور کرکے صوبوں کو طاقتور بنا کر وفاق کے بنیادوں کو ہلانے کی کوشش کی گئی جس کسی نے بھی اٹھارویں ترمیم کا مسودہ جہاں کہیں بھی تیار کیا اس نے قائد اعظم کے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ پاکستان کو اتنا نقصان ان تین جنگوں سے نہیں پہنچا جو پاکستان پر دشمن ملک نے مسلط کی تھی جتنا نقصان اس اٹھارویں ترمیم سے پاکستان کو پہنچا اس ترمیم کا دفاع کرنے والے یا تو بے وقوف ہیں یا پھر اپنے مفادات نے انہیں اندھا بنا دیا ہے غرض اس الیکشن کے نتیجے میں بننے والی سینیٹ سے ہونے والی قانون سازیاں نہ صرف تاریخی بلکہ آخری قانون سازی بھی ہو گی اور اس کے بعد قانون سازی کا کوئی موقع ہی کسی حکومت کو کوشش کے باوجود نہ مل سکے گا۔
حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی ساری توجہ اور اپنی ساری انرجی سینیٹ کے الیکشن کو شفاف بنانے اور اپنے مطلوبہ نتائج کے حصول پر صرف کریں اس لئے کہ اس الیکشن کی کامیابی سے حکومت کے استحکام سے زیادہ خود ریاست کا استحکام جڑا ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں