49

نوجوانوں میں اکیلے پن کا احساس ہماری سوچ سے بھی زیادہ ہے، تحقیق

لندن: دنیا بھر کے 237 ممالک اور علاقہ جات میں 46 ہزار سے زیادہ افراد پر کیے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ اکیلے پن کا احساس نوجوان نسل کو ہمارے سابقہ خیالات کے مقابلے میں کہیں زیادہ اور شدید طور پر متاثر کر رہا ہے۔ یونیورسٹی آف ایکسیٹر، برطانیہ کے نفسیاتی ماہرین کی قیادت میں کئے گئے اس سروے میں حصہ لینے والے افراد کی عمریں 16 سال سے 99 سال کے درمیان تھیں۔
واضح رہے کہ چند سال پہلے بالکل یہی سروے صرف برطانوی شہریوں پر کیا گیا تھا جس میں کم و بیش یہی نتائج حاصل ہوئے تھے۔ تاہم نئے مطالعے میں دنیا بھر سے لوگوں نے حصہ لیا۔ اس طرح یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا عالمی سروے بھی ہے۔
سروے کے نتائج سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ دنیا بھر کی نوجوان نسل ہماری سابقہ معلومات کے مقابلے میں کہیں زیادہ احساسِ تنہائی کا شکار ہے، وہیں یہ بھی پتا چلا کہ جن ممالک میں نئی نسل جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اپنے والدین اور گھر بار سے الگ ہو کر آزاد زندگی گزارنے لگتی ہے، ان ملکوں کے نوجوانوں میں احساسِ تنہائی بھی زیادہ دیکھا گیا۔
توجہ طلب بات یہ ہے کہ جن معاشروں میں مل ج±ل کر رہنے کا رجحان زیادہ ہے، وہاں کے بزرگوں میں بھی تنہائی کا احساس خاصا کم مشاہدے میں آیا۔ ایک اور حیرت انگیز انکشاف یہ ہوا کہ نوجوان لڑکیوں کی نسبت نوجوان لڑکوں میں تنہائی کا احساس زیادہ ہوتا ہے، البتہ وہ آسانی سے اس کا اقرار نہیں کرتے۔
نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے احساسِ تنہائی کی ایک اور بڑی وجہ ”سوشل میڈیا“ کو بھی قرار دیا گیا ہے اور مشورہ دیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کو سماجی تعلقات میں اضافی چیز سمجھا جائے نہ کہ سماجی تعلقات کا متبادل۔
یاد رہے کہ انسانی جسم اور دماغ پر احساسِ تنہائی کے مختلف اثرات پڑتے ہیں جو سماج دشمن اور جرائم پیشہ رویّوں سے لے کر منشیات کے استعمال، دل کی بیماریوں، فالج، دماغی امراض، یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت میں کمی، مستقل اور شدید اعصابی تناو¿، قوتِ فیصلہ میں کمی، ڈپریشن اور خودکشی تک محیط ہوسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں