وزیر اعظم کا فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی 30

وزیر اعظم کا فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی

اسلام آباد (پاکستان ٹائمز) وزیر اعظم عمران خان نے غزہ میں فلسطینیوں پر رمضان المبارک کی مقدس ستائیسویں شب کو ڈھائے جانے ظلم پر آواز اُٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس اقدام کی بھرپور انداز میں مذمت کرتے ہیں مگر اکیلا پاکستان کچھ نہیں کر سکتا تمام مسلم ممالک کو متحد ہو کر اس مسئلہ پر آواز اٹھانا ہوگی۔ وزیر اعظم نے ہیش ٹیگ بھی شیئر کیا
“We stand with Gaza & we stand with Palastine”
وزیر اعظم نے نوم چوسکی کی پوسٹ بھی شیئر کی جس میں انہوں نے فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا گیا تھا ”تم میرے پانی کے چشمے خشک کر دو، میرے وطن کو بارود میں نہلا دو، ہمیں فاقوں کو مجبور کردو، ہماری زندگی کو مسلسل توہین آمیز بنا دو، میرے زیتون کے باغ جلا ڈالو، میرے گھر کو مسمار کر دو، میرا رزق مجھ سے چھین لو، میری زمین پر قبضہ کرلو، میرے باپ کو جیل میں گلا دو اور میری ماں کو سسکا سسکا کا مار دو مگر پھر بھی مجھے دوش دو کہ میں تمہیں پتھر کیوں مارتا ہوں؟“۔ گزشتہ 50 سالوں سے اسرائیلیوں کے ظلم اور بربریت دیکھ کر بھی مسلم ممالک کا خاموشی اختیار کئے رہنا صریحاً ظلم ہے۔ قرآن مجید میں پروردگار کا فرمان ہے کہ ”جب تم کسی مظلوم پر ظلم ہوتا دیکھو تو جہاد کے لئے نکل کھڑے ہو“ مگر آج کا مسلمان صرف بیان بازی تک محدود ہے اور یوں دنیا بھر میں نہ صرف مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں بلکہ نبی محتشم کی شان میں بھی آئے دن گستاخی کرکے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا جارہا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ تمام دنیا کے مسلمان اپنے اختلافات بھلا کر تمام مظالم کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہو جائیں اور کشمیر، برما، فلسطین اور دنیا میں جہاں جہاں مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، عملی اقدام کریں۔ وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ کیا ہے اور جب یہ مظالم اسرائیل میں شروع ہوئے تو انہیں سعودی فرمانروا کے ساتھ مل کر اس کی شدید مذمت کرنا چاہئے تھی مگر افسوس کہ سعودی عرب کی جانب سے بھی خاموشی اختیار کرنا افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں