جعلی جمہوری چیمپئن 88

پاکستانیوں کا میزبان کراچی

قیام پاکستان کے بعد سے لے کر آج تک کراچی میں رہنے والے جنہیں مہاجر، مکڑ، مٹروے، پناہ گیر، بھوکے ننگے لوگ اور نہ جانے کیا کیا کہا جاتا رہا۔ متحدہ پاکستان میں مشرقی پاکستان کے لوگ جو پاکستان میں ملازمت کرتے تھے انہیں ان کے نام سے نہیں بلکہ بنگالی کہہ کر پکارا گیا جس کا نتیجہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے وجود کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ نہایت دکھ اور افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے انہیں نفرتوں کا نشانہ بھی بنایا ان کے ساتھ زیادتیاں بھی کیں اور آخر میں انہیں غدار کا خطاب دے کر الگ کردیا یعنی اقلیت نے اکثریت کے خلاف ایسا فیصلہ صادر فرما دیا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور یہ سب کلمہ گو مسلمانوں نے اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کے ساتھ کیا مگر ہم باز نہیں آئے اور متعصبانہ سوچ کو ختم کرنے کے بجائے مزید دودھ پلاتے رہے اور یوں پاکستان بنانے والوں کی اولادیں نشانے پر آگئیں۔ کوٹہ سسٹم کی تلوار برسوں مہاجروں کی نئی نسل کے حقوق کا قتل عام کرتی رہی اور پورا پاکستان خاموش تماشائی بنا دیکھتا رہا۔ ہمارے سندھی بھائیوں سے بھی جو خود کو لبرل کہتے ہیں۔ خاموشی اختیار کئے رکھی اور یوں کوٹہ سسٹم کا فائدہ اندرون سندھ کے لوگوں نے اٹھایا جب کہ سندھ اربن کے نوجوان آہستہ آہستہ سرکاری ملازمتوں سے باہر کر دیئے گئے۔ اردو بولنے والوں کی پیٹھ پر آخری تازیانہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے لگایا کہ ایک پڑھی لکھی اور تعلیم یافتہ قوم کے نوجوانوں کو حقوق کے نام پر کتابیں لے کر بندوق تھما دی اور یوں کراچی میں بارود کی بدبو پھیل گئی اور ہر شخص خوفزدہ ہو گیا پھر کراچی میں بھتہ خوری، غنڈہ گردی کا راج ہو گیا اور ہماری اسٹیبلشمنٹ نے متحدہ قومی موومنٹ کے ذریعہ مہاجر قوم کا وہ استحصال کیا جس کی مثال نہیں ملتی اور پھر وہی ہوا کہ چلے ہوئے کارتوس پھینک دیئے گئے اور مہاجر قوم پر دیگر قوموں کو مسلط کردیا گیا۔ متحدہ کا تحفہ یہ ملا کہ بابر غوری جیسے قلاش لوگ ارب پتی بن گئے اور اپنے لیڈر کی طرح اپنے بہن بھائیوں کو مرتا چھوڑ کر ملک سے سدھار گئے اور امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں سکون کی زندگی گزار رہے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے ہزاروں ایسے رہنما اور کارکنان جنہیں کراچی والوں نے عزت دی، ووٹ دیا، اپنے کندھوں پر بٹھایا، آج اپنے ہی بچوں کے جنازے اپنے کندھوں پر اٹھائے آسمان تلے بے یارومددگار کھڑے ہیں۔ آج کی حکومتیں اور اسٹیبلشمنٹ نے جو کچھ گزشتہ دنوں میں اور حالیہ بارسوں میں کراچی کے ساتھ کیا ہے، ظلم کی وہ داستان ہے کہ جو بیان سے باہر ہے اور آنے والا وقت کراچی کے اردو بولنے والوں کے لئے یا تو ان کا قبرستان بنے گا یا پھر انہیں ملک چھوڑ کر بھاگنا ہو گا کیونکہ اس کے علاوہ ان کے لئے کوئی راستہ نہیں۔ نوکریوں کے دروازے بند، اسکول، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لوٹ مار، بھتہ خوری اور غنڈہ گردی، یہ ہے آج کا کراچی جو سب کا کراچی ہے مگر کراچی کے مقامی کے لئے ایک اجنبی شہر۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کراچی کے رہنے والے کسی اور سیارہ کی مخلوق ہیں جو احساس سے عاری ہیں۔ جن پر ظلم کرنا وہاں کے Son Of Soil کا حق ہے۔ ایک اہم رہنما نے کہا تھا کہ مہاجروں کے لئے سمندر ہے، پھر کسی اور نے انہیں بھکاری کہا تھا۔ یوں کراچی کے لوگ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو قائم کرنے کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ اب کہا جارہا ہے کہ کراچی وفاق کا حصہ ہے اور اسے سندھ سے الگ کردیا جائے۔ ایک وقت تھا کہ کراچی ملک گیر تحریکوں کا مرکز ہوا کرتا تھا اور وفاق کے لئے کراچی کو سنبھالنا مشکل ہوتا تھا مگر آج کا کراچی بے بس اور لاچار ہے۔ حال ہی میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کی 400 سے زائد اسامیوں میں کراچی کے اردو بولنے والوں کے لئے ایک ملازمت بھی نہیں۔ ہمارے محترم وزیر اعظم جو ریاست مدینہ کے قیام کے لئے تو کوشاں ہیں جنہیں پاکستان کی عدالتوں نے صادق اور امین کا خطاب دیا ہے۔ نہ جانے کیسے اپنے نبی کو اپنا منہ دکھائی گے کہ انہوں نے ریاست مدینہ کا اعلان کرکے اپنے لئے مشکلات پیدا کر لی ہیں کیونکہ ریاست مدینہ میں مہاجروں اور انصار بھائی بھائی تھے۔ نہ صرف مہاجر و انصار بلکہ مدینہ میں بسنے والے غیر مسلم بھی امان میں تھے اور ہمارے نبی محتشم اور سرکار کائنات اور ان کے رفقائے کار مدینہ میں کسی کتے کے بھوکا مرنے سے بھی خوفزدہ رہتے تھے۔ ہمارے وزیر اعظم جنہیں کراچی نے کامیابی سے ہمکنار کیا، کیوں بھول گئے کراچی کو اور کراچی میں رہنے والوں کو کہ وہ بھی انسان ہیں اور جس شہر میں وہ رہے ہیں وہ آج بھی پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ وہ ایک ایسا شہر ہے کہ جو پورے پاکستان کا میزبان ہے مگر وہ ایسے مہمانوں کو اپنے دامن میں چھپائے ہوئے ہیں جو اپنی آستینوں میں خنجر لئے بیٹھے ہیں اور ہر آنے والا دن کراچی کی آہوں اور سسکیوں میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے۔
٭تاریخ: 9 اگست 2020ئ
٭ اسامیاں: 394
٭ ادارہ: کراچ پورٹ ٹرسٹ
٭ وزیر: علی زیدی
٭ سیاسی تعلق: پی ٹی آئی
٭ پنجاب کوٹہ: 65 فیصد
٭ اندرونِ سندھ: 25 فیصد
٭ بلوچستان: 5 فیصد
٭ فاٹا + پاٹا + اسلام آباد: 5 فیصد
٭شہری سندھ: صفر فیصد
٭ کراچی: صفر فیصد
٭…. ویلکم ٹو نیا پاکستان….٭
٭ کراچی سے وزیرِ اعظم
٭ کراچی سے صدرِ مملکت
٭ کراچی سے گورنر سندھ
٭کراچی سے چار وفاقی وزرائ
٭کراچی سے چودہ ارکینِ قومی اسمبلی
٭ کراچی سے بائیس اراکینِ اسمبلی
٭ اور کراچی کی نوکریاں ۔ صفر
غیر مقامیوں کو ووٹ دینے کا نتیجہ مبارک ہو
یہی وہ بے غیرتیاں ہیں، جس کی وجہ سے اہالیان کراچی مہاجر صوبہ کا مطالبہ کرتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں