تحریک انصاف حکومت تنقید کی زد میں 111

”پاکستانی جمہوریت“

1947ءمیں پاکستان کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی قائد اعظم محمد علی جناح اس مملکت خداداد کے گورنر جنرل ٹھہرے۔
23 مارچ 1956 کو مملکت پاکستان کا نیا دستور منظور کیا گیا جس میں گورنر جنرل کے عہدے کو ختم کرکے صدر کا عہدہ قائم کیا گیا اور اسکندر مرزا نے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا پھر 1958ءتک یعنی تین سال کی مدت میں پانچ وزرائے اعظم کو ان کی میعاد پوری ہونے سے پہلے فارغ کردیا گیا اور اسمبلی تحلیل کردی گئی۔ اس کے بعد مارشل لاءاور ایوب خاں کا دور شروع ہوا اور بنیادی جمہوریت کا نعرہ لگا کر صدارتی انتخاب عمل میں لایا گیا۔ 1973ءکے آئین کے تحت پارلیمانی نظام پر اتفاق ہوا پھر ضیاءالحق کے بعد باقاعدہ پارلیمانی جمہوریت کا آغاز ہوا اور پاکستان جمہوریت کی راہ پر گامزن ہو گیا۔

جمہوریت ایک ایسا نظام جس کا تعارف عوام کی حکومت عوام کے لئے کے طور پر کیا جاتا ہے، پاکستان میں جمہوریت کس طرح نافذ ہوئی یہ ایک الگ داستان ہے کہ کن شرائط و ضوابط سے جمہوریت کو دوچار ہونا پڑا۔ جمہوریت کی صورت کس طرح مسخ گئی، پاکستان کی سیاست میں جمہوریت کے نام پر کیا کچھ جھیلا گیا اور برداشت کیا گیا۔ جمہوریت کے ساتھ خود سیاسی جماعتوں نے کیا کیا ہاتھ کھیلے اور کس طرح اس کو ایک مہرہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ایک ایسے ملک میں جہاں شرح خواندگی صرف 20 سے 25 فیصد ہو، جمہوریت وہاں کس صورت حال سے گزری۔
2018ءمیں قائم ہونے والی جمہوری حکومت بھی اس وقت ایک نامساعد دائرے میں گھری ہوئی ہے۔ حال میں ہونے والے سینٹ کے انتخابات نے تنازعات کے نئے در وا کردیئے ہیں۔ شکوک و شبہات کے نئے سلسلے اور بے یقینی کے ماحول نے اس وقت سیاست کے پورے ماحول کو ایک انتہائی بدصورت اور ہولناک منظر میں تبدیل کی اہے۔ ہم جمہوریت کو بچانے کے نام پر ایسے ایسے کارنامے انجام دے چکے ہیں جن کی نظیر نہیں ملتی۔ بددیانتی اور بد اخلاقی پاکستانی جمہوریت کا خاصہ قرار پاتی ہے اور جمہوریت کو ووٹ دینے والے 22 کروڑ عوام صرف حیران و پریشان ہیں کہ ان کی بھلائی کا دعویٰ کرنے والے اور ان کے ہی ووٹوں سے ان اعلیٰ ایوانوں تک پہنچنے والے کس طرح ان کے مفاد کو نظرانداز کرکے صرف اور صرف اپنے مفادات کو بچانے کے لئے سرگرداں رہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں ان تمام وعدوں کو یکسر بھلا چکی ہیں جن کے مرہون منت وہ تمام مراعات ہوئی ہیں جن کا فائدہ سیاسی نمائندے اٹھاتے ہیں۔ حلف بردار لگتا ہے کہ محض ایک رقم ہو کر رہ گئی ہے۔ ووٹ خریدنے اور بیچنے سے لے کر ایک دوسرے پر زبانی کلامی الزامات کا معیار حکومتی اور حزب اختلاف دونوں کی جانب سے اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔
پاکستان کی سیاست اپنا مستقبل جہوری اقدار کے ساتھ کس طرح محفوظ رکھ سکے گی یہ ایک انتہائی گمبھیر سوال ہے۔ ہر ناجائز اور غلط کام صرف اسی مفروضے کے تحت درست قرار دیا جاتا رہا ہے کہ جمہوریت کے خطرہ میں پڑ جانے کا خدشہ ہے اور پھر کونسی جمہوریت؟ جس میں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ہر حربے آزمانے پر یقین رکھتی ہیں۔ ایسی جمہوریت؟ جس میں جماعتیں خود جمہوری نظام پر عمل کرنے کے بجائے موروثیت پر یقین رکھتی ہیں۔ ایسی جمہوریت جس کا انحصار بددیانتی اور دروغ گوئی اور ایک دوسرے کے خلاف سازشوں پر ہے۔ جمہوریت اقدار کا تقاضا ہے کہ معاشرہ میں ایک دوسرے کی حیثیت کو تسلیم کیا جائے۔ دوسرے کی رائے کا احترام کیا جائے اور مسائل کو باہم گفت و شنید کے ساتھ حل کیا جائے۔ دنیا کے وہ تمام ممالک جو جمہوری طرز حکومت پر انحصار کرتے ہیں وہاں حکومت اور حزب اختلاف پر لازم ہے کہ ایک دوسرے کو رعایت دینے کا عمل اختیار کریں اور پارلیمانی طریقے اپناتے ہوئے اختلاف رائے کا اظہار کریں۔ حزب اختلاف یا اپوزیشن جمہوریت حکومت میں اہم ترین مقام رکھتی ہے۔ ایک بہت رسے بہتر حکومت بھی ہمیشہ تنقید برائے اصلاح کی گنجائش رکھتی ہے۔ حزب اختلاف کی موجودگی کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ حکومت کو اس کی کمزوریوں سے آگاہ کرے اور ملک اور اس کے عوام کی بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو تجاویز پیش کرے اور ایسی قانون سازی میں معاونت کرے جس سے آگے چل کر حکومت کے ساتھ ساتھ اسے بھی فائدے پہنچے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی ابتداءسے لے کر تاحال یعنی پچھلے 73 سالوں میں صرف 2 منتخب حکومتیں اپنی میعاد پوری کر پائیں۔ حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ قائم حکومتیں بھی رواداری، تحمل اور انصاف پسندی پر نہ قائم رہتے ہوئے غیر ضروری مسائل میں الجھ کر شفافیت سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔
اس وقت پاکستان میں ایک بحرانی کیفیت کا سماں ہے۔ سینٹ میں الیکشن ہارنے کے بعد وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ حاصل کر چکے ہیں۔ سینٹ کا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین حکومتی حلقوں کی جانب سے نامزد کئے ہوئے امیدوار منتخب ہو چکے ہیں۔ عمران خان اور ان کی حکومت جس خدشہ کا اظہار کرتے ہوئے اوپن بیلٹ کا تقاضا کررہی تھی اس کا برملا اظہار دونوں انتخابات میں دیکھنے میں آیا۔ حق رائے دہی سینٹ اور پارلیمانی ارکان کے پاس ان لوگوں کی امانت ہوتا ہے جو محنت کرکے انہیں ان ایوانوں میں جگہ دلواتے ہیں اس کی خرید و فروخت انتہا درجے کی بددیانتی میں شمار ہوتی ہے چاہے وہ کسی سمت سے بھی عمل میں لائی گئی ہو۔ بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ فی الوقت حزب اختلاف اپنی حقیقی ذمہ داریوں کو چھوڑ کر صرف حکومت گرانے کے عمل میں دلچسپی رکھتی ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف دونوں کی جانب سے جمہوریت کے بل بوتے پر غیر ذمہ داری کا بھرپور مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ حکومت بلاشبہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں قاصر رہی ہے۔ عوام نے تحریک انصاف کی حکومت کو اپنے لئے پرانے نظام سے نجات دہندہ کا علمبردار ہونے کا درجہ دیا تھا۔ عوام کو اس حکومت سے انتہائی درجہ کی توقعات تھیں۔ حکومت عوام کے بنیادی مسائل ہی حل کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ لانگ ٹرم گولز پر حکومت کی توجہ صحیح مگر اس سے عام آدمی کی مشکلات کم نہیں ہو رہی ہیں۔ اس کے لئے ایک منظم حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لئے زمینی حقائق پر بھی نظر رکھنی پڑتی ہے۔ لنگر خانے لگانا ایک احسن قدم ہے مگر اس سے بھی بہتر ہے کہ لوگوں کو فنی تربیت فراہم کی جائے جس سے وہ خود اپنا روزگار کمانے کے قابل ہو سکیں۔ خود پر انحصار کرسکیں۔ عمران خان ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں اس کے لئے شفافیت پہلی شرط ہے، ہر معاملے میں احتساب کے دائرے میں سب یکساں ہونے چاہئیں۔
اس وقت گیارہ جماعتیں متحد ہو کر پاکستان جمہوری موومنٹ قائم کرکے جمہوریت بچانے کے لئے سرگرم عمل نظر آرہی ہیں اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک انتہائی مستحسن قدم ہے۔ جمہوریت کی حفاظت ہر پاکستانی شہری کی ذمہ داری ہے۔ اس اتحاد سے قبل یہ دو بڑی جماعتیں ایک دوسرے کی شدید حریف رہی ہیں مگر یہ بھی واقعہ ہے کہ 2008ءسے قبل جنرل مشرف کے دور اقتدار میں ان میں باہمی روابط قائم ہوئے اور مشرف کے خلاف متحد ہو کر میثاق جمہوریت قائم کیا گیا مگر جلد ہی دونوں جماعتوں نے اس میثاق سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے ایک دوسرے سے سابقہ رویہ اختیار کیا اور پاکستانی جمہوریت ایک دفعہ بے کنار ہو گئی اس وقت پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں متحد ہونے کے باوجود ایک دفعہ پھر ایک دوسرے کے خلاف بے اعتباری کا رویہ اختیار رکھتی نظر آرہی ہیں۔ استعفوں کی سیاست سے لے کر لانگ مارچ اور پھر سینٹ کے الیکشن میں ایک دوسرے پر عدم اعتماد اور اندرونی طور پر ایک دوسرے کو زک پہنچانے کے تذکرے عام ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم کا کوئی مربوط لائحہ عمل طے نہیں ہو پا رہا بلکہ پی ڈی ایم کے حالیہ اجلاس کے جو مناظر دیکھنے میں آئے ہیں اس کی رو سے یہ اتحاد تقریباً اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔ پی پی پی نے ابتداءہی میں استعفوں کی مخالفت کی تھی اور ابھی بھی اسی پر قائم ہے۔ لانگ مارچ جو 26 مارچ کو ہونے والا تھا نامعلوم مدت کے لئے ملتوی ہوچکا ہے۔ اجلاس کے دوران جماعتیں الزام تراشی میں مصروف رہیں، سینٹ الیکشن کے معاملات کے سلسلے میں۔ حکومت وقتی طور پر فی الحال مستحکم نظر آتی ہے، پارلیمان اور سینٹ میں اکثریت کے ساتھ۔ اس وقت حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جمہوری اطوار کو اپناتے ہوئے حزب مخالف کو قانون سازی میں شامل کرنے کے لئے رابطے استوار کرے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے ابتداءمیں واضح طور پر یہ عندیہ دیا کہ وہ حکومت کو اپنی مدت مکمل کرنے کی خواہش رکھتی ہے اور ساتھ ہی جمہوری اور آئینی پاسداری رکھتے ہوئے حکومت کی مخالفت بھی کرے گی۔ ن لیگ اور مولانا فضل الرحمن جارحانہ حکمت عملی کرنے کے اختیار کے حامی ہیں، ویسے بھی دونوں کے پاس گنوانے کے لئے کچھ زیادہ ہے بھی نہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اپوزیشن کے سارے بیانیوں جس میں سلیکٹرز، سلیکٹڈ، نا اہل حکومت، اداروں پر تنقید کے علاوہ 22 کروڑ عوام کی مشکلات کا کوئی تذکرہ نظر نہیں آتا۔ سیاسی جماعتیں لگتا ہے کہ جمہوریت کو بچانے میں اس قدر منہمک ہیں کہ ان غیر ضروری پر وقت اور توانائی صرف کرنے سے اجتناب برت رہی ہیں۔ جمہوریت بچانا فرض اوّل ہے، چاہے اس کے لئے کسی قسم کی بھی اخلاقی قربانی دینی پڑ جائے۔ جمہوریت میں بندوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں کرتے، موجودہ صورت حال اس مقولہ پر یقیناً سوچ و فکر کی دعوت دیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں