44

پائلٹس کے مشکوک لائسنسز: امریکا نےبھی پی آئی اے کی پروازیں معطل کردیں

اسلام آباد: پاکستانی پائلٹس کے مشتبہ لائسنسز کے معاملے پر امریکا نے بھی پاکستانیوں کی واپسی کے لیے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کو خصوصی پروازوں کے اجازت نامے کو منسوخ کردیا۔

امریکی حکام نے پی آئی اے حکام کو اجازت نامے کی منسوخی سے متعلق یکم جولائی کو ای میل بھی کی تھی۔ مزیدپڑھیں: ملائیشیا نے سی اے اے سے لائسنس کی تصدیق کے منتظر پاکستانی پائلٹس کو معطل کردیا

ترجمان پی آئی اے نے اجازت نامے کی منسوخی سے متعلق تصدیق کی اور بتایا کہ اجازت نامے کے تحت پی آئی اے کی 6 پروازیں آپریٹ ہوچکی تھیں۔

عبداللہ خان نے بتایا کہ پی آئی اے کو حاصل خصوصی اجازت کے تحت امریکا کے لیے 12 پروازوں کی منظوری دی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ پروازوں کا اجازت نامہ پائلٹس کے مشتبہ لائسنسز پر اور سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی کارروائی کے باعث منسوخ کیا گیا۔

علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ اجازت نامہ منسوخ کئے جانے کی ای میل موصل ہو چکی ہے تاہم امریکی اعتراضات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پائلٹس کے مشتبہ اسناد کے معاملے پر ملائیشیا نے بھی پاکستانی لائسنس رکھنے والے اور مقامی ایئر لائنز میں ملازمت کرنے والے پائلٹس کو عارضی طورپر معطل کردیا تھا۔

خیال رہے کہ پارلیمنٹ میں وفاقی وزیر ایوی ایشن غلام سرور خان نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے 262 پائلٹس نے ’مشکوک‘ لائسنس حاصل کر رکھے ہیں جس کے بعد مختلف ممالک کے ایوی ایشن حکام نے وہاں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور انجینیئرز کی ڈگری کی تصدیق طلب کی ہے

بعدازا وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے بتایا تھا کہ جعلی لائسنس والے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے 28 پائلٹس کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں اتحاد ایئرویز نے کہا تھا کہ وہ متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (جی سی اے اے) کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ ایئر لائن میں ملازمت کرنے والے پاکستانی پائلٹس کی اہلیت اور لائسنس کی تصدیق کی جا سکے۔

مزید برآں سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے ‘مشکوک’ لائسنسز سے متعلق انکوائریاں مکمل ہونے کے بعد قومی ایئرلائن (پی آئی اے) کے 34 پائلٹس کے کمرشل فلائنگ لائسنسز معطل کردیے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں