Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 33

ٹرک کی بتی

تقسیم ہند کو ایک بہت بڑا سانحہ کہا جائے، واقعہ یا منصوبہ بہرحال اس تقسیم کے نتیجے میں ہندوستان تین حصوں میں بٹا، کچھ سادہ لوح اسے دو حصے ہی تسمجھتے رہے جب کہ پرانا مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش ہی تیسرا حصہ تھا جو تقسیم کے وقت ہی ظاہر ہو گیا تھا کہ علیحدہ مملکت بنے گا اور یہ ان کی خوش قسمتی ہی تھی کہ تھوڑی دیر لگی لیکن بہرحال سکون کا سانس لیا۔ یہ بات بھی عیاں ہو چکی ہے کہ اگر پاکستان پر بنگالی کی حکومت ہوتی تو آج پاکستان ملکوں ملکوں کشکول لئے نا پھر رہا ہوتا کیوں کہ انہوں نے گزشتہ چار دہائیوں میں یہ ثابت کردیا کہ وہ ملک کو بنا سکتے تھے۔ بہرحال یہ تو علیحدہ ہی بحث ہے، ہندوستان ایک حصے سے دوسرے حصے میں بے شمار لوگ منتقل ہوئے اور ایک بڑی مسلمانوں کی آبادی اس علاقے میں پہلے سے موجود تھی۔ پاکستان کا اعلان ہو جانے کے بعد اور ہندوستان سے علیحدہ ہونے کے بعد لوگوں نے پوچھا کہ اب کیا کرنا ہے تو کسی نے کہا کہ اب ہمیں صرف دارالخلافہ کی طرف دیکھنا ہے، حکومتیں وہیں سے بنیں گی اور بگڑیں گی۔ حکومت جمہوری ہو یا فوجی ہمیں صرف اس کی پیروی کرنا پڑے گی اور ان کے پیچھے ہی چلنا پڑے گا۔ پوچھا کہ یہ حکومت اور اس کے نمائندے کہاں ملیں گے، کہا گیا وہ دیکھو دور پر ایک ٹرک کھڑا ہے۔ جس کی بتیاں جل رہی ہیں، بس وہی دارالخلافہ ہے۔ وہیں پر ٹرک کے قریب پارلیمنٹ، ایوان صدر یا قومی قیادت ملے گی۔ لوگ ٹرک کی بتیوں کو دیکھتے ہوئے چل پڑے۔ جیسے ہی وہ ٹرک کے قریب پہنچے ٹرک چل پڑا، لوگ اس کے پیچھے ٹرک بتیاں دیکھتے ہوئے بھاگ پڑے۔ جہاں جہاں ٹرک کی بتیاں گھومتی نظر آتیں لوگ بھی گھوم جاتے، کبھی کبھی ٹرک تیل لینے یا قانونی اور غیر قانونی مال اتارنے یا چڑھانے کے لئے رکتا، لوگ بھاگے بھاگے قریب جاتے لیکن ان کے پہنچنے سے پہلے ہی ٹرک چل پڑتا۔ لوگ آہستہ آہستہ غیر قانونی کام بھی سیکھتے گئے، وقت کے ساتھ ساتھ ٹرکوں کی تعداد بھی بڑھتی گئی، ہر سیاسی پارٹی کا ایک ٹرک ہے جس کی بتی کے پیچھے لوگ بھاگ رہے ہیں۔
76 سال ہو گئے قوم ابھی تک ٹرکوں کی بتیوں کے پیچھے بھاگ رہی ہے، جہاں یہ ٹرک رکے گا ان کو اچھے برے کی تمیز بھی ہو جائے گی اور ملک و عوام کی خدمت کرنے والے لیڈر اور حکومت بھی مل جائے گی۔ فی الحال تو یہ ممکن نہیں ہے، گزشتہ سات دہائیوں سے یہ ملک قرضے پر پل رہا ہے، اس قرضے کا کچھ فیصد تو عوام پر خرچ ہوتا ہے جس سے غریب عوام کی دال روتی چل جاتی ہے باقی قرضہ جہاں سے آتا ہے وہیں لوگوں کے ذاتی اکاﺅنٹ میں چلا جاتا ہے۔ یہی حال بیرونی امداد کا ہے، ہر تھوڑے عرصے بعد ایک نئی حکومت آجاتی ہے اور سارا الزام جانے والی حکومت کو دے کر خزانہ خالی ہونے کا پہلے ہی اعلان کر دیتے ہیں اور پھر نئی حکومت کا وہی کاروبار پھر شروع ہو جاتا ہے۔ سارا قصہ لیڈروں یا حکمرانوں کا نہیں ہے عوام بھی اپنی اور ملک کی تباہی میں برابر کے شریک ہیں۔ اگر آپ جائزہ لیں تو عوام کو اپنی ذاتی پریشانیوں اور مالی مشکلات سے زیادہ آپ علاقائی، لسانی، فرقہ پرستی اور مسلک کے جھگڑوں میں زیادہ مصروف پائیں گے۔ اپنے اور ملک کے حالات سدھارنے کے بجائے دوسری زبان، مسلک، فرقے، علاقے والے کو کیسے نیچا دکھانا ہے، اسے کیسے گرانا ہے اور موقع ملے تو قتل بھی کرنا ہے، صرف ان کاموں میں زیادہ دلچسپی ہے۔
پوری قوم صرف اس ہی میں مصروف ہے اور سیاسی لیڈران اور مفاد پرست لوگ بھی ان کو اس ہی میں مصروف رکھ کر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے ہوئے اس ہر حکومت اپنی نا اہلی اور ناکامی کو چھپانے اور زیادہ سے زیادہ مال بنانے کے لئے سارا الزام قدرتی آفات، سیلاب، زلزلے، بیماریوں پر ڈال دیتی ہے اور صرف کوئی نا کوئی بہانہ چاہئے ہوتا ہے، بیرونی امداد اور قرضے حاصل کرنے کے لئے، ہاتھ پھیلائے رکھتے ہیں ان تمام قدرتی آفات سے کون سے ملک بچا ہوا ہے۔ ایشیا ہو افریقہ یوروپ، مشرق وسطی یا امریکہ آفتیں ہر جگہ آتی ہیں لیکن انہوں نے آفتوں سے نپٹنے کے لئے پہلے ہی سے انتظام کیا ہوتا ہے، ملک امیر ہو یا غریب سب سنبھل جاتے ہیں، جانی و مالی نقصانات کے باوجود وہ اپنے پیروں پر خود ہی کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہاں تو یہ عالم ہے کہ حکومت تبدیل ہوتی ہے تو کاسہ لے کر در در پھرنے لگتے ہیں۔ بنگلہ دیش ہمیشہ سیلابوں کی نظر رہا لیکن جب تک مغربی پاکستان کا ساتھ رہا اس کی حالت ابتر ہی رہی لیکن مغربی پاکستان سے علیحدہ ہو جانے کے بعد وہ بھی خوشحال ہوگیا۔ پورے ملک میں اس وقت رسہ کشی اقتدار حاصل کرنے کی جنگ اور سیاسی گندی چالوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ پورا ملک سیلاب سے متاثر ہوا ہے۔ یوں تو بیرونی امداد اور اندرونی امداد اچھی مقدار میں موصول ہو چکی ہے لیکن اطلاع یہ ہے کہ اس امداد میں بھی بے ایمانی جاری ہے۔ باہر سے آیا ہوا سامان چرایا جارہا ہے۔ بس انتہا ہے، سمجھ نہیں آتا یہ کیا قوم ہے۔ گزشتہ سات مہینے سے ایک شخص ہنگامہ کئے ہوئے ہے کہ فوری الیکشن کراﺅ، نہیں تو یہ کردوں گا وہ کردوں گا، جواب مل رہا ہے کہ نہیں کرائیں گے، کرلو جو کرنا ہے، اب یہ نہیں پتہ کہ یہ فوری کا ٹرک اور کتنے عرصے چلے گا اور عوام اس کی بتی کے پیچھے کہاں تک بھاگیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں