زندگی، پانی کا بلبلہ 21

”وقت کی پکار“

گزشتہ کئی دھائیوں سے فلسطینیوں کی سرزمین غزہ میں اسرائیلیوں کے قبضہ، دھونس، دھاندلی اور ظلم و جبر کی خبریں اور ویڈیوز ہماری نظروں سے گزرتی ہیں مگر پوری دنیا خاموش تماشائی بنی دیکھتی رہتی ہے۔ دوھرے معیار کا یہ عالم ہے کہ اگر یورپی ممالک، امریکہ یا کینیڈا میں کوئی ایک کیس بھی سامنے آجائے تو پورا کا پورا ملک سراپا احتجاج بن جاتا ہے مگر جہاں اسرائیل کا معاملہ آتا ہے وہاں سب دَم سادھ لیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ وہی قوم ہے جس پر اللہ تبارک و تعالی نے اپنے فضل کی بارش بھی سب سے زیادہ کی مگر ان کی مستقل نافرمانیوں کے نتیجہ میں قیامت تک کے لئے ان پر لعنت بھیج دی اور قرآن حکیم میں واضح طور پر لکھ دیا کہ یہودی اور نصرانی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے اور اپنے پیارے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی وحی کے ذریعہ واضح کردیا کہ ان سے ہوشیار رہیں اور انہیں منافقین نے تعبیر کیا۔ ہمارے نبی نے آج کے حالات کی پیش گوئی 14 سو سال قبل کردی تھی کہ کس طرح مسلمانوں کی تعداد سمندر کے جھاگ کی طرح ہو گی اور وہ تعداد میں دنیا بھر میں زیادہ ہوں گے مگر ان میں دو چیزیں پیدا ہو جائیں گی ”ایک موت کا خوف“ اور دوسری ”دنیا کی محبت“۔
غور کریں تو ہم سب آج اُسی دور سے گزر رہے ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمان اگر آج متحد ہو جائیں تو اور اپنے وسائل یکجا کر لیں تو کسی کی مجال نہیں کہ خود کو سپرپاور کہہ سکے۔ دراصل مسلمان یہ ثابت کرنے میں ناکام ہو چکا ہے کہ کائنات کی واحد سپرپاور ذات باری تعالیٰ ہے۔ یوں ہم سب مشرکوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ کلمہ گو ہونے کے باوجود ہم اس بات سے مجبور ہیں کہ دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے ظم و بربریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور ایسا سبق سکھائیں کہ ان ظالم اور جابروں کی آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں۔ یاد رہے کہ ہر قوم میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں خواہ وہ عیسائی ہوں، یہودی ہوں، ہندو ہوں، بدھ مت کے ماننے والے ہوں یا پھر مسلمان، سب میں منافقین کی بڑی تعداد موجود ہے۔ کسی بھی قوم میں بُرے افراد کی تعداد زیادہ نہیں ہوتی مگر طاقت کے بل بُوتے پر وہ لوگوں پر مظالم ڈھاتے ہیں اگر ایمان مضبوط ہو تو اللہ کی مدد شامل حال ہوتی ہے اور 313 افراد ہزاروں کی تعداد میں آنے والی فوج کے سامنے سینا سپر ہوجاتے ہیں۔ وہیں رحمت خداوندی کی مدد بھی پہنچ جاتی ہے اور پھر وہ معجزہ رونما ہوتا ہے جو ہم نے دیکھا تو نہیں بلکہ پڑھا ضرور ہے مگر اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہمیں ایسا عملی مسلمان بننا پڑے گا کہ جیسا ہمارے نبی محتشم نے ہمیں بتایا اور قرآن اور سنت کی روشنی میں زندگی گزارنے کے طریقہ کار سے آگاہ کیا۔ حقیقت یہی ہے کہ آج ہمیں موت کا خوف ہے کیونکہ ہمارے اندر دولت کی محبت ایمان کی دولت سے زیادہ ہے۔ جب دولت ہوتی ہے تو موت کا خوف بھی لازمی امر ہے۔ یوں ہم صرف اسلحہ جمع کررہے ہیں۔ خود کو ایٹمی پاور بھی بنا چکے ہیں مگر ایمان کی قوت سے محروم ہیں جس کے سبب ہمارے پڑوسی کشمیر میں مظالم کے خلاف جہاد کی ہماری ہمت نہیں کیونکہ ہم لڑنا بھول گئے ہیں اور کاروباری ہو گئے ہیں۔ ہم مصلحتوں کا شکار ایسے مسلمان ہیں جو صرف بیانات کی حد تک رہ گئے ہیں۔ ہمارا عمل کمزور ہے اور ہمارا دشمن یہ جانتا ہے۔ وہ ہماری ضرورت اور دولت سے محبت کو استعمال کرتے ہوئے ہمیں اپنے اشاروں پر چلا رہا ہے مگر اب شاید وقت قریب ہے کہ جس کی بابت ہمیں تنبیہ کی گئی تھی اور رب کائنات کے صبر کا پیمانہ شاید چھلکنے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا کورونا وائرس کی زد میں ہے۔ اب یہ خدائی وبا ہے یا بائیو وار۔ دونوں صورتوں میں دنیا بھر کے انسان تکلیف میں مبتلا ہیں اور اللہ رب العزت عضب ناک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی رحمت آج ہم سے دور ہے اور ہم موت کے خوف میں مبتلا ہیں اور دولت کی ہوس کا شکار ہیں۔ آج ہمیں جاگ جانا چاہئے کہ وقت کی پکار یہی ہے کہ وقت قریب ہے کہ جب ہمیں اللہ کو جواب دہ ہونا ہے۔ کیا ہم عملی طور پر ایسے انسان ہیں کہ اپنے پروردگار کا سامنا کرسکیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں