596

وہ فلم جسے ریلیز سے پہلے ہی سپرہٹ قرار دے دیا گیا

مارول اسٹوڈیوز کے سینما یونیورس کی 18 ویں فلم ‘بلیک پینتھر’ جمعہ (16 فروری) کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں ریلیز کی جارہی ہے اور اسے پہلے سے ہی سپرہٹ قرار دے دیا گیا ہے۔
یہ مارول اسٹوڈیوز کی پہلی فلم ہے جس میں کسی سیاہ فام سپر ہیرو کو پیش کیا جارہا ہے اور ناقدین اس کی کہانی پر فدا ہوچکے ہیں۔
اس فلم کی ہدایات ریان کوگلر نے دی ہیں جبکہ چاڈ وک بوس مین، مائیکل بی جورڈن، لوپیتا نیونگا سمیت دیگر اس کی کاسٹ کا حصہ ہیں۔
اس فلم کو ویب سائٹ روٹن ٹماٹوز پر 99 فیصد ریٹنگ دی گئی ہے۔
اس فلم کے بارے میں ناقدین کیا کہتے ہیں، وہ درج ذیل ہے۔

ہولی وڈ رپورٹر
اس ویب سائٹ کا کہنا تھا کہ یہ مارول یونیورس کا ہی حصہ ہے مگر یہ اس کا حصہ نہ بھی ہوتی تو بھی آپ اسے دیکھ کر دیگر فلموں کو بھول جاتے، افریقہ کا ایک گمشدہ حصہ، جہاں کی شاہی روایات اور ٹیکنالوجی کی ترقی نئی ڈرامائی، بصری تازگی کی لہر سے بھری ہے۔ اس کے سیٹ، کاسٹیومز اور دیگر پہلو لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں حالانکہ یہ تھری ڈی فلم نہیں ہے۔

رولنگ اسٹون
اس ویب سائٹ نے لکھا کہ یہ ایسی بہترین فلم ہے جو کسی اور مارول فلم کی طرح نہیں، رائٹنگ سے لے کر ڈائریکشن، اداکاری، پروڈیشن ڈیزائن، کاسٹیوم، میوزک اور اسپیشل ایفیکٹس تک، یہ فلم دنگ کردینے والی ہے۔ مارول کے پہلے سیاہ فام ہیرو کی فلم کا عرصے سے انتظار تھا اور یہ ایک تاریخ ساز ایڈونچر اور نئی کلاسیک فلم ہے۔

دی ورج
اس ویب سائٹ کا کہنا تھا کہ یہ ایسی فلم ہے جو کچھ کہنا چاہتی ہے اور سپرہیروز کی روایتی دنیا سے باہر قدم نکالے بغیر بھی بہت کچھ کرنے میں کامیاب رہی، یہ اپنی گرفت برقرار رکھتی ہے، مزاح بہترین ہے جبکہ کہانی کے ٹوئیسٹ سے لگتا ہے کہ آخرکار مارول نے احساس کرلیا ہے کہ فلمیں صرف اگلی قسط کو فروخت کرنے سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔

نیویارک ٹائمز
اس روزنامے نے ڈائریکٹر کے اداکاری کے فہم کو سراہا مگر یہ بھی کہا کہ ریان کوگلر کی ڈائریکشن زیادہ مضبوط تھی، اس فلم میں کچھ مناظر ایسے ہیں جو آپ کو آنسو بہانے پر مجبور کرسکتے ہیں اور جو حساسیت انہوں نے پردہ اسکرین پیش کی وہ بھی کمال کی تھی۔

گارڈین
برطانوی اخبار کا اس فلم کے بارے میں کہنا تھا کہ خدشہ ہے کہ مستقبل قریب میں بلیک پینتھر مارول کی دیگر فلموں میں ماتحت بن کر رہ جائے گا، توقع ہے کہ ایسا نہیں ہوگا، ہم ایسی کہانیاں چاہتے ہیں جہاں مرکزی کردار کو واکانڈا سے باہر دکھایا جائے، اہم امر یہ ہے کہ بلیک پینتھر کسی سپر ہیرو فلم جیسی نہیں نظر آتی بلکہ اس میں آنکھیں پھاڑ دینے والی فنٹاسی، رومان، جوش و خروش، مزاح اور حساسیت موجود ہے۔

جی کیو
اس سائٹ نے لکھا کہ یہ فلم ہولی وڈ میں رنگوں کی امتیاز ختم کرنے کے حوالے سے ہی اہم نہیں بلکہ یہ ایک سبق ہے کہ ہمیں معاشرتی غلطیوں سے آگے بڑھنا چاہئے۔ یہ نہ صرف ہولی وڈ کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ اگلی نسل کو حقیقی زندگی کے ہیروز بننے کے لیے متاثر بھی کرتی ہے اور یہ پہلو اس فلم کو حقیقی معنوں میں شاندار بناتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں