الوداع اے محسن قوم الوداع 155

ٹرمپ کا دوسری ٹرم کا خواب چکنا چور ہو گیا

گزشتہ تین ہفتوں کے بیانات، دھمکیاں اور عدالتی چارہ جوئی کا شور مچانے والے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آ±خرکار ہار مانتے دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکہ کے جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن کی منتظم ایملیمرفی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے منتخب صدر جوبائیڈن کو اقتدار کی منتقلی کے عمل کے آغاز کرنے کا اشارہ دے دیا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی دھونس دھمکیوں اور قانونی چارہ جوئی کے باوجود مضبوطی کے ساتھ جمے رہنے کے بعد اور جوبائیڈن کے دو ہفتہ تک حتمی انتقال اقتدار کی منتقلی کے لئے انتظار کے بعد انہیں عندیہ دے دیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاﺅس چھوڑ رہے ہیں۔ یوں وائٹ ہاﺅس کا عملہ اب نئے صدر کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا اور صدارتی فنڈز کی بابت نئے منتخب صدر جوبائیڈن کو آگاہ کیا جائے گا جو کہ 6.3 ملین کے لگ بھگ ہے۔ واضح رہے کہ جوبائیڈن ٹیم کی پہلی ترجیح کووڈ۔19 کا درست ڈیٹا اکھٹا کرنا اور پھر ویکسین کی فراہمی ہے۔ جوبائیڈن کے منتقلی اقتدار کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر Yohannes Abrahim کا کہنا ہے کہ ہمیں امریکہ کو دوبارہ بہتر امیچ کی طرف لے کر جانا ہے اور کورونا کی روک تھام اور ملکی معیشت ہماری ترجیحات میں
شامل ہے۔
امریکہ کی وہ ریاستیں جن پر سابق صدر نے سوال اٹھائے تھے اب الیکشن کے نتائج جوبائیڈن کے حق میں دیتی دکھائی دیتی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی لیگل ٹیم کو عدالتوں میں خفگی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یوں جوبائیڈن کے منتقلی اقتدار کے عمل کے لئے تاخیری حربوں کا استعمال ناکام ہو گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ صرف ڈیموکریٹس بلکہ کئی ایک ریپبلکن سینیٹرز نے بھی جوبائیڈن کی جیت کو تسلیم کیا ہے۔ حال ہی میں امریکی ریاست کے اوہایو کے ریپلکن سینیٹر راب پورٹمین نے بھی اقتدار کی منتقلی کو روکنا جمہوریت کی نفی قرار دیا ہے اور کہنا ہے کہ امریکی اقدار کی پاسداری ضروری ہے۔
مصدقہ اطلاعات ہیں کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایملی مرفی کا شکریہ ادا کیا ہے اور انہیں پیغام بھجوایا ہے کہ وہ اقتدار کی منتقلی کے عمل کو بحسن و خوبی سر انجام دیں گی۔ امریکی صدارتی اقتدار کی منتقلی ایکٹ 1963 میں 22 نومبر 2020ءکو ترمیم کی گئی ہے اور امریکہ کے آئندہ منتخب صدر جوبائیڈن کو قرار دے دیا گیا ہے اور ان کی نائب صدر کامیلا ہیرس ہوں گی۔ امریکہ کے تمام فیڈرل اداروں کو نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے۔ یوں جوبائیڈن نے اقتدار حاصل کرلیا ہے اور وہ جلد ہی وائٹ ہاﺅس میں اپنے قدم جما لیں گے۔ نئے صدر جوبائیڈن اپنی کابینہ کا اعلان کرچکے ہیں جس میں امریکی انٹیلی جنس کے لئے انہوں نے پہلی بار کسی خاتون کا انتخاب کیا ہے جب کہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی چیف ایک امیگرنٹ کو بنایا ہے تاکہ امریکہ کے خراب کئے گئے امیج کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ جوبائیڈن نے حال ہی میں مسلم ممالک پر لگائی گئی ٹریول ایڈوائزری کو بھی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یوں خیال ہے کہ امریکہ دنیا بھر سے اپنے تعلقات کو بحال کرنا چاہتا ہے۔
کیوبا میں پیدا ہونے والی Alegandro Mayokas جو سابقہ دور میں ہوم لینڈ سیکورٹی کی ڈپٹی سیکریٹری رہ چکی ہیں اب اس ادارے کی کمان سنبھال چکی ہیں اور وہ امریکہ کی خراب کی گئی امیگریشن پالیسی جس نے فیملیز کو جدا کردیا تھا۔ مثبت اقدامات کے ذریعہ امریکنوں اور امیگرینٹس کا اعتماد دوبارہ بحال کرنے کے لئے کام کریں گی۔ جوبائیڈن کے سیکریٹری خزانہ کے لئے پہلی بار کسی خاتون کا انتخاب کیا ہے جن کا نام Jannet Yeller ہے، فارن پالیسی کے لئے Anthoney Blinken کا انتخاب کیا ہے، اقوام متحدہ میں نمائندگی کے لئے لنڈا تھامس گرین فیلڈ جب کہ Jake Sullivan کو نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کے لئے چنا گیا ہے۔ یوں جوبائیڈن نے اپنی ٹیم کے پہلے گروپ کا اعلان کردیا ہے ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کی خوبصورتی کو ماند کردیا گیا تھا مگر وہ امریکی اقدار کو واپس لائیں گے اور امریکنوں کے ذہنوں سے خوف کو ختم کرکے انہیں قابل فخر امریکن بنائیں گے۔ انہوں نے دنیا بھر کے ممالک سے بھی بہتر تعلقات رکھنے کا اشارہ دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ان کی ترجیحات میں Covid-19 کی روک تھام، ویکسین کی فراہمی، امریکی معیشت کا استحکام اور فارن پالیسی شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں