عدالتیں یا ڈاک خانے؟ 89

نہ جھکا، نہ ڈرا، نہ بکا، کون؟

جس طرح سامری جادوگر کی جان کسی طوطے مینا یا کبوتر میں ہوا کرتی تھی، اس لئے سامری جادوگر کو مارنے کے لئے اس پرندے کو مارنا ضروری ہوا کرتا تھا، بالکل اسی طرح سے پاکستانی حکمرانوں نے اپنی دو سالہ جدوجہد کے بعد کم از کم یہ تو معلوم کرلیا کہ دور حاضر کے سلطان صلاح الدین ایوبی یا پھر ٹیپو سلطان، عمران خان کی جان بشریٰ بی بی میں ہے۔ اس لئے وہ اب عمران خان جیسے فولادی ناقابل شکست کردار کو ڈرانے یا پھر جھکانے کے لئے ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو عملاً یا پھر دکھاوے کی حد تک نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ وہ کسی طرح سے عمران خان سے اپنے مرضی کا ایک این آر او حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے یعنی وہ اس جنگ میں اپنی شکست تسلیم کر چکے ہیں لیکن دنیا کے سامنے اس کا اعتراف کرنے کی ان میں اخلاقی طور پر نہ تو ہمت ہے اور نہ ہی جرات ہے اب وہ انگریزوں کی طرح سے عیاری، چالاکی اور ڈپلومیسی یا پھر منافقت سے یہ جنگ جیتنا چاہتے ہیں جسے برصغیر پر قبضہ کرنے کے اس محاذ پر انگریزوں نے میر جعفر اور میر صادق کی خدمات غداری والی حاصل کی تھی اور اس طرح سے اپنی ہاری ہوئی جنگ کو جیت میں تبدیل کردیا تھا وہی کھیل اس وقت پاکستانی حکمران کھیل رہے ہیں۔ بشریٰ بی بی کے ذریعے اگر وہ یہ جنگ جیت بھی جاتے ہیں تو اس ہار میں بھی عمران خان ہی کی جیت ہوگی آج پوری دنیا کھلی آنکھوں سے پاکستان میں کھیلے جانے والے اس تماشے کو دیکھ رہی ہے کہ پوری کی پوری حکومتی مشینری ہی ایک سچ کو یا پھر حب الوطنی کو کچلنے میں لگی ہوئی ہے۔ پوری پاکستانی قوم نے بالخصوص اور دنیا والوں نے بالعموم یہ دیکھ لیا کہ پاکستان کے اصل وارث کون ہیں۔۔۔؟ کون اس ملک سے جنون کی حد تک محبت کرتے ہیں۔۔۔؟ کون اس ملک کے خیرخواہ ہیں، ساری کی ساری چیزیں بلیک اینڈ وہائٹ ہو کر سامنے آچکی ہیں، وہ کام جو خفیہ ادارے اربوں روپے خرچ کرکے کرتے ہیں وہی کام موجودہ صورحال میں خود حکومتی مشینری نے اپنی جہالت سے مفت میں کرکے رکھ دیا ہے۔ ملک کے ہر شعبے کو دو ڈویژنوں میں تبدیل کردیا ہے، ایک ڈویژن ملک کے مفاد پر اپنے مفاد کو ترجیح دینے والوں کا ہے اور دوسرا ملکی مفاد کو اپنے مفاد پر ترجیح دینے والوں کا ہے جس کا سب سے بڑیاور زندہ مثال عمران خان کا اس وقت جیل میں قید ہونا ہے اگر وہ آج نواز شریف کی طرح سے اپنے مفاد کو ملک اور قوم کے مفاد پر ترجیح دینا شروع کردیں تو انہیں بھی وہی ساری کی ساری سہولتیں دینے کا سلسلہ شروع کردیا جائے گا مگر دنیا نے دیکھ لیا کہ جیل میں قید اس دور حاضر کے سلطان صلاح الدین ایوبی اور ٹیپو سلطان نے پوری حکومتی مشینری کو اپنے ارادوں اور ثابت قدمی کے آگے سجدہ ریز ہونے یا پھر جھکانے پر مجبور کردیا۔ ظلم کرنے والے زیادتی کرنے والے چنگیز خان اور ہلاکو کے علاوہ خود فرعون سے بھی مظالم میں آگے نکل گئے مگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کی بجائے خود ہی بے نقاب ہوتے چلے گئے اور پوری قوم کے سامنے ان کا مکروہ اور گنا آلود چہرہ آگیا کہ وہ کس قسم کے لوگ ہیں اس وقت حکومتی سطح پر پاکستان میں اچھے اور برے مجرم اور بے گناہوں کے علاوہ سب سے بڑھ کر ملک دشمنوں اور حب الوطنوں کے فرق کو مٹا کر رکھ دیا ہے۔ کل تک جو ملک کے خلاف نعرے لگا رہے تھے، ملک دشمنوں کی گود میں بیٹھ کر ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کررہے تھے، وہی آج ملک پر حکمرانی کرنے والوں میں شامل ہیں۔
یہ ہے سلطنت خداداد پاکستان کی بدنصیبی۔۔۔ اب اس طرح کے ملک کو ”ری پبلک بنانا“ نہ کہا جائے تو پھر کیا کہا جائے، جہاں نہ آزادی ہے اور نہ ہی خود مختاری، کہنے کو وہ ایک آزاد ملک ہے اور ہر سال 14 اگست کو آزادی کا دن بھی منایا جاتا ہے مگر عملی طور پر اس کے برعکس ہی اسی ملک میں کیا جاتا رہا ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت عمران خان کا جیل میں ہونا ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خاننے قوم اور ملک کے سامنے پاکستان کی اصل صورتحال اور حقیقت بے نقاب کرلی ہے۔ اس عظیم کارنامے کے لئے قوم کو ان کا احسان مند ہونا چاہئے کہ انہوں نے اپنی قربانیوں سے قوم کو خواب غفلت سے بیدار کیا کہ تم لوگ آزاد نہیں بلکہ مسلسل غلام ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں