بال جسٹس فائز عیسیٰ کے کورٹ میں 125

پاکستان انٹرنیشنل گریٹ گیم کی زد میں

ہم جو کچھ پاکستان میں ہوتا دیکھ رہے ہیں یہ سب ایک روز ہونا ہی تھا۔ اسی روز کے لئے سپرپاورز قرضہ دے دے کر پاکستان کو پال رہی تھیں۔ ہمارے کرپٹ سیاستدان، فوجی جنرلز، ججز، بیورو کریسی اور میڈیا تمام کا تمام امریکی ڈالر کا متوالا ہے اور یہی وجہ ہے کہ چند افراد کے گروہ نے پورے ملک کو یرغمال بنا لیا ہے۔ عمران خان کی صورت میں عوام ایک مسیحا کو دیکھ رہے ہیں، یہ تو وقت بتائے گا کہ عمران خان اگر الیکشن کے نتیجہ میں بھاری اکثریت سے حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے تو بھی ملک کو اس گرداب سے کیونکر نکال سکیں گے جس میں آج پاکستانی پھنس چکی ہے۔
چین کی جانب سے دی جانے والی امداد سے چند ہفتہ اور گزر تو گئے مگر امریکہ جانتا ہے کہ چین کب تک پاکستان کی مدد کر سکے گا۔ یوں انٹرنیشنل گیم کی زد میں پاکستان بری طرح آچکا ہے۔ امریکہ کبھی چین، روس اور پاکستان کا بلاک نہیں بننے دے گا کیونکہ ایسا ہوا تو امریکہ کی اس خطہ میں موت ہوگی۔ امریکہ کسی بھی صورت میں پاکستان کو اب فری ہینڈ نہیں دے گا بلکہ اس قدر معاشی پابندیاں لگائے گا کہ پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہو گا کہ وہ امریکہ کے مفادات کے لئے چین اور روس کے خلاف سازش میں شریک ہو۔ ہمارے موجودہ آرمی چیف امریکہ سے بہت سے وعدے کرچکے ہیں۔ موجودہ حکومت بھی اس وعدے پر کہ انہیں عمران خان سے چھٹکارا دلایا جائے تو وہ امریکہ کی ہر بات پر آمنا و صدقنا کہیں گے کیونکہ یہ سبھی جانتے ہیں کہ اس بار اگر عمران خان کو حکومت مل گئی تو بہت سے فوجی جنرل، بیورو کریٹ، ججز اور کرپٹ سیاستدان کو احتساب سے کوئی نہیں بچا سکے گا اور یہی موت کا پھندا اپنے گلے سے نکال کر وہ عمران خان کے گلے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام کس قدر عمران خان کا ساتھ دیتی ہے؟ پاکستان کو معاشی مشکل سے نکالنے کا فارمولا تو عمران خان کے پاس بھی نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ عمران خان کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور کچھ مسلم ممالک کا اعتماد حاصل ہے جس کی مدد سے عمران خان کسی حد تک ملک کو منجدھار سے نکال سکتے ہیں مگر پھر سوال آتا ہے سپر پاور کا کہ ان کے مقاصد کون پورے کرے گا۔ اگر عمران خان بھی لابنگ کے ذریعہ سپرپاور کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو گیا تو پھر بازی پلٹ سکتی ہے اور اس جنگ میں جیت عمران خان کی ہو سکتی ہے مگر یہ سب تو سپرپاورز کا گیم پلان ہے۔
ہمارا ایمان ہے کہ انسان کی اپنی حکمت عملی ہوتی ہے اور اللہ رب العزت کی اپنی پلاننگ اور ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہو گا۔ اللہ کی منشا اور مرضی جو بھی ہو گی وہی پاکستان کے معاملہ میں ہوگا یا تو مظلوموں کی فریاد سن لی گئی تو تمام کرپٹ سیاستدان، ججز، جنرلز اور صحافی زیر عتاب ہوں گے اور اگر ابھی پاکستانی عوام کے گناہوں کی سزا باقی ہے تو پھر عوام آنے والے بدترین پاکستان میں بہت کچھ دیکھنے کے لئے تیار رہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں