وہ بھی کیا دن تھے۔۔۔ ٭....تحریر: سہیل رعنا....٭ 20

وہ بھی کیا دن تھے۔۔۔

٭….تحریر: سہیل رعنا….٭
وہ بھی کیا دن تھے جب ایوانِ صدر میں، 1988ءمیں، ہم یوسف خان صاحب (دلیپ کمار صاحب سے آمنے سامنے، بل مشافہ ملے۔ ہمارے درمیان دو خواتین۔۔۔ سائرہ بانو اور افشاں رعنا (میری زوجہ)۔۔۔ ہم چاروں کے ساتھ، معزز میزبان صدرِ محترم حضرت ضیاءالحق صاحب۔
ہماری اس مخصوص تصویر کی ایک دلچسپ کہانی ہے
صدرِ محترم نے دلیپ کمار، سائرہ بانو سے ملاقات کی خاطر، فلم، ٹی وی، ریڈیو اور کھیلوں سے متعلق پاکستان کی مشہور و معروف شخصیات کو بھی دعوت پر مدعو کیا جو سب کے سب ایک بڑے ہال میں منتظر تھے۔
جیسے ہی صدرِ محترم معزز مہمانانِ خصوصی۔۔۔ دلیپ کمار صاحب اور سائرہ بانو صاحبہ، ایک اعلان کے ساتھ ہال میں داخل ہوئے۔ تالیوں سے پُرجوش استقبال کیا گیا۔ یہ دیکھ کر بڑی مایوسی ہوئی کیونکہ تقریباً سارے ہی خواتین و حضرات معزز مہمانانِ خصوصی کے ساتھ تصویریں کھنچوانے اور آٹو گراف لینے کے لئے ایک عجیب بے صبری اور نظم و ضبط توڑنے کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اُن دونوں پر ٹوٹ پڑے۔ ایک شور و غل برپا ہو گیا۔
صدر محترم یہ ہنگامہ، اپنے ملٹری سیکریٹری کے ساتھ ایک کونے میں اکیلے کھڑے دیکھتے رہے۔ یہ منظر عجیب تھا۔ یہ دیکھ کر میں اور میری اہلیہ افشاں رعنا، صدرِ محترم کو اکیلا دیکھ کر، اُن کے پاس چلے گئے۔ پروٹوکول کا تقاضہ بھی یہی تھا۔ صدرِ محترم نے مجھ سے دریافت کیا ”رعنا صاحب آپ دلیپ صاحب کے ساتھ تصویر کھنچوانے نہیں گئے؟“ میں نے برجستہ کہا ”حضور! جس تصویر میں صاحبِ خانہ (میزبان) نہ ہو، بھلا اس تصویر کی اہمیت اور حقیقت کیا ہے۔“ صدرِ محترم مسکرائے اور کچھ سیکنڈوں کے بعد، سرگوشی کے انداز میں اپنے ملٹری سیکریٹری کے ساتھ خاموشی سے مخاطب ہوئے۔ تھوڑے وقفے کے بعد جب جھمگٹا کم ہوا اور کھانے کے لئے اسپیکر پر سب مہمانوں کو ڈائننگ ہال کی طرف جانے کی ہدایت کا اعلان ہوا تو پریس فوٹوگرافر نے مجھے اور اہلیہ کو اشارے سے رکنے کو کہا۔
صدر محترم نے مناسب انداز میں میرا دلیپ کمار صاحب سے تعارف کرایا۔ انہوں نے دلیپ صاحب سے کہا کہ پاکستان میں سہیل رعنا کو وہ مقام حاصل ہے جو بھارت میں موسیقار اعظم نوشاد صاحب کو۔ دلیپ صاحب مجھ سے پہلے ہی سے واقف تھے کہ کافی برس پہلے میں نے اپنا لانگ پلے ”خیبر میل“ (Khyber Mail) انہیں بھجوایا تھا۔ اس کے بعد محترم ضیاءالحق نے یہ یادگار تصویر دلیپ کمار، سائرہ بانو، میں اور میری اہلیہ افشاں رعنا کے ہمراہ کھنچوائی جو پریس فوٹوگرافر نے بعد ازاں مجھے بھجوا دی اور پہلی بار 33 سال کے بعد آج اس مضمون، اس کہانی کے ساتھ شائع ہو رہی ہے۔۔۔ یہ تصویر انعام ہے، صبر و تحمل اور پروٹوکول کے احترام کرنے کا۔۔۔
کھانے کے بعد دو تقاریر ہوئیں۔ پہلے صدر محترم کی، جس میں انہوں نے دلیپ کمار صاحب کو معیاری اداکاری، اپنے فن میں مقبولیت اور بین الاقوامی شہرت اور مقام حاصل کرنے کو سراہتے ہوئے دلیپ صاحب اور ان کی اہلیہ سائرہ بانو کو خوش آمدید کہا۔ حکومت پاکستان کی طرف سے دلیپ صاحب کو نشانِ پاکستان کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔
دلیپ کمار صاحب نے اپنی تقریر میں صدر محترم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جو ان کو اور ان کی اہلیہ سائرہ بانو کو پاکستان میں بلا کر یہ عزت دی گئی ہے کہا کہ وہ یہ کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے۔ اس موقعہ پر انہوں نے اپنے سپاسنامہ کے جواب میں ایک خاص پیغام پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم فنکار، موسیقار، شاعر، مصور، ادیب اور کھلاڑی، ہم اپنی تہذیب و تمدن، اپنی ثقافت، اپنے اپنے فن کے ساتھ امن کے سفیر ہیں۔ ہمارا کام ہے پیار، محبت اور امن پھیلانا۔۔۔ میں صدرِ محترم سے گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے طور پر، دنیا کے لیڈروں کو یہ بات سمجھائیں کہ ہم سب پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ بجائے اس کے کہ دنیا ایٹمی ہتھیاروں، اسلحہ اور بارود و بم کو پھیلائیں، ہمیں اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔ معاشرہ اور قومیں بننے میں صدیاں لگتی ہیں اور ٹوٹنے اور تباہ ہونے میں چند منٹ۔ ہمیں آنے والی نسلوں کو تحفظ دینا ہے۔ دنیا میں امن و امان پھیلانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر آپ کا احسان مند ہوں کہ ہمیں پاکستان بلا کر مجھ پر ایک خاص کرم کیا ہے۔ میرے یہاں آنے سے میری ایک دیرینہ خواہش پوری ہو رہی ہے کیونکہ 1922ءمیں، پشاور میں پیدا ہوا۔ پشاور میرا آبائی شہر ہے۔ میرا گھر آج بھی پشاور میں ہے۔ میں اس دوران پشاور بھی جانا چاہوں گا، جہاں ہم لوگوں کے ساتھ گھلیں ملیں۔ پشاوری کُلّا (صافہ) پہنیں۔ پشاوری چپّل پہنیں، پشتو بولیں، اردو میں گفتگو کریں، صحافیوں سے ملیں، چپلی کباب اور نان کھائیں۔ دلیپ کمار صاحب نے اپنی گفتگو اور خیالات سے سب کو محظوظ کیا۔
دلیپ صاحب کو ان گنت اشعار ازبر ہیں۔ وہ اردو کے اساتذہ غالب، میر، مومن، علامہ اقبال، شیخ سعدی اور جوش ملیح آبادی کے کلام کو، کلاسیکی موسیقی کو، چغتائی اور صادقین کی مصوری کو، عزلیات کو بہت ذوق و شوق سے پڑھتے اور سنتے ہیں۔
وہ جتنے اچھے اور منجھے ہوئے ہنر مند اداکار تھے۔ مقبول اور مشہور، اس سے کہیں زیادہ وہ قابل مقرر تھے۔ دلیپ صاحب کے ساتھ گفتگو کریں، یا ان کا انٹرویو سنیں، ان کا لب و لہجہ اتنا صاف و شفاف، ان کا تلفظ، فصاحت کے ساتھ دلیپ صاحب کی معلومات، ان کا علم، ان کا مشاہدہ اور مطالعہ اتنا وسیع تھا، تینوں زبانوں، اردو، فارسی اور انگریزی پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔ عقل حیران ہوتی ہے کہ اتنی مصروفیات کے باوجود انہوں نے کب اور کیسے اتنے سارے علوم و فنون سے واقفیت حاصل کی۔
دلیپ کمار صاحب کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ کیا گھوڑ سواری، کیا شمشیر زنی، کیا کھیلوں اور فنون سے واقفیت۔۔۔ کیا کامیڈی، کیا رومان، کیا ڈرامہ، ترانہ، گوپی، گنگا جمنا اور مغل اعظم بے مثال ثبوت ہیں۔ یہ ہنرمندی، یہ سج دھج، یہ عروج، یہ دلیپ صاحب کی ہی انفرادی حیثیت ہے یہ انہی کا حصہ ہے۔ ان کے سامنے برصغیر کے سارے اداکار طالب علم نظر آتے ہیں۔ وہ اپنا کام عبادت سمجھ کر کرتے تھے۔ ان کے کام میں بناوٹ ذرہ برابر بھی نہیں تھی۔ وہ کردار میں کھو جاتے تھے۔ اسکرپٹ اور کاسٹ پر غور و فکر کرتے تھے۔ نوشاد صاحب ان کے اچھے دوستوں میں سے تھے۔ نوشاد صاحب کی پس منظر موسیقی نے دلیپ کمار صاحب کی بڑی مدد کی، ان کی اداکاری نکھارنے میں اور موثر بنانے میں۔ انداز، آن، کوہ نور، گنگا جمنا اس کی خاص مثالیں ہیں۔ مغل اعظم سب سے بڑی فلم تھی۔ ترانہ میں مدھو بالا اور دلیپ صاحب کی اداکاری رومانوی اعتبار سے دیکھنے کے قابل ہے۔ آپس میں ان کا مذاق، چھیڑ چھاڑ، غصہ، پیار، ڈائیلاگ آج بھی ایک ایسی مثال ہے جسے بھلایا نہیں جا سکتا۔ شروع میں ان کا میلان کنان کوشل کی طرف تھا پھر دل مدھو بالا کی طرف دھڑکنے لگا۔ مگر مدھو بالا کے والد نے ان کی شادی سے انکار کردیا اور مغل اعظم کے بعد ان کی ٹیم توڑ دی گئی۔ دلیپ کمار صاحب نے پھر اپنی ٹیم وجنتی مالا اور سائرہ بانو کی طرف کرلی۔ سائرہ بانو کی شادی میں سائرہ کی والدہ پری چہرہ نسیم بانو (جو بھارتی پکار کی ہیروئن تھیں) بہت بڑا حصہ ہے۔ یورپ سے سائرہ بانو جب بھارت واپس آئیں تو ان کی آنکھیں دلیپ کمار صاحب سے چار ہو گئیں۔ بس پھر کیا تھا، چٹ منگنی پٹ بیاہ اور اس طرح قدرت نے دلیپ سائرہ کی جوڑی بنا دی۔ دلیپ سائرہ کی جوڑی کو شمع پروانہ یا ہیر رانجھا کی جوڑی کہا جا سکتا ہے۔ پر کہنا مشکل ہے سائرہ بانو شمع تھیں یا پروانہ
میں شمع پروانے کی
ہیر اپنے رانجھے کی
میں رانجھا رانجھا کرتی
میں رقص ترے سنگ کرتی
کچھ اپنے من کی کہتی
کچھ تیرے من کی سنتی
کچھ اور اگر رک جاتا
تنہا نہ جانے دیتی
یہ دنیا کیا قیامت آفریں ہے
ابھی سب کچھ ابھی کچھ بھی نہیں ہے
یہ کیفیت ہے اس وقت سائرہ بی بی کی۔۔۔ سارا گھر دلیپ صاحب کے بغیر کاٹنے کو دوڑ رہا ہے، نہ جانے بقیہ زندگی کیسے کٹے گی۔
اور اب دلیپ کمار بھی۔۔۔
(1922 – 2021)
مشہور موسقیار سہیل رعنا نے دلیپ کمار کی رحلت پر جو پیغام ہمیں بھیجا ہے وہ ان کے، ان کے عزیزوں کے اور ساری دنیا کے جذبات ہیں۔
لائی حیات آئے، قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
آج 6 جولائی 2021ءدلیپ کمار صاحب (یوسف خان صاحب) ہم سب سے جدا ہو کر اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگئے۔ 98 سال کی عمر میں، منگل کی صبح 7:30 بجے، بمبئی ہسپتال میں، اپنی اہلیہ سائرہ بانو کی موجودگی میں۔ انہوں نے اپنی پلکیں جھکا لیں اور خاموشی سے اپنے آپ کو موت کے فرشتے کے سپرد کردیا۔ یہ تھا ان کے دنیاوی سفر کا آخری ڈراپ سین۔
کچھ اہم اخبارات میں ان کی آخری رسومات اور تدفین کے بارے میں کچھ غلط خبریں شائع ہوئیں، جس کی تردید کا وقت نہیں مگر یہ بتانا ضروری ہے کہ دلیپ کمار ایک نیک اور پکے مسلمان تھے اور آخر تک اپنے اللہ اور اس کے نبی کے راستے پر ثابت قدم رہے۔
بھارتی حکومت نے State Funeral کا اہتمام کیا۔ دو فوجی دستوں نے اعزازی رسومات کے ساتھ 21 گن کی سلامی دی اور انہیں الوداع کہا۔
بھارتی پرچم پہلے ان کے جنازے پر لپٹا رہا، پھر کسی مسلم رہنما کے اعتراض پر اسے اتار لیا گیا اور اس کی جگہ ایک گہرے ہرے رنگ کی چادر سے ان کے جسد خاکی کو لپیٹ دیا گیا اس طرح لہد میں اتارنے سے پہلے آخری رسومات اپنے اختتام کو پہنچیں۔
سائرہ بانو نے اپنے ہم سفر کو اپنے خاندان کی دیگر خواتین کے ہمراہ اپنی آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہی دیکھا۔
بہت سے لوگ، عزیزان، انڈسٹری کی بہت سی شخصیات کی موجودگی میں دعاﺅں میں جو سپرد کرنے کے بعد پڑھتی جاتی ہیں، انہیں رخصت کیا گیا۔
ان کے اس آخری سفر کی ویڈیو مختلف لوگوں نے Youtube پر ڈالی۔ خدا سے دعا ہے ان کی اہلیہ، ان کے پرستاروں اور ان کے چاہنے والوں کو صبر جمیل عطا کرے اور دلیپ صاحب کی روح کو ہر قسم کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ عالم برزخ اور بعد میں جنت الفردوس میں بہتر سے بہتر مقام عطا کرے اور مرحوم کے لواحقین کو صبر اور ہمت دے۔ آمین
بڑی بڑی مشہور ہستیاں جو دلیپ صاحب کے ساتھ تھیں وہ پہلے ہی سپردخاک ہو گئیں۔
پچھلے دس سالوں میں دلیپ صاحب کئی مرتبہ ہسپتالوں میں داخل ہوئے۔ مگر کچھ دنوں میں صحتیاب ہونے کے بعد گھر آجایا کرتے تھے۔ لیکن اس دفعہ 4 جولائی کی صبح جان لیوا ثابت ہوئی۔
جب بابری مسجد منہدم ہوئی تو وہ بہت دلگرفتہ ہوئے اور جب کبھی اس کا ذکر اخبار، ریڈیو یا ٹی وی پر ذکر آیا وہ آبدیدہ ہو جایا کرتے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس واقع سے ہی ان کی صحت بگڑنا شروع ہو گئی۔ وہ بڑے نمازی، پرہیز گار اور دیندار تھے۔وہ اور ان کی اہلیہ سائرہ بانو نے حج کیا اور عمرے بھی وہ غریبوں، ضرورت مندوں کا بہت خیال کرتے تھے۔
فلم انڈسٹری کے بہت سے لوگ سائرہ بانو سے اظہار تعزیت کرنے آئے۔ دھرمیندر تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ شاہ رُخ خان، امیتابھ بچن، ایشوریا، رنبھیر کپور، ودیا بالن، پریانکا چوپڑا، شبانہ اعظمی اور دیگر فنکاروں اور ان کے چاہنے والوں کے ہزاروں ای میل اور پیغامات کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔
نہ جانے کب سے، ایک طویل کارواں اپنے حقیقی خالق سے ملنے کے لئے رواں دواں ہے
ہم کس کس کو یاد کریں
کس کس کو فراموش کریں
کس کس کو صبر کی تلقین کریں
کس کس کو ڈھارس دیں
ہر نفس کو یہ انہونا ذائقہ چکھنا ہے
انسان کو چاہئے کہ خیال قضا رہے
جب رسول خدا نہ رہے تو ہم کیا رہیں گے
جو جو ہستیاں سپردخاک ہوگئی ہیں ان میں چند اہم ساتھی اور بزرگ، موسیقار نوشاد صاحب، محمد رفیع صاحب، طلعت محمود صاحب، مجروح سلطان پوری، شکیل بدایونی، جوش ملیح آبادی صاحب، محبوب صاحب، کے عاصف صاحب، ایس یوسف صاحب، فیروز نظامی صاحب، موسیقار سجاد حسین صاحب، مہدی حسن صاحب، شمشاد و بیگم صاحبہ، میڈیم نورجہاں صاحب، شوکت حسین رضوی صاحب، بڑے غلام علی خاں صاحب، مدھو بالا صاحبہ، مراد صاحب، صابری برادرز
سائرہ بانو اپنے شوہر دلیپ کمار کو یاد کرکے کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنے قرب سے مجھے اتنا مانوس کردیا تھا کہ میرے کپڑوں کا انتخاب وہ خود کرتے تھے اور میں ان کا وارڈ روب کی دیکھ بھال اور ان کے لباس کی بھی ہر جگہ، ہر محفل میں، ہر سفر میں ان کے ساتھ ساتھ رہتی بالکل سائے کی طرح۔
اب دلیپ نہیں رہے تو میں کچھ بھی نہیں۔ آخری رات انہوں نے مجھے بوسہ دیا، میرے گال پر، میں نے بھی ان کے گلا پر بوسہ دیا۔ آخر میں انہوں نے پلکیں جھکا کر آنکھیں بند کرلیں اور الوداع کہہ دیا۔
ان کا کوئی ثانی نہیں تھا، وہ اپنی وضع کے ایک ہی تھے، کیا آواز، کیا شخصیت، جامع زیب۔ وہ ایک چلتی پھرتی انجمن تھے۔ وہ ہمارے Ambassador تھے۔ ہندوستان کے، ان کو سب سے بڑا ایوارڈ Hollywood نے انہیں لارنس آف عربیہ کے لئے ایک رول پیش کیا تو انہوں نے معذرت چاہی کہ میں بھارت کے علاوہ کسی فلم میں کام کرنا پسند نہیں کرتا۔ آواز کے اتار چڑھاﺅ کے اتنے ماہر ہو چکے تھے، جب چاہتے اپنی کیفیت بدل لیتے اداکاری کے دوران۔ شروع میں وہ سریندر اور لارنس اولیور سے متاثر تھے لیکن ان کا اپنا انداز تھا جس پر انہیں ناز تھا جو جگنو اور انداز سے شروع ہوا اور آخر وقت تک قائم رہا۔ وہ فلسفہ پسند کرتے تھے، لیڈروں کی اور بڑی بڑی اہم شخصیتوں کی سوانح عمری کا شوق سے مطالعہ کرتے تھے ۔
نوشاد صاحب کے گھر چلے جاتے اگر کوئی مسئلہ اسکرپٹ یا کاسٹ کے سلسلے میں آتا تو دونوں شمشاد کے گھر میں سیڑھیوں پر بیٹھ جاتے، وہیں چائے پیتے اور مشورہ کرتے، انہیں نوشاد صاحب کے تجربہ پر بڑا بھروسہ اور اعتماد تھا۔ نوشاد صاحب نے ان کی جگنو دیکھ کر محبوب صاحب کو مشورہ دیا کہ وہ دلیپ صاحب کو انداز میں کاسٹ کریں۔ نوشاد صاحب نے برسات میں اس دور میں لتا کو سنا تو محبوب صاحب نے کہا کہ وہ انداز میں لتا سے گانے گوائیں گے۔
دلیپ کمار صاحب کی مشہور فلمیں
جگنو۔ نورجہاں کے ساتھ
شبنم۔ کنان کوشل
ندیا کے پار۔ کنان کوشل
آرزو۔ کنان کوشل
انداز۔ نرگس، راج کپور
ترانہ۔ مدھو بالا
دیدار۔ اشوک کمار، نرگس
کوہ نور۔ مینا کماری
آزاد۔ مینا کماری
اڑن کھٹولہ۔ مینا کماری، نمی
آن۔ نادرہ، نمی
داغ۔ نمی
سنگدل۔ مدھو بالا
امر۔ مدھو بالا، نمی
دیوداس۔ سچنترا سین، وجنتی مالا
رام اور شیام۔ سائرہ بانو
گنگا جمنا۔ وجنتی مالا
نیادور۔ وجنتی مالا
گوپی۔ سائرہ بانو
دل دیا درد لیا۔ وحیدہ رحمان
فٹ پاتھ۔
دلیپ کمار صاحب نے 68 فلموں میں کام کیا جن میں بیشتر سلور اور گولڈن جوبلی تھیں۔ آن اور مغل اعظم نے تو ریکارڈ ہی توڑ دیئے۔ ہم نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب دلیپ کمار صاحب کا نام ڈسٹری بیوٹرز کی کامیابی کی ضمانت تھا۔
گانے جو بہت مقبول ہوئے۔
جگنو۔ یہاں بدلہ وفا کا (سنگر: رفیع، نورجہاں، موسیقار: فیروز نظامی)
شبنم: تو محلوں میں رہنے والی (سنگر: مکیش، موسیقار: ایس ڈی برمن )
آرزو ۔ اے دل مجھے ایسی جگہ لے چل (سنگر: طلعت محمود، موسیقار: انیل بسواس)
انداز۔ تو کہے اگر (سنگر: مکیش، موسیقار: نوشاد)
ترانہ۔ نین ملے نین ہوئے باورے (سنگر: لتا/طلعت محمود، موسیقار: انیل بسواس)
ترانہ۔ سینے میں سلگتے ہیں ارمان (سنگر: لتا / طلعت محمود، موسیقار: انیل بسواس)
ترانہ۔ بے ایمان تورے متوا (سنگر: لتا / طلعت محمود، موسیقار: انیل بسواس)
کوہ نور ۔ مدھ بن میں رادھیکا ناچے رے ۔ (سنگر: رفیع، موسیقار: نوشاد)
کوہ نور ۔ یاد میں تیری جاگ جاگ کے ہم۔ (سنگر: لتا / رفیع، موسیقار: نوشاد)
کوہ نور ۔ دو ستاروں کا زمیں پر ہے ملن۔ (سنگر: لتا / رفیع، موسیقار: نوشاد)
اڑن کھٹولہ ۔ او دور کے مسافر ۔ (سنگر: رفیع، موسیقار: نوشاد)
اڑن کھٹولہ ۔ میرا سلام لے جا (سنگر: لتا / شمشاد بیگم، موسیقار: نوشاد)
اڑن کھٹولہ۔ مورے سیاں جی (سنگر: لتا / کورس، موسیقار)
آن۔ دل میں چھپا کر پیار کا طوفان لے چلے (سنگر: رفیع، موسیقار: نوشاد)
داغ ۔ اے میرے دل کہیں اور چل (سنگر: طلعت محمود، موسیقار: شنکر جے کشن)
فٹ پاتھ ۔ شام غم کی قسم (سنگر: طلعت، موسیقار: خیام)
گنگا جمنا ۔ کان کا بالا (سنگر: لتا، موسیقار: نوشاد)
گنگا جمنا ۔ دو ہنسوں کا جوڑا (سنگر: لتا موسیقار: نوشاد)
سنگدل ۔ یہ ہوا یہ رات یہ چاندنی (سنگر: طلعت محمود، موسیقار: سجاد حسین)
دیدار۔ بچپن کے دن بھلا نہ دینا (سنگر: رفیع، موسیقار: نوشاد)
آواز۔ کتنا حسین ہے موسم (سنگر: لتا، سی رام چندر، موسیقار: سی رام چندر)
نیا دور۔ مانگ کے ساتھ تمہارا (سنگر: رفیع/لتا، موسیقار: او پی نیر)
نیا دور ۔ اڑیں جب جب زلفیں تیری (سنگر: لتا/ رفیع، موسیقار: او پی نیر)
مغل اعظم ۔ پیار کیا تو ڈرنا کیا (سنگر: لتا، موسیقار: نوشاد)
مغل اعظم ۔ موہے پنگھٹ پہ نند لال (سنگر: لتا، موسیقار: نوشاد)
مغل اعظم ۔ بے کس پہ کرم کیجئے (سنگر: لتا، موسیقار: نوشاد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں